بلاول کو دور سے دیکھوں پرویز بلاول لگتا ہے قریب سے دیکھوں تو پروین لگتی ہے،شیخ رشید

کیا فرق پڑھتا ہے، صاحب کو صاحبہ کہہ دیا،کوئی فنی خرابی نہیں تو سیریس لینے کی ضرورت نہیں Iشہباز شریف لندن میں بھونڈی کررہے ہیں 5عمران خان عثمان بزدار کے ساتھ کھڑے ہیں،میں خود کو وزارت اطلاعات کے قابل نہیں سمجھتا،چوہدری نثار حلف نہیں اٹھا رہے ،چور ڈاکو ایوان کا ماحول خراب کررہے ہیں مانتا ہو ں ملک میں مہنگائی ، گیس، بجلی، پانی کے ریٹ بڑھے ہیں،زرداری اور نواز شریف نے ملک کو لوٹا،ان کے بعد ملک کو سنھبالنا بہت مشکل تھا ، اسد عمراس ملک کے لئے قیمتی سرمایہ ہیں، وزیر اعظم سے دوران سفر جہاز میں ان کے متعلق بھی بات کروں گا، پریس کانفرنس سے خطاب

جمعرات اپریل 22:53

بلاول کو دور سے دیکھوں پرویز بلاول لگتا ہے قریب سے دیکھوں تو پروین لگتی ..
اسلا م آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 25 اپریل2019ء) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کہ سال 2007 میں جس ایم ایل ون کا افتتاح کیا تھا آج وزیراعظم کے ساتھ اس منصوبے پر دستخط کرنے چین جارہا ہوں،ایم این ون کراچی سے پشاورتک 18 سو کلو میٹر ٹریک ہے۔اس منصوبے سی20 ہزار ٹیکنیکل اور 1 لاکھ پچاس ہزارسے زائد عام لوگوں کو روزگار ملے گا۔

کوشش ہے ایم ایل ٹو پر بھی دستخط ہو جائیں، 12 نومبر کو گرو بابا نانک کے نام پر ریلوے اسٹیشن بنا رہے ہیں۔آج سکھ برادری بھی وزیر اعظم اور آرمی چیف کے کردار کی تعریف کررہی ہے۔ماں بچے کا ہسپتال 14 سال سے بند پڑا تھا اس کا بھی افتتاح کررہے ہیں۔لوگوں نے صرف انجن خریدے ہیں جیبیں بھرنے کیلئے جبکہ ہم نے کارگردگی دکھائی ہے۔

(جاری ہے)

10 ہزار لوگوں کے میرٹ پر انٹرویو شروع کر رہے ہیں۔

ایم ایل ون اور نالہ لئی پر کام شروع ہوگیا تو سمجھوں گا کہ میری زندگی کا مقصد پورا ہوگیا۔ کوہالہ پاور اور ایم ایل ون سب سے بہترین منصوبے ہونگے۔ایک سال میں 40 ٹرینوں کا منصوبہ تھا، جو پورا کرنے جارہے ہیں۔ ہم نے سڑکوں پر اربوں روپے لگا دیا، ریلوے پر ایک پیسہ نہیں لگا۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ اسد عمراس ملک کے لئے قیمتی سرمایہ ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان سے دوران سفر جہاز میں اسد عمر کے حوالے سے بھی بات کروں گا۔میں مانتا ہوں کہ ملک میں مہنگائی بڑھی ہے کوئی شک نہیں۔ گیس، بجلی، پانی کے ریٹ بڑھے ہیں۔زرداری اور نواز شریف نے ملک کو لوٹاہے۔ان کے بعد ملک کو سنھبالنا بہت مشکل تھا۔ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بلاول کو دور سے دیکھوں پرویز بلاول لگتا ہے قریب سے دیکھوں تو پروین لگتی ہے۔

شہباز شریف لندن میں بھونڈی کررہے ہیں، ادھر ان کی کمر میں درد ہوتا ہے۔ کیا فرق پڑھتا ہے، صاحب کو صاحبہ کہہ دیا۔اگر کوئی فنی خرابی نہیں تو سیریس لینے کی ضرورت نہیں۔یہ ہلکی پھلکی موسیقی ہے، چلتا رہنا چاہیے۔ شیخ رشید نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ عمران خان عثمان بزدار کے ساتھ کھڑے ہیں،میں خود کو وزارت اطلاعات کے قابل نہیں سمجھتا۔

فردوس عاشق اعوان بہتر انداز سے چلا سکتی ہیں، میں عمران خان کیلئے وقتا فوقتا جواب دیتا رہتا ہوں۔چوہدری نثار حلف نہیں اٹھا رہے،نہ عمران خان چوہدری نثار سے خوش ہے اور نہ چوہدری نثار شہباز شریف کے کلے پر سیاست نہیں چل سکتی۔یہ باہر جاتے ہیں تو عیاشی کرتے ہیں۔بلاول بلا وجہ ناراض ہو جاتے ہیں۔جو جیل سے ڈر جائے وہ لیڈر نہیں گیڈر ہے۔یہ صاحب اور صاحبہ کی لڑائی گالم گلوچ تک نہ پہنچ جائے۔قومی اسمبلی میں جوڈو کراٹے کا ماحول ہے۔یہ ایوان کا ماحول وزیر اعظم کے آنے کے قابل ہی چور ڈاکو ایوان کا ماحول خراب کررہے ہیں۔