پاکستان کے ایک اور علاقے میں توانائی کے وسیع ذخائر کی نشاندہی کر دی گئی

سمندری حدود میں تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت کے بعد پاک ایران سرحدی علاقے میں بھی وسیع ذخائر کی موجودگی کی نشاندہی

muhammad ali محمد علی بدھ مئی 20:51

پاکستان کے ایک اور علاقے میں توانائی کے وسیع ذخائر کی نشاندہی کر دی ..
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 15 مئی 2019ء) پاکستان کے ایک اور علاقے میں توانائی کے وسیع ذخائر کی نشاندہی کر دی گئی، سمندری حدود میں تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت کے بعد پاک ایران سرحدی علاقے میں بھی وسیع ذخائر کی موجودگی کی نشاندہی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی زمین سونا اگلنے لگی ہیں۔ ایک جانب پاکستان کی سمندری حدود میں تیل و گیس کے ذخائر دریافت کر لیے جانے کی خوشخبری سنائی جا رہی ہے، تو دوسری جانب کچھ روز قبل سندھ میں بھی تیل و گیس کے ذخائر دریافت کیے گئے۔

جبکہ اب پاکستان کے ایک اور علاقے میں توانائی کے وسیع ذخائر کی نشاندہی کر دی گئی ہے۔ نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق پاک ایران سرحدی علاقے میں بھی تیل و گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ تاہم حکومت کا اس وقت فوکس کراچی کی سمندری حدود میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کے کام پر ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق پاک ایران سرحدی علاقے میں تیل و گیس کے ذخائر کی موجودگی سے متعلق ماہرین پہلے بھی آگاہ کر چکے ہیں، تاہم کچھ ماہرین کی رائے میں ایسے علاقے سے توانائی کے ذخائر کی دریافت کا کام کافی مشکل ہے۔

اس حوالے سے گزشتہ انتخابات سے قبل قائم ہونے والی نگراں حکومت کے نگراں وزیر توانائی کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی تھی۔ دوسری جانب پاکستان کی سمندری حدود میں تیل اور گیس کی تلاش میں اہم پیش رفت سامنے آ ئی ہے۔کراچی کے سمندر میں 5450 میٹر کی گہرائی پر ہائیڈروکاربن کی موجودگی سامنے آئی ہے۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گہرے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے کیکڑا ون بلاک میں ڈرلنگ کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

جس کے بعد سمندر میں میں 5450 میٹر گہرائی پر ہائیڈروکاربن کی موجودگی سامنے آئی ہیں، جواس بات کی طرف اشارہ کرتی ہےکہ یہاں پر آئل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ ہائیڈرو کاربن کی موجودگی کے سیمپل ٹیسٹنگ کے لیے بھجوا دیے ہیں۔اگلے 72 گھنٹوں میں اس کی رپورٹ سامنے آئے گی۔رپورٹ میں تیل اور گیس کے ذخائر سے متعلق واضح ہو گا۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل و گیس کے ذخائر تقریباً دریافت ہو چکے ہیں، تاہم ذخائر نکالنے میں کافی وقت لگے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زیر سمندر موجود تیل و گیس کے ذخائر کو نکالنے کیلئے 3 سال کا وقت لگ سکتا ہے۔ زیر سمندر تیل کے ذخائر 2 سال کے اندر نکالے جا سکیں گے، جبکہ گیس کے ذخائر 3 سال کے عرصے کے دوران نکالے جائیں گے۔ واضح رہے ڈرلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد آئندہ 48 گھنٹے انتہائی اہم قرار دئے گئے تھے۔ جبکہ تیل و گیس کی مقدار کے تعین کے لئے ٹیسٹنگ کا عمل کا آغاز کر دیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق 5 ہزار 470 میٹر گہرائی تک ڈرلنگ کی گئی۔ ٹیسٹنگ کا عمل 48 سے 72 گھنٹوں میں مکمل ہوگا، تیل و گیس کی مقدار کی مکمل رپورٹ ایک ہفتے میں تیار ہوگی۔ بڑے ذخائر کی موجودگی کی رپورٹ کنفرم ہونے پر انفراسٹرکچر بنایا جائے گا۔ واضح رہے ایگزون موبل، ای این آئی پی پی ایل اور اوجی ڈی سی ایل مل کر کام کر رہی ہیں، کیکڑا ون بلاک میں تیل و گیس کی تلاش کا عمل جنوری میں شروع کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے گذشتہ روز موصول ہونے والی خبر کے مطابق ای این آئی کمپنی پر مشتمل جوائنٹ وینچر نے 14ارب لاگت سے 5 ہزار470 میٹر زیرسمندر (لائنرتک)ڈرلنگ مکمل کرتے ہوئے تیل وگیس کے ذخیرہ تک رسائی حاصل کرلی ۔ ڈرلنگ کمپنی نے تیل وگیس کی حقیقی مقدارکا تعین شروع کردیا ہے ۔ یہ عمل آئندہ تین روز میں مکمل جبکہ تیل وگیس کی مقدار کی رپورٹ ایک ہفتے میں تیار کرلی جائے گی۔

ابتدائی اندازے کے مطابق کیکڑا ون بلاک میں 9ٹریلین کیوبک فٹ گیس اور خام تیل کی بڑی مقدار موجود ہو سکتی ہے ۔ ایگزن موبل کمپنیکے سینئر عہدیدار نے تصدیق کی کہ کیکڑا ون بلاک میں تیل وگیس کی تلاش کے لیے 11جنوری 2019ء کو شروع کی گئی ڈرلنگ لائنر تک مکمل کرلی گئی ہے ۔ ای این آئی، ایگزن موبل، اوجی ڈی سی ایل اور پی پی ایل اس کنویں میں 25 فیصد کے تناسب سے ملکیت رکھتی ہیں اور اسی تناسب سے چاروں کمپنیوں نے مشترکہ سرمایہ کاری کی ہے ۔

کیکڑا ون بلاک میں تیل وگیس کے تخمینی ذخیرے 9 ٹریلین کیوبک فٹ تک رسائی کے لیے طویل عرصے سے کوششیں جاری تھیں۔ ڈرلنگ کمپنی گیس وتیل کے ذخیرے کی حقیقی مقدار کا تعین کرنے کے لیے 200 میٹر ذخیرے میں رسائی شروع کردی ہے ۔ ہائی پریشر کے باعث یہ عمل محتاط انداز میں آئندہ تین روز میں مکمل کرلیا جائے گا جس کے بعد ذخیرے سے ملنے والے نمونوں کی ٹیسٹنگ اور تجزیہ کا عمل شروع ہوجائے گا۔