بلاول بھٹو کا سلیکٹڈ وزیراعظم اورسلیکٹ کرنےوالوں سے سوال

سلیکٹڈ وزیراعظم سے پوچھتا ہوں کہ کیا ایمپائر کی انگلی پسند آئی اور سلیکٹ کرنےوالوں سے بھی سوال کرتا ہوں کہ کیا تبدیلی پسند آئی؟ صدارتی نظام متعارف کروایا گیا توملک کیلئے اچھا نہیں ہوگا، ملک کواٹھارویں ترمیم کو ختم ہونے دیں گے اور نہ ون یونٹ بننے دیں گے۔ پارلیمنٹ کے باہرمیڈیا سے گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات اپریل 20:34

بلاول بھٹو کا سلیکٹڈ وزیراعظم اورسلیکٹ کرنےوالوں سے سوال
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔25 اپریل 2019ء) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم سے پوچھتا ہوں کہ ایمپائر کی انگلی پسند آئی اور سلیکٹ کرنے والوں سے سوال کرتا ہوں کہ کیا تبدیلی پسند آئی؟ صدارتی نظام متعارف کروایا گیا توملک کیلئے اچھا نہیں ہوگا، ملک کواٹھارویں ترمیم کو ختم ہونے دیں گے اور نہ ون یونٹ بننے دیں گے۔

انہوں نے آج یہاں پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام مہنگائی کے سونامی میں پستے چلے جارہے ہیں مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ملازمین کی تنخواہیں کم پڑ گئی ہیں۔ سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ملک کی معاشی حالت کمزور ہے۔ اگر حکومت نے آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف نہ دیا تو پھر غریب عوام خود سڑکوں پر نکل آئیں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بیرونی قرضہ حاصل کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں کوئی بات نہیں کی گئی جو کسی طور بھی ٹھیک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادویات کی قیمتیں مہنگی کردی گئی ہیں جس سے لوگوں سے علاج کا حق بھی چھینا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہیے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم ون یونٹ تسلیم نہیں کریں گے، اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی، صدارتی نظام متعارف کرایا گیا تو یہ ملک کیلئے اچھا نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ عورت ہونا کوئی گالی نہیں، پاکستان کی عورتیں بہادر ہیں اور وہ مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں، میں یہ کہتا ہوں کہ اگر فاطمہ جناح نہ ہوتیں تو ایوب خان کے سامنے حق کی آواز بن کر کون کھڑا ہوتا، ملالہ کی صورت میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری جوان بیٹیاں اور بہنیں بہادر بھی ہیں اور مصمم ارادہ بھی رکھتی ہیں۔ ہماری خواتین کا کسی بھی طرح دوسری دنیا کی خواتین سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

خواتین کو سیاست سمیت ہر شعبہ میں جگہ دینا ہوگی، انہیں آگے لانا ہوگا اس کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکے گا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ اس پروگرام کو پوری دنیا نے سراہا تھا، بینظیر دلوں کی لیڈر تھیں اور ہم ان کے ہی نظریات کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔