وزارتِ خزانہ نے ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے ایف آئی اے، ایس ای سی پی ، ایف بی آر اور سٹیٹ بینک کا ریکارڈ ایک ڈیٹابیس میں اکٹھا کر دیا

ایف آئی اے، ایس ای سی پی ، ایف بی آر اور سٹیٹ بینک کا ریکارڈ ایک جگہ اکٹھا کرنے سے مزید شہریوں کوٹیکس نیٹ میں لانے میں مدد ملے گی

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ بدھ مئی 22:00

وزارتِ خزانہ نے ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے ایف آئی اے، ایس ای سی پی ، ایف ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔15مئی2019ء) وزارتِ خزانہ نے ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے ایف آئی اے، ایس ای سی پی، ایف بی آر اور سٹیٹ بینک کا ریکارڈ ایک ڈیٹابیس میں اکٹھا کر دیا ہے۔ ذرائع وزارتِ خزانہ نے بتایا ہے کہ مزید شہریوں کوٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے آئی اے، ایس ای سی پی ، ایف بی آر اور سٹیٹ بینک کا تمام ڈیٹا ایک نظام میں اکٹھا کر لیا ہے۔

اس سسٹم سے یہ پتا چلانے میں مدد ملے گی کہ کس شخص کی آمدنی کتنی ہے اور کس نے سال میں کتنا کمایا اور خرچ کیا ہے۔

(جاری ہے)

اس سے پہلے بھی وزارتِ خزانہ بتا چکی ہے کہ اب شہریوں کے خرچ کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگایا جائے گا کہ کون کتنا کما رہا ہے اور کتنا ٹیکس چوری کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے چئیرمین فیڈرل بروڈ آف ریونیو شبر زیدی نے کہا ہے کہ رواں مالی سال 4ہزار 100ارب روپے کی ٹیکس کی وصولی کا امکان ہے اور حکومت اسے بڑھا کر 5ہزار ارب روپے تک لے جانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایمنسٹی سکیم آخری ایسی سکیم ہے اس کے بعد کوئی سکیم نہیں لائیں گے اور کالا دھن رکھنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔اب وزارتِ خزانہ نے ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے ایف آئی اے، ایس ای سی پی، ایف بی آر اور سٹیٹ بینک کا ریکارڈ ایک ڈیٹابیس میں اکٹھا کر دیا ہے۔