سکول ٹیچر کے تشدد سے چھٹی جماعت کی بچی کی آنکھ ضائع

محکمہ ایجوکیشن جلاد صفت ٹیچر کو بچانے کے لیے متحرک ہو گیا

جمعرات اپریل 20:39

سکول ٹیچر کے تشدد سے چھٹی جماعت کی بچی کی آنکھ ضائع
وہاڑی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،25 اپریل 2019ئ، نمائندہ خصوصی، منور حُسین رجانہ) پنجاب کے سرکاری سکولوں میں ’مار نہیں پیار‘ کا سلوگن مذاق بن کر رہا گیا ہے۔ وہاڑی کے ایک گاﺅں 9-11 ڈبلیو بی میں ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں واقع گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کی خاتون ٹیچر کے تشدد سے چھٹی جماعت کی طالبہ عدن کی آنکھ ضائع ہو گئی۔

(جاری ہے)

جبکہ سیاسی اثر و رسوخ پر محکمہ ایجوکیشن نے صرف ایک گھنٹے کی انکوائری میں ٹیچر کو بے گناہ کر دیا۔ جس پر متاثرہ بچی عدن کے والدین کا وکلاءو سول سوسائٹی اراکین کے ہمراہ ڈی سی آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں متاثرہ بچی عدن نے بتایا کہ ٹیچر سمیرا نے تھپڑ مارے اور دھکا دے ڈیسک پر گرا دیا۔ جس سے میری آنکھ ضائع ہو گئی ہے۔ بچی کے والدین نے بتایا کہ بچی کی دوسری آنکھ میں بھی درد ہے، اس کے بھی ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ڈاکٹر نے رپورٹ بھی جاری کر دی ہے۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔