شہبا شریف صاحب کہاں ہیں،لیگی ایم این اے ہر کسی سے پوچھتے پھرتے ہیں

پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین لندن یاترا سے واپس پاکستان آنے کا نام ہی نہیں لیتے

Sajjad Qadir سجاد قادر بدھ مئی 07:42

شہبا شریف صاحب کہاں ہیں،لیگی ایم این اے ہر کسی سے پوچھتے پھرتے ہیں
لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2019ء)   ن لیگ کے بارے میں یہ تاثر کافی مضبوط ہے کہ وہ اپنے فیصلے کچن کیبنٹ میں کرتے اور ان سے متعلق کسی کو آگاہ کرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔وہ کیاکرتے یں اور کیا سوچتے ہیں سب سے بڑھ کر وہ کیا کہتے ہیں یہ صرف شریف خاندان کے ہی لوگوں کو معلوم ہوتا ہے، پارٹی کے دیگر افراد ان معاملات سے تقریباً نابلد ہی رہتے ہیں۔

گزشتہ کئی دنوں سے شہباز شریف صاحب لندن میں موجود ہیں اور انہوں نے پاکستان واپس آنا ہے یا نہیںاس حوالے سے کوئی بھی مستند خبر موصول نہیں ہوتی۔ گزشتہ الیکشن میںپی ٹی آئی کی حکومت بننے کے بعد پبلک اکاﺅنٹس کیمیٹی کا چیئرمین بنانے کے لیے حکومت نے پورا زور لگایا کہ اپوزیشن کی بجائے حکوت کا بندہ ہو تاکہ ہر کسی کا مضبوط احتساب ہوسکے مگر پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے گٹھ جوڑ کر کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا سربراہ بنوا دیا۔

(جاری ہے)

آغاز میں تو شہباز شریف کافی ایکٹو تھے کہ جیل میںموجود ہونے کے باوجود وہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس رکھتے اور خود وہاں جا دھمکتے مگر اب اتنے ہفتے گزر جانے کے باوجود نہ تو انہیں کوئی اجلاس کرنے کا خیال آیااور نہ ہی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا کہ جس کا چیئرمین بننے کے لیے انہوں نے دن رات محنت کی تھی۔اس حوالے سے سینئر صحافی حامد میر نے نجی ٹی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ دیگر لوگ تو شباز شریف کی واپسی سے متعلق پریشان ہیں ہی تاہم لیگی راہنماﺅں کو بھی نہیں معلوم کہ چیئر مین پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کب تشریف لائیں گے۔

وہ اب مجھ سمیت سبھی صحافیوں کو طعنے دیتے نظر آتے ہیں کہ میر صاحب آپ لوگوں نے بھی خوب کمپین چلائی تھی کہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئرمین شہباز شریف کوہونا چاہیے اب ہمیں بتائیں کہ وہ کہاں ہیں۔حامد میر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہاکہ شہباز شریف کو واپس آنے کی تاریخ کا بتانا چاہیے اور اپنے اراکین کے ساتھ ساتھ قوم کوبھی اعتماد میں لینا چاہیے کہ وہ پاکستان کب آئیں گے ا ور پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ لندن جانے کے بعد انہوں نے اچانک پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے عہدے سے مستعفی ہونے اور رانا تنویر کو چیئرمین ڈکلیئر کردیا مگر پھر راتوں رات فیصلہ تبدیل کر کے دوبارہ شہباز شریف نے خود کو چیئرمین برقرار رکھا تو ایسی باتیں ان کی پارٹی کی ساکھ پربرا تاثر جما رہی ہیں۔