ملک کو چلانے کی پالیسی کون بناتا ہے ؟

مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی نے وزیراعظم عمران خان پر بڑا الزام عائد کر دیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ مئی 12:04

ملک کو چلانے کی پالیسی کون بناتا ہے ؟
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 15 مئی 2019ء) :پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کون ہوتا ہے ہمارے ملک کی پالیسی بنانے والا؟۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کی پالیسی بنانے والا آئی ایم ایف کون ہوتا ہے ؟ لوگوں نے نواز شریف کو مینڈیٹ دیا سابق وزیراعظم نے وہی فیصلہ کیا جس سے عوام کو فائدہ ہوا۔

انہوں نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان وزیراعظم نہیں ہیں آئی ایم ایف کی خاتون سربراہ پاکستان کی وزیراعظم ہیں جو پالیسی بنا کر دیتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے پاکستان کو سی پیک سے کھڑا کیا اور آئی ایم ایف سے جان چھڑا لی تھی۔

(جاری ہے)

جب کہ دوسری جانب قومی اخبار کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف نے معاشی مسائل کا ذ مہ دار گزشتہ حکومتوں کو قرار دیدیا۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 6ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کا معاہد طے پائے جانے کے دوران آئی ایم ایف نے گذشتہ جمہوری ادوار کے دوران معاشی اقدامات کو غیر متوازن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش موجودہ معاشی مشکلات کی بنیادی وجوہات میں ادارہ جاتی خامیاں اور خطرناک حد تک اخراجات میں اضافہ زیادہ نمایاں ہیں،مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے حالیہ 10 سالہ جمہوری دور میں معاشی پالیسیوں کے اثرات آج کھل کے اس وقت سامنے آئے جب آئی ایم ایف نے خود اس بات کا انکشاف کیا کہ موجودہ جمہوری دور میں پاکستان کو معاشی لحاظ سے شرح نمو میں کمی،بڑھتی ہوئی مہنگائی،بہت زیادہ قرضہ اور بیرونی قرضوں کے حوالے سے کمزور ہالیسی سازی جیسے جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ ورثے میں ملنے والی غیر متوازن غیر متزلزل معاشی پالیسوں کا عکاس ہے جن کا مقصد تیزی سے ترقی تھا،لیکن خطرناک حد تک اخراجات میں اضافے کے ساتھ ڈھانچہ جاتی اور ادارہ جاتی خامیاں وقوع پذیر ہوئیں۔

آئی ایم ایف کے اعلامیہ کے مطابق پاکستانی حکام نے ان چیلنجز اور بڑے پیمانے پر غیر دستاویزی معیشت، انسانی وسائل میں کم اخراجات اور غربت بے نبرد آزما ہونے کی ضرورت کو تسلیم کیا۔اس حوالے سے حکومت پہلے ہی مشکل میں ہے۔لیکن لازمی اقدامات کا آغاز کر چکی ہے۔اور سٹیٹ بینک کی مدد سے معیشت کے استحکام کے لیے ایڈجسمنٹ کی گئی ۔ان کوششوں کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔معیشت کو واپس مستحکم کرنے ،اعتماد میں اضافے اور خطرات میں تیزی سے کمی لانے لے لیے بیرونی مالیاتی فنانسنگ کے ساتھ فیصلہ کن پالیسیاں اور اصلاحات کرنا ہوں گی۔اس کے لیے نجی شعبے کی سرگرمیوں کو مضبوط کرنا ہو گا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہوںگے۔