سندھ اسمبلی میں تیسرے رو زبھی پری بجٹ بحث جاری رہی، کارروائی کے دوران ایوان کا ماحول پرسکون رہا

آخر میں پیپلز پارٹی کے رکن امداد پتافی کی جانب سے حلیم عادل شیخ کو لینڈ گریبر کہنے پر ایوان میں ہنگامہ اارائی شروع ہوگئی، ارکان کے درمیان ہاتھا پائی اگر ناچنے اور کودنے سے انقلاب آتے تو اس میں بندر سب زیادہ سرخرو ہوتے ، موجودہ وفاقی حکومت کو بھی ناچنے کودنے سے فرصت نہیں،غالم قادر چانڈیو کچھ لوگوں کی ان دنوں زبان بہت پھسل رہی ہے اگر ہماری پھسلی تو پھر دمادم مست قلندر ہوگا، حکومتی ارکان پی ٹی آئی کوتو لایا گیا تھا،کراچی حیدرآبادکو اون کرنے والے بتائیں کہ انہوں نے ان شہروں کے لئے کیا کیا ، جام مدد علی

جمعرات اپریل 22:10

سندھ اسمبلی میں تیسرے رو زبھی پری بجٹ بحث جاری رہی، کارروائی کے دوران ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 اپریل2019ء) سندھ اسمبلی میں جمعرات کو تیسرے رو زبھی پری بجٹ بحث جاری رہی،کارروائی کے دوران ایوان میں زیادہ تر وقت ماحول پرسکون رہا لیکن آخر میں جب پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی امداد پتافی کے خطاب کی باری آئی تو انہوں نے پی ٹی آئی کے رکن حلیم عادل شیخ کو لینڈ گریبر کہہ دیا جس پر ایوان میں ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی جس کے دوران ارکان کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی اور انہوں نے ایجنڈے کی کاپیاں ایک دوسرے کے منہ پر دے ماریں، امداد پتافی نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ ہے نیا پاکستان ، جہاں چھتیس لاکھ میں مشاعرہ کرتے ہیں۔

انہوں نے حلیم عادل شیخ کو لینڈ گریبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پیپلزپارٹی میں آنے کے لئے منت کی تھی اور یہ بات انہیں ناصر شاہ نے بتائی ہے۔

(جاری ہے)

امداد پتافی کے ان ریمارکس پر پی ٹی آئی کے ارکان احتجاجا اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ہنگامہ برپا کردیا جس کے دوران ارکان کے درمیان ہاتھ پائی تک نوبت پہنچ گئی اور اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں حکومتی ارکان کے منہ پر دے ماریں۔

حلیم عادل شیخ نے امداد پتافی کے لئے لعنتی کا لفظ بھی استعمال کیا جس کے جواب میں امداد پتافی نے حلیم عادل شیخ کو لعنتی کہا۔ پی ٹی آئی ارکان کے احتجاج پر اسپیکر آغا سراج درانی نے امداد پتافی کے غیر پارلیمانی الفاظ کارروائی سے حزف کردئیے۔بعد میںحلیم عادل شیخ نے بھی غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کرنے پر معذرت کرلی۔انہوں نے کہا کہ میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں اورمیں نے کبھی پیپلزپارٹی میں جانے کی کوشش نہیں کی۔

قبل ازیںپیپلز پارٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ ہماری کارکردگی سے سندھ کا بچہ بچہ واقف ہے اسی لئے صوبے کے لوگ ہمیں بار بار ووٹ دیکر کامیاب کراتے ہیں،پیپلز پارٹی کے غلام قادر چانڈیو نے کہا کہ اگر ناچنے اور کودنے سے انقلاب آتے تو اس میں بندر سب زیادہ سرخرو ہوتے ،انہوں نے خبردار کیا کہ کچھ لوگوں کی ان دنوں زبان بہت پھسل رہی ہے اگر ہماری پھسلی تو پھر دمادم مست قلندر ہوگا۔

اپوزیشن کے ارکان نے پری بجٹ بحث کے دوران پیپلز پارٹی پر کرپشن اور بد نظمی کے الزامات عائد کئے،پی ٹی آئی کے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ہمیں طعنے دینے والوں نے اپنے دور میں جنرل ضیا کے ساتھی یوسف رضا گیلانی کووزیراعظم بنایا،آج بھی سندھ کابینہ میں جنرل پرویز مشرف کے ساتھی موجود ہیں۔سابق وزیر اعلی سندھ اور پیپلز پارٹی کے سب سے سینئرپارلیمنٹرین سید قائم علی شاہ نے کہا کہ قائم علی شاہ نے پری بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ میں اس وقت بھی اسمبلی میں تھا جب پہلی اسمبلی میں ساٹھ کا ایوان ہوتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ 29 پیپلز پارٹی اور ایک آزاد امیدوار مل گیا تو ہم30 ہوگئے تھے ،اس وقت بھی اپوزیشن چوں چوں کا مربہ تھی اور اس زمانے میں عارف جتوئی کے والد غلام مصطفی جتوئی وفاقی وزیر تھے ،اس وقت نہ اکثریت تھی نہ ہی ایسا ماحول تھا۔ایم کیو ایم کی خاتون رکن رعنا انصار نے اپنی تقریر میں کہا کہ حیدرآباد کبھی پیپلز پارٹی سے شکایت نہیں کرے گاکیوں کہ اس شہرکے لئے پیپلز پارٹی نے یونیورسٹی کی مخالفت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں حیدر آباد کے عوام کو خراج تحسین پیش کروں گی جو میری پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن میں جعلی ڈومیسائیل پر نوکریاں نہیں مل رہی ہیں،میرے گھر کی نالی نہیں علاقے کے لئے پانی اور اسکیمیں بجٹ کتاب میں مجھے نظر نہیں آئی ۔انہوں نے کہا کہ قیادت پر بات نہ کرنے فیصلہ تو اچھی بات ہے مگر جب ہم اپنے حق کی بات کریں گے تو چیخیں ضرور آئیں گی ۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی اپوزیشن کے حلقے میں خدارا کام کرائیں ہمیںفیتے کاٹنے کی ضرورت نہیں یہ کام آپ ہی کرلیں مگر عوام کے مسائل تو حل کئے جائیں۔رعنا انصار نے کہا کہ حیدرآباد میں بھینسوں کے نہانے والا پانی لوگوںکو پینے کے لئے دیا جارہا ہے ،لاڑکانہ میں ایسے پانی پینے سے ایڈز کی کیا حالت ہوچکی ہے ۔رعنا انصار نے اپنی تقریر کا خاتمہ شعر پڑھ کرکیا جس پر اسپیکر نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ آپ بھی شاعرہ ہوگئی ہیں ماشااللہ آپ نے بہت اچھی تقریر کی۔

پیپلز پارٹی کی فرحت سیمی نے پری بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی عوام دوست پالیسیوں کے باعث عوام نے ہمیں اکثریت سے کامیاب کرایاہے،پیپلز پارٹی نے لوگوں کو نوکری دلانے کے وعدے پر ووٹ نہیں لئے ،ہم نے جو کام کئے اس کے باعث عوام کو آسانی اور مشکلات کا خاتمہ ہوا۔ پیپلز پارٹی آئندہ بھی سندھ کے عوام کی خدمت جاری رکھے گی۔

جی ڈی اے کے علی غلام نظامانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سانگھڑ میں ڈپٹی کمشنر ظالم شخص ہے فون اٹھانے کو تیار نہیں،ڈی سی سانگھڑ تیل کمپنیوں کی کمیٹیز کے سربراہ ہیں مگر کسی کے سنتے ہی نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کے مسائل پر رابطہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں میں اوپر سے آیا ہوں ۔انہوں نے بتایا کہ سانگھڑ کے سول سرجن ایماندار شخص ہیں کہتے ہیں ایک روز میں کتوں نے 52 افراد کو کاٹا مگر ویکسین میسر نہیں۔

پی ٹی آئی کے رکن بلال غفار نے کہا کہ صوبے میں چار فیصد زرعی بجٹ کا صرف تیرہ فیصد ستائیس کروڑ وصول کیا جاسکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لینڈ ٹیکس ہو یا روینو سندھ حکومت فیل ہوچکی ہے کیوں کہ ان ڈائیریکٹ ٹیکس وصولی کوئی کارنامہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ وثوق سے کہتا ہوں وسائل کی کمی نہیں کمی ہے تو صرف نیتوں کی ہے۔بلال غفار نے کہا کہ پانی 92 فیصد لوگوں کو میسر نہیں صحت تعلیم کی حالت خراب ہے ،آپ کے کرتوت بتاں تو پانچ سال لگ جائے ،ساڑھے پانچ لاکھ ملازمین ہیں جس سے بجٹ غیر ترقیاتی مد میں چلے جاتے ہیں،جب کرپشن کا حساب مانگتے ہیں توآپکو معصوم جمہوریت خطرے میں نظر آجاتی ہے۔

پیپلز پارٹی کی خاتون رکن غزالہ سیال نے کہا کہ میرے ساتھی اپوزیشن ایم پی اے نے الزام لگایا سندھ وینٹی لیٹر پر ہے شاید میرے ساتھی کو پتا نہیں کی سندھ ملک کو اسی فیصد ریوینیو دیتا ہے ،اگر سندھ وینٹی لیٹر پر ہے تو پاکستان بھی وینٹی لیٹر پر ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ملک سندھ سے وصولیوں پر چلتا ہے۔2018کے دوران صوبے میں ریکارڈ کام کرائے گئے ہیں۔

غزالہ سیال نے کہا کہ خیرپور میں شہیدبینظیر ٹیکنیکل یونیورسٹی، این آئی سی وی ڈی سمیت متعدد یونیورسٹیوں بجز اور صاف پانی کے فلٹر پلانٹ اور سڑکوں کے جال بچھانا پیپلز پارٹی کا ہی کارنامہ ہے ،گمبٹ کا انسٹیٹیوٹ اور اسپتال اپ گریڈ کیا گیا اور بی ایچ یوز کا جال بچھایا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آپ خیرپور آئیں آپ کو وزٹ کرائیں گے ہم نے خیرپور میں کیا کیا کیا ہے ،اکنامک زون بنایا ہے جس سے سکھر، لاڑکانہ کو فائدہ اور چالیس ہزار نوکریاں ملیں گی ،اپوزیشن صرف تنقید کرتی ہے اور ہم کام کرتے ہیں۔

سندھ کے وزیر روینو مخدوم محبوب الزمان اپنی پری بجٹ تقریر میں کہا کہ حکومت سندھ نے اپنے قائد اوراپنی قیادت کے تمام احکامات پر عمل کیا اور سندھ حکومت نے اس سال بھی بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا۔پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا کہ گذشتہ دس سالوں میں پانچ ہزار ارب روپے خرچ کئے گئے۔557ارب کی کرپشن کی گئی ہے اور آپ وفاق سے پیسے مانگ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ کو290 ارب کی وصولی کرنی تھی وہ تو صرف تیس فیصد تھے آپ سے تو391 ارب روپے خرچ ہی نہیں کئے گئے ۔انہوں نے کہا کہ پی پی والے کہتے ہیں وفاق نے یہ نہیں دیا وہ نہیں دیا اس سال 70 فیصد کام نہیں کئے گئے۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ عمران خان کی کابینہ پر الزام لگانے والے بتائیں آپکی پارٹی میں کون کون بیٹھے ہیںآپکے منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ضیاالحق کے ساتھی تھے جسے آپ نے وزیر اعظم بنایاتو کیا کہا جائے کہ آپ نے ضیاکے لوگوں پر مشتمل کابینہ بنائی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت آپ مشرف کو غدار کہتے ہیں،آپ کی کابینہ میں اس وقت بھی مشرف کے لوگ بیٹھے ہیںٹوپی پہن کر بیٹھے ناصر شاہ، مہر برادران، شیرازی بھائی، بیٹھے ہیں،محمد علی ملکانی، امتیاز شیخ اور نثار کھوڑو تحریک استقلال کے بیٹھے ہیں اور کس کس کے نام لوں یہ سارے مشرف کے آدمی نہیں جو آپ کے ساتھ بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھوڑو تو بھٹو کی پھانسی پر مٹھائی بانٹنے والے تھے اسے سندھ کا صدر اور سینیئر وزیر بنایا گیا۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو کہوں گا رولنگ دیں کہ یہ ساری پیپلز پارٹی مشرف اور ضیاکی پارٹی بنی بیٹھی ہے۔پیپلز پارٹی کے غلام قادر چانڈیو نے سندھ اسمبلی میں پری بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اگر ناچنے اور کودنے سے انقلاب آتے تو اس میں سرخرو سب سے زیادہ بندر ہوتے ،موجودہ وفاقی حکومت کو بھی ناچنے کودنے سے فرصت نہیںتحریک انصاف کے دوستوں کو توخود تاریخ کا پتہ ہی نہیں،قائم علی شاہ، شہلا رضا، سعید غنی کس کس کا نام لوں جنہوں نے قربانیاں دیں۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے آپ کو بھیجا ہے آپ کا بھی وہی حشر کریں گے جوانہوں نے نواز شریف کا کیا ہے۔ ہماری تاریخ جدوجہد اور قربانیوں سے عبارت ہے پارٹی میں آج بھی ایسے ہزاروں لوگ موجود ہیں جنہوں نے جمہوریت کی خاطر اپنی پیٹھ پر کوڑے کھائے ۔انہوں نے کہا کہ آپ کے نصیب میں گالم گلوچ اور طعنے ہیں جبکہ ہم کام کرکے جائیں گے ،تاریخ گواہ ہے جب بھی آزادانہ الیکشن ہوئے پیپلز پارٹی عوام نے زیادہ سے زیادہ ووٹ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھ جیسے عام فرد کو پیپلز پارٹی نے چوتھی مرتبہ منتخب کرایا،سندھ کے عوام اتنے بیوقوف نہیں جو بار بار پیپلز پارٹی کو منتخب کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میرے قائد بلاول بھٹو کی ایک جھلک منافقوں کے لیئے موت ہے۔ایم کیو ایم کی خاتون رکن شاہانہ اشعر نے کہا کہ ہرسال بجٹ پر عوام کو سب اچھا کا فریب دیا جاتا ہے مگر زمینی حقائق منفرد ہیں،اسپتال کاروبار کے ذرائع بن گئے ہیں این آئی سی وی ڈی میں صحت مند افراد کو دل کا مریض بتایا جانے لگا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ اعداد کا گورکھ دہندہ ہے ،کراچی سندھ حکومت کو پچانوے فیصد روینو دیتا ہے مگر کراچی کو لوٹ کر کچھ نہیں دیا جاتا۔ پی ٹی آئی کی رابعہ اظفر نظامی نے کہا کہ پیپلز پارٹی گیارہ سال سے سندھ میں حکومت کرتی ہے مگر نظام تعلیم درست نہ کرسکیمحکمہ تعلیم میں کاپی کلچر مرض کی طرح پھل چکا ہے ،بجٹ کے کاغذات میں 4۔4 نام ڈیولپمنٹ پر خرچ کئے جاتے ہیں،صوبے کے چھ ملین بچے اسکول سے باہر ہیں مگر اسٹیوٹا پر خرچ صفر کیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ پبلک پارٹنر شپ کے سندھ ایجوکیشن فانڈیشن بھی اپنے کام میں ناکام ہے پنجاب میں تیس لاکھ بچے رجسٹر مگر یہاں پانچ لاکھ بچے رجسٹرڈ ہیں۔ پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی راجہ عبدالرازق نے کہا کہ پی پی مخالفین شام غریباں منارہیں ہے ،منتخب لوگ باہراور غیرمنتخب لوگ وزیر بن گئے لگتا ہے اب نیا پاکستان بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نو ماہ کے نئے پاکستان نے اسد عمر پیدا کیا کچھ لوگوں کی ان دنوں زبان بہت پھسل رہی ہے ہم کہتے ہیں ہماری زبان سلپ ہوگئی تو دمادم مست قلند ہوگا۔

سونامی سے اللہ ہم کو بچائے ،سونامی نے دال آٹے چاول کا بھا کہاں سے کہاں پہنچادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کاعمل کچھ بھی نہیں صرف تنقیدہی تنقید ہے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام اور صوبے کا بچہ بچہ ہم سے مطمن ہیں کیونکہ ہم ہسپتالوں کے چندے سے آف شور کمپناں نہیں بناتے۔پیپلز پارٹی کے رکن جام مدد علی خان نے کہا کہ بجٹ کی کاپیاں بجا بجا کراسمبلی کودھوبی گھاٹ میں تبدیل کیا جارہاہے ، افسوس ہوتاہے جب اراکین یہ رویہ اپناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کوتو لایا گیا تھا۔کراچی حیدرآبادکو اون کرنے والے بتائیں کہ انہوں نے ان شہروں کے لئے کیا کیا ان کے دور میںسانگھڑ کوکھنڈرات میں تبدیل کردیاگیا تھا۔جام مدد علی نے کہا کہ تھر کے عوام ذوالفقار علی بھٹوکے مشکورہوں کہ انہوں نے تھرکول منصوبہ دیا،تھرکول سے پیدا ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ کودی ہے۔جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے کہا کہ سندھ حکومت کی کارکردگی یہ ہے کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ بچوں کو کتابیں نہیںدے سکا،اومنی گروپ کی تین سو نئی کمپنیاں بن گئیں لیکن سندھ حکومت کے پاس درسی کتابوں کے لئے پیسے نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ آبپاشی میں پچاس ارب روپے کی کرپشن کی۔نشاندہی قائم علی شاہ نے کی جو اسکوٹرپر دودھ بیچتاتھا آج وہ کھرب پتی ہے ،بینظیرکے نام پر منصوبے بناو اور اس میں بھی کرپشن کی گئی ،قیامت کے دن بینظیرضرور ان سے پوچھیں گی کہ بینظیرہاوسنگ اسکیم میںکرپشن کیوںکی گئی انہوں نے کہا کہ مرادعلی شاہ بطور وزیرآبپاشی ناکام ثابت ہوئے ہیں۔پورے سندھ میں کوئی اضلاع نہیں جہاںاکاونٹس آفسزمیں کرپشن نہیں ہوئی ہوتھرمیں بچے مررہے ہیں وزیراعلی کنسلٹنٹ رکھ رہے ہیں،وزیراعلی ہاوس میں دس لاکھ روپے ماہانہ رکھاگیاہے۔بعد ازاں اسپیکر نے اجلاس جمعہ کی دوپہر تک ملتوی کردیا۔