ٹیکسٹائل پاکستان کی معیشت کا اہم ترین شعبہ ہے ، حکومت ملک کی صنعت و تجارت کو درپیش مسائل سے آگاہ ہے اور کاروباری برادری کو یکساں مواقع کی فراہمی کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی اپٹما کے وفد سے گفتگو

جمعرات اپریل 23:26

ٹیکسٹائل پاکستان کی معیشت کا اہم ترین شعبہ ہے ، حکومت ملک کی صنعت و ..
اسلام آباد/فیصل آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 اپریل2019ء) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل پاکستان کی معیشت کا اہم ترین شعبہ ہے جس کا پاکستان کی مجموعی برآمدات میں 60 فیصد اور صنعتی روزگار کی فراہمی میں 40 فیصد حصہ ہے۔ انہوں نے نجی شعبہ بالخصوص آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے ملک کی ترقی میں کردار کو سراہا۔

وہ اپٹما کے وفد سے گفتگو کر رہے تھے جس نے جمعرات کو فیصل آباد میں ان سے ملاقات کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ حکومت ملک کی صنعت و تجارت کو درپیش مسائل سے آگاہ ہے اور کاروباری برادری کو یکساں مواقع کی فراہمی کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے سخت معاشی حالات مشکل فیصلوں کے متقاضی ہیں لیکن حکومت ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کا عزم کئے ہوئے ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت غیر ضروری اور پرتعیش اشیاء کی درآمد روک کر اور کاروبار کی لاگت کم کرنے کے ذریعے بجٹ خسارہ میں کمی کے لئے کوشاں ہے۔ حکومت نے ٹیکسٹائل، چمڑا، قالین، جراحی کے آلات اور کھیلوں کے سامان جیسے زیرو ریٹڈ برآمد کنندہ شعبوں کے لئے گیس، آر ایل این جی اور بجلی کی قیمت کو منطقی بنایا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ حکومت آئندہ پانچ سالوں کے لئے سٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک (ایس ٹی پی ایف) تشکیل دے رہی ہے جس میں مصنوعات کی لاگت کم کرنے پر توجہ اور برآمد کنندہ شعبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کے شعبہ کی صلاحیت مکمل طور پر فائدہ اٹھانے کے لئے حکومت 2019-24ء کے لئے ٹیکسٹائل پالیسی کا مسودہ تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کیلئے بات چیت کر رہا ہے جس میں سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سی پیک کے تحت وسیع اشتراک کار کا حصہ ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ کاروباری طبقہ اپنے تمام ٹیکسز ادا کر کے اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ بجٹ خسارہ میں کمی کی جا سکے اور ملک کے ترقیاتی کاموں کے لئے مزید فنڈز مختص کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سرکاری اور نجی شعبوں کی اجتماعی دانش سے پاکستان کی خوشحالی کا راستہ نکلے گا۔