پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں ہے،

سی پیک نے پاکستان کو دوسری ترقی یافتہ اقوام کے برابر لانے کا موقع فراہم کیا ہے، اقتصادی ترقی و خوشحالی کیلئے امن و استحکام ضروری ہے، پاکستان امن و استحکام کے قیام کو یقینی بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کررہا ہے وزیراعظم عمران خان کا پاک چین فرینڈ شپ ایسوسی ایشن اور پاک چین کلچرل ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ظہرانے سے خطاب

جمعہ اپریل 15:51

پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں ہے،
بیجنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 26 اپریل2019ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں ہے، سی پیک نے پاکستان کو دوسری ترقی یافتہ اقوام کے برابر لانے کا موقع فراہم کیا ہے، اقتصادی ترقی و خوشحالی کیلئے امن و استحکام ضروری ہے، پاکستان امن و استحکام کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

جمعہ کو بیجنگ میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے موقع پر پاک چین فرینڈ شپ ایسوسی ایشن اور پاک چین کلچرل ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ لائق تحسین ہیں جنہوں نے اس عالمی فورم میں عالمی رہنمائوں کو دعوت دی۔ اس سے چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی قوت کی عکاسی ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ عام طور پر بھائیوں میں ایک بھائی کی ترقی سے دوسرا بھائی حسد میں مبتلا ہوتا ہے لیکن پاک چین دوستی کا معاملہ الگ ہے۔

پاکستان اور چین بھائی اور دوست ملک ہیں اور چین کی ترقی سے پاکستان کو بھی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کا اہم حصہ ہے اور یہ پاکستان کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ پاکستان دنیا کے دیگر ممالک کی طرح اتار چڑھائو کا شکار رہا ہے۔ پاکستان کو اس منصوبے سے بہت فائدہ ہوا ہے اور پہنچے گا، یہ ہمارے لئے ایک نعمت ہے اور اس منصوبے نے پاکستان کو دوسری ترقی یافتہ اقوام کے برابر آنے کا موقع فراہم کیا ہے، سی پیک نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی فراہم کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین دنیا کی تیز ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے۔ سی پیک میں نہ صرف چین بلکہ دیگر ممالک سے بھی لوگ سرمایہ کاری کے لئے پاکستان آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ملک کی طرف سے سی پیک کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں، پورا ملک سی پیک کا حامی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ابتدائی طور پر سی پیک سڑکوں اور توانائی کے اسٹیشنوں تک محدود تھا لیکن اب اس میں وسعت آگئی ہے۔

چین اور پاکستان کے درمیان تعاون میں تنوع آیا ہے، پاکستان زراعت، غربت کے خاتمہ، زرعی و سائنسی ٹیکنالوجی کے شعبہ میں چین کی معاونت کا خواہاں ہے، ہمیں معلوم ہوا ہے کہ چینی یونیورسٹیوں نے مصنوعی ذہانت کو ترقی دینے پر کام شروع کیا ہے۔ اس وقت کئی ایسی ٹیکنالوجیز ہیں جن میں چین دنیا کی ترقی یافتہ اقوام سے آگے ہے، ہمیں امید ہے کہ چین ٹیکنالوجی کی فراہمی میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ غربت میں کمی اہمیت کا حامل معاملہ ہے، انسانیت کی تاریخ میں چین کو اس لحاظ سے منفرد حیثیت حاصل ہے کہ اس نے 30 برسوں میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا، پاکستان غربت کے خاتمہ میں چین کے تعاون کا خواہاں ہے، پاکستان کی حکومت نے غربت اور پسماندگی کے خاتمہ کا پروگرام شروع کیا ہے، ہماری خواہش ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ چین اس شعبہ میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرے گا، وزیراعظم نے کہا کہ ہم نہ صرف چینی سرمایہ کاری بلکہ خصوصی اقتصادی زونز میں چینی سرمایہ کاری چاہتے ہیں۔

سی پیک کے تحت کئی اقتصادی زونز بن رہے ہیں اور یہ سی پیک کا ایک حصہ ہے، ہمیں امید ہے کہ ان زونز میں چین اپنی خاص صنعتوں کی منتقلی کو یقینی بنائے گا۔ اس سے پاکستان کو برآمدات میں اضافے میں سہولت ملے گی۔ چین نے جس طرح برآمدات میں اضافہ کیا ہے اور جس طرح صنعتوں کو فروغ دیا ہے، ہمیں امید ہے کہ پاکستان کو صنعتی ملک بنانے میں چین پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اقتصادی ترقی و خوشحالی کے لئے امن و استحکام ضروری ہے، پاکستان امن و استحکام کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان افغانستان کے مسئلہ کا سیاسی حل چاہتا ہے، طالبان اور افغان حکومت اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے، ہمیں امید ہے کہ افغانستان میں امن اور استحکام آئے گا کیونکہ افغانستان میں بدامنی اور عدم استحکام سے پاکستان کے سرحدی علاقے متاثر ہوتے ہیں، پاکستان کے ایران کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے ساتھ مسائل موجود ہیں، ہمیں امید ہے کہ بھارت میں انتخابات کے بعد پاک بھارت مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان مہذب تعلقات استوار ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ امن اور استحکام کے بغیر اقتصادی ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں، پاکستان کی حکومت اس پر کام کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کی عمر 70 اور پاکستان کی 72 سال ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان شروع سے ہی مضبوط تعلقات رہے ہیں اور اس کو مزید تقویت مل رہی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ جب بھی مشکل وقت آیا چین پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا، ہمارے مشکل اوقات میں چین پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور چین کے عوام کے درمیان مضبوط تعلقات ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ زمانہ طالب علمی میں جب وزیراعظم چو این لائی نے پاکستان کا دورہ کیا تو اسکولوں اور کالجوں کے طلباء و طالبات نے چینی اور پاکستانی پرچم ہاتھ میں اٹھا کر ان کا استقبال کیا تھا۔ وزیراعظم نے ظہرانے کے انعقاد پر منتظمین کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔