مولانا فضل الرحمان کے حامیوںنے اسلحہ اٹھا لیا

اگر گورنمنٹ سیکیورٹی نہیں دیتی تو ہم اپنے قائد کی حفاظت کرنے کے لیے تیار ہیں

Sajjad Qadir سجاد قادر بدھ مئی 07:04

مولانا فضل الرحمان کے حامیوںنے اسلحہ اٹھا لیا
لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2019ء)   حالیہ الیکشن کے نتائج جہاں سبھی اپوزیشن جماعتوں نے ماننے سے انکار کیے وہیں مولانا فضل الرحمان نے تو حکومت کے خلاف دھرنا دینے اور احتجاجی تحریک چلانے کی بھی بھرپور کوشش کی تھی مگر اس معاملے میں اسے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا تھا جس بنا پر وہ کچھ عرصہ تو خاموشی سے بیٹھ گئے مگر نواز شریف کے جیل جانے کے بعد انہوں نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے نمایاں لیڈروں سے رابطے شروع کیے اور ایک مرتبہ پھر حکومت کے خلاف گرینڈ الائنس بنانے کی جدوجہد شروع کر دی جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہو گئے۔

مولانا فضل الرحمان اپنے جلسوں اور میڈیا گفتگو میں پی ٹی آئی حکومت کوخوب تنقیدکا نشانہ بناتے نظر آئے ہیں۔

(جاری ہے)

مولاناصاحب کا بس نہیں چلتا کہ وہ ابھی عمران خان حکومت کا تختہ الٹ دیں۔تاہم مولانا کے حکومت خلاف مزاحمتی ردعمل کومدنظر رکھتے ہوئے اب حکومت بھی ایکشن لینے پر اترآئی ہے۔اس حوالے سے انہوں نے سب سے پہلا کام یہ کیاکہ مولانا فضل الرحمٰن کی سیکیورٹی ہٹا دی جس پر کافی ردعمل دیکھنے کو ملا۔

پاکستان میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے پولیس سیکورٹی واپس لینے کے حکومتی فیصلے کے بعد پارٹی کے سینئر رہنماو¿ں نے اسلحہ اٹھا کر اپنے قائد کی حفاظت کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔منگل کو اسلام آباد ائر پورٹ پر سعودی عرب سے عمرہ کر کے آنے والے مولانا فضل الرحمان کے استقبال کے لیے پارٹی رہنماو¿ں اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جبکہ سینئر قیادت نے ہاتھوں میں جدید اسلحہ اٹھا رکھا تھا۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ان کی پارٹی کے قائد سے سیکورٹی واپس لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ خود اپنی حفاظت کا بندوبست کیا جائے گا۔جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں نے مولانا فضل الرحمان کے حق میں جبکہ حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔