ہمارا مقصد سرمایہ کاری سے غربت ختم کرنا اور ایشیا سے یورپ کا روٹ بحال کرنا ہے،صدر شی چن پنگ

دوسری بیلٹ اینڈ روڈ فورم تقریب میں 37ممالک کے راہنما شریک،وزیراعظم عمران خان بھی تقریب سے خطاب کریں گے

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعہ اپریل 07:55

ہمارا مقصد سرمایہ کاری سے غربت ختم کرنا اور ایشیا سے یورپ کا روٹ بحال ..
لاہور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2019ء)   چین میں دوسری بیلٹ اینڈ روڈ فورم تقریب کا آغاز ہو چکا ہے۔اس تقریب میں وزیر اعظم عمران خان سمیت 37ممالک کے راہنما اپنے خیالات کا اظہار کریں گے جبکہ چین کے صدر شی جن پنگ نے تقریب کا آغاز کرتے ہوئے گفتگو میں کہا کہ وہ سبھی ممالک کو اس روٹ میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔سبھی ممالک آئیں اور مل کر سرمایہ کاری کریں۔

اس فورم کا آغاز آج سے دو سال قبل ہوا تھا۔مگر پہلی میٹنگ کو اتنی پذیرائی نہیں ملی تھی جتنا کہ اس دوسری میٹنگ کو مل رہی ہے۔اس میٹنگ میں 37ممالک کے سربراہاں سمیت150ممالک سے 5ہزار کے لگ بھگ نمائندوں نے شرکت کی ہے۔بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے قیام کا مقصد ایشیا اور یورپ کے اس پرانے رستے کو پھر سے آباد کرنا ہے جس راستے سے کسی زمانے میں تجارت ہوا کرتی تھی۔

(جاری ہے)

چین سے لے کر یورپ اور وسطی امریکہ سمیت ہر ملک اس سے فائدہ اٹھا سکتاہے اور اس سے تجارت میں روز افزوں اضافہ ہو گا۔اس فورم کے حوالے سے تجارت میں چین نے یہ واضح طور پر کہا ہوا ہے کہ وہ اپنی کرنسی یوآن ہی استعمال کرے گا۔یوں اس بات کو لے کر کچھ ممالک میں تنقید کی جا رہی ہے کہ چین اگلی سپر پاور بننے کے لیے دیگر ممالک کو معیشت کے بل بوتے پر زیر کرنا چاہ رہا ہے اور مختلف ممالک کو قرض کی سہولت دے کر انہیں اپنے زیرنگوں رکھنا چاہتا ہے۔

تاہم پاکستان کے ساتھ چین کے تعلقات کسی اور سطح کے ہیں اور یہ پرانے دوست بھی ہیں۔اس بیلٹ اور روڈ منصوبے کا مین حب بھی پاکستان ہے کیونکہ چین کا سب سے بڑا پراجیکٹ سی پیک بھی پاکستان کے ساتھ ہے جہاں چین کو ہزاروں میل کا سفر طے کرنے کے بعد یورپ اور امریکہ تک رسائی ملنی تھی وہاں پاکستان میں سی پیک کی کامیابی سے ستر فیصد کم سفر کرنا پڑے گا۔فورم میں چین اور روس کے صدور نے کہا ہے کہ مالیاتی پالیسیوں کومدنظر رکھتے ہوئے سبھی ممالک کے ساتھ تعاون کیا جائے گااور اس معاشی پلان کو کامیاب کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں گے۔