Live Updates

وزارت صحت نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات بتا دیں

ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں 26 فیصد کمی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ اپریل 15:53

وزارت صحت نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات بتا دیں
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 26 اپریل 2019ء) : وزارت صحت نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات بتا دیں۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ بتاتے ہوئے وزارت صحت کا کہنا تھا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 26 فیصد کمی ہوئی جس سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ وزارت صحت نے ادویات کی قیمتیں بڑھنے پر قومی اسمبلی میں تحریری جواب بھی جمع کروایا، وقفہ سوالات کے دوران وزارت صحت نے تحریری جواب میں بتایا کہ ادویات کے لیے خام مال اور پیکنگ مواد کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

وزارت صحت کے مطابق بجلی اور گیس کی قیمتوں اضافہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنا جبکہ پلانٹس بند ہونے کے سبب چین میں اے پی آئی کی قیمتوں میں اضافہ بھی سبب بنا۔

(جاری ہے)

جواب میں کہا گیا سال 17-2016ء میں صحت اخراجات جی ڈی پی کے 0.91 فیصد ریکارڈ ہوئے، مالی سال 16-2015ء کے لیے اخراجات 0.77 فیصد تھے، روپے کے لحاظ سے مالی سال 17-2016ء میں صحت پر اخراجات291 ارب رہے۔

وزارت صحت نے کہا کہ 16-2015ء میں 226 ارب روپے صحت اخراجات تھے، عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق جی ڈی پی کا 4 فیصد مختص کیا جاتا ہے، پاکستان میں صحت پر0.91 فیصد اخراجات کیے جا رہے ہیں ۔20-2019ء کے پی ایس ڈی پی میں پہلے کی نسبت زیادہ رقم تجویزکی گئی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مہرین رزاق بھٹو کا کہنا تھا کہ سنا ہے کہ وزیرصحت کو ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر ہٹایا گیا، جس پر ڈاکٹر نوشین حامد پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے کی تحقیقات کررہا ہے، ہمیں اپنے اداروں پر اعتماد ہونا چاہئیے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے مطالبہ کیا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوایا جائے جبکہ راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ پارلیمنٹ سب سے بڑا ادارہ ہے، پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔ نوشین حامد نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن کمیٹی نے بھی تو کسی رپورٹ کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہے۔

پہلے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ آجائے، پھر کمیٹی کو بھیج دیں گے۔ رکن نے سوال کی اکہ ڈاکٹر ظفر مرزا کو مشیر قومی صحت تعیناتی کی کیا وجہ ہے، جس پر وزیر دفاع پرویز خٹک نے بتایا کہ وزیراعظم کی صوابدید ہے جس کو بھی معاون خصوصی بنائیں، جب آپ لوگ ہر کسی کو مشیر مقرر کرتے تھے تب ہم نے کچھ نہیں کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جارہا ہے، پریشان نہ ہوں۔ واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے منافع کمانے والی کمپنیوں سے رقم واپس لینے کا فیصلہ بھی کیا تھا۔
ڈالر بے قابو سے متعلق تازہ ترین معلومات