نیب کرپٹ لوگ پکڑ رہی ہے اس خوف سے پیپلزپارٹی نے ہمیں تو پبلک اکانٹ کمیٹی نہیں دی ،حلیم عادل شیخ

حلقہ پی ایس 99 میں کوئی سہولت سندھ حکومت کی طرف سے نہیں دی گئی ہے، بجٹ میں روڈ، سیوریج سسٹم، اسپتال، اسکول کی اسکیمیں دی جائیں، پارلیمانی لیڈر تحریک انصاف سندھ

جمعرات اپریل 22:58

نیب کرپٹ لوگ پکڑ رہی ہے اس خوف سے پیپلزپارٹی نے ہمیں تو پبلک اکانٹ کمیٹی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 25 اپریل2019ء) پاکستان تحریک انصاف سندھ کے قائم مقام صدر و سندھ اسمبلی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا نیب کرپٹ لوگ پکڑ رہی ہے اس خوف سے پیپلزپارٹی نے ہمیں تو پبلک اکانٹ کمیٹی نہیں دی کہیں ہم ان کا پول نہ کھول دیں،ہمیں امید تھی کہ اسمبلی میں مسائل کے حل کے لئے آواز اٹھائیں مگر یہاں کوئی سننے والا نہیں ہے جن علاقوں سے پیپلزپارٹی کے ووٹر نہیں ہے وہاں کے مسائل کے حل کی ذمہ داری بھی سندھ حکومت کی ہے لیکن یہ لوگ سزا عوام کو دیتے ہیں۔

حلقہ پی ایس 99 میں کوئی سہولت سندھ حکومت کی طرف سے نہیں دی گئی ہے بجٹ میں روڈ، سیوریج سسٹم، اسپتال، اسکول کی اسکیمیں دی جائیں۔ گزشتہ دس سالوں میں پانچ ہزار ارب آئے جہاں آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق 957 ارب روپے کی بے قاعدگیاں ہوئی ہیں، پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کی 9سالہ کاکردگی، صوبائی ترقیاتی بجٹ کے 391 ارب خرچ کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔

(جاری ہے)

سندھ اسمبلی میں شرمناک انداز اپنایا گیا ایک خاتوں نے ہمارے رکن کو ہینڈ فری دے مارا ہمارے رکن سعدی آفریدی کی زبان پسل گئی جو پیپلزپارٹی والوں کی بھی ہوتی رہتی ہے مگر پیپلزپارٹی کے ارکان نے اسمبلی میں آکر تشدد کرنے کی کوشش کی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پہلے دن کی میٹنگ میں طے ہوا تھا کہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے 12 اراکین ہونگے دو دو میمبر اپوزیشن جماعتوں کے ہونگے چئیرمین اسپیکر ہوں گے لیکن انہوں نے اپنے طور پر ایک ایک ممبر ہم سے لیا باقی اپنے لوگوں کو بنا دیا جس کو ہم ابھی تک قبول نہیں کیا ہے ہم ہائوس کو خراب کرنا نہیں چاہتے پیپلزپارٹی کے اراکین نے سندھ اسمبلی کا ماحول خراب کیا ہے پیپلزپارٹی کے اراکین منسٹریاں لینے کے لئے حملے کر رہے ہیں۔

گیارہ سالوں میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے سندھ کو تباہ کر دیا گیا سال 2017?2018 کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق سندھ کے وزرا سال2016 اور 2017 میں 272 ارب کی کرپشن کی گزشتہ سال 2018 میں 192 ارب روپے کھا گئے، زکوات عشر اور معذور افراد کی امداد یتمیوں کے پئسے بھی نہیں چھوڑے سندھ حکومت نے کرپشن اور بے قاعدگیوں میں پھچلے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں گذشتہ 9 سال میں پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں ترقیاتی بجٹ میں رکھے گئے مجموعی طور پر1154 ارب روپئے ترقیاتی اسکیموں کے لئے رکھے گئے تھے جن میں سے 391 ارب روپئے خرچ نہیں کیے گئے۔

خرچ ہونے والے 763 ارب روپئے کہاں خرچ ہوئے وہ نظر نہیں آتا کیوں کہ اس دورانیہ میں جاری اسکیمیں بھی مکمل نہیں ہو سکیں، سندھ کی عوام کو تعلیم، صحت، پینے کے پانی سے محروم رکھا گیا ہے کراچی سے لاڑکانہ تک اسکول ویران پڑے ہیں اسپتالوں میں دوائیاں نہیں ہیں، بیماریاں بڑھ رہی ہیں حکومت کنٹرول کرنے میں ناکام گئی ہے عوام کو گٹروں کا پانی پلایا جارہا ہے۔

منچھر کو تباہ کرنے کے بعد اب کینجھر کو تباہ کیا جارہا ہے کینجھر میں جانوروں کے الائشیں پڑی ہیں۔ کوٹڑی ٹریٹمنٹ پلانٹ ایک ارب روپیا لگنے کے باوجود نہیں بنا سارا گندا پانی کینجھر میں ڈالا جارہا عوام میں موٹ بانٹی جارہی ہے۔ عصمت، نشوا نا جانے کتنی بچیاں اسپتالوں علاج کے لئے جاتی ہیں موت لیکر آتی ہیں محکمہ صحت کی کارکردگی سفر ہے۔ #