امریکہ کا عراق سے غیر ضروری سفارتی عملے کو نکالنے کا اعلان

عراق میں سفارتی عملے کو یہ حکم ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر دیا ،محکمہ خارجہ

بدھ مئی 19:00

امریکہ کا عراق سے غیر ضروری سفارتی عملے کو نکالنے کا اعلان
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 مئی2019ء) امریکی محکمہ خارجہ نے بغداد میں اپنے سفارت خانے اور اربیل میں قونصل خانے سے غیر ضروری سفارتی عملے کو عراق سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے عراق میں سفارتی عملے کو یہ حکم ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر دیا ہے۔امریکہ نے سفارتی عملے کو جاری کیے جانے والے پیغام میں کہا کہ عراق میں کئی دہشتگرد اور جنگجو گروپ متحرک ہیں اور وہ عراقی سکیورٹی فورسز پر تواتر سے حملے کرتے رہتے ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا کہ عراق میں متحرک امریکہ مخالف ملییشیا عراق میں موجود امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔عراق میں اپنے دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ نے عراقی وزیراعظم عادل عبدل مہدی اور صدر برہام صالح سے ملاقات کی اور سکیورٹی کے حوالے سے امریکی خدشات کا اظہار کیا۔

(جاری ہے)

مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ عراقی رہنماؤں نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں۔

مائیک پامپیو نے کہا تھا کہ امریکہ عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کی بڑھتی نقل و حرکت کو دیکھ رہا ہے اور امریکہ کے پاس ان کے ممکنہ حملوں کی مصدقہ معلومات ہیں۔امریکی وزیر خارجہ نے عراقی رہنماؤں سے کہا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ عراقی رہنما ’بڑھتے ہوئے خطرات کو دیکھ سکیں۔مائیک پامپیو نے کہا تھا کہ ’امریکہ عراق میں کسی ملک کو حملوں کی اجازت نہیں دے گا۔انھوں نے مزید کہا تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ عراقی رہنماؤں کو باور کرائیں کہ وہ توانائی کے معاہدے کرتے وقت ایران پر کم بھروسہ کریں۔