18ویں ترمیم آسمانی صحیفہ نہیں جو تبدیل نہیں ہوسکتی، صدرمملکت

جب آئین کے اندر ترامیم ہوسکتی ہیں تو18ویں ترمیم میں بھی بہتری لائی جا سکتی ہے، یہ بحث اصل مسائل سے توجہ ہٹا رہی ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا انٹرویو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات مئی 20:39

18ویں ترمیم آسمانی صحیفہ نہیں جو تبدیل نہیں ہوسکتی، صدرمملکت
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 مئی 2019ء) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم آسمانی صحیفہ نہیں جو تبدیل نہیں ہوسکتی، جب آئین کے اندر ترامیم ہوسکتی ہیں تواٹھارویں ترمیم میں بھی بہتری لائی جا سکتی ہے، یہ بحث اصل مسائل سے توجہ ہٹا رہی ہے۔انہوں نے نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پہلے میں سمجھتا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا چاہیے، لیکن معیشت کو بہتر کرنے کیلئے جانا پڑا۔

لہذا پہلے بھی ٹھیک کہتے تھے کہ نہیں جانا چاہیے اب جب حالات دیکھ کر گئے تو اب بھی ٹھیک ہے۔ صدر مملکت نے ایک سوال پر کہا کہ میں نے صدارتی نظام کی کبھی بات نہیں کی۔پارلیمانی نظام کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ پارلیمانی نظام پر سب کا اتفاق ہے، اس کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

(جاری ہے)

موجود ہ آئین پارلیمانی نظام کا ہے۔ اگر کوئی آئین کو تبدیل کرنا چاہے گا اس کیلئے دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی۔

لیکن ابھی کسی کے پاس دوتہائی اکثریت نہیں ہے۔ لہذا یہ بحث اصل مسائل سے توجہ ہٹا رہی ہے۔میں کہوں گا کہ اس ڈبیٹ کو ختم ہونا چاہیے بلکہ چارٹرڈ آف اکانومی لایا جائے، لوگوں کے مسائل حل کیے جائیں۔ عارف علوی نے کہا کہ بہت تیزی سے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔آئین میں رہتے ہوئے ماہرین سے مدد لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے وسائل طے ہیں، اسی طرح جب آئین کے اندر ترامیم کرسکتے ہیں تو18ویں ترمیم میں بھی ترمیم اور مزید بہتری لا سکتے ہیں، یہ کوئی صحیفہ آسمانی نہیں ہے۔

فاٹا میں اگر ہم نے بہتری نہ لائی، تو وہاں تحریکیں جنم لے سکتی ہیں۔ صدرمملکت نے کہا کہ ایوان صدر غیرمتنازع آفس ہے، اس کو متنازع نہیں بنانا چاہیے۔ اپوزیشن سمیت سب کیلئے دروازے کھلے ہیں۔انہوں نے اپوزیشن کو ایوان صدر میں آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ میرے دروازے کھلے ہیں، آئیں ملاقات کریں۔ انہوں نے کہا کہ خورشید شاہ نے کھجوریں بھیجیں، میں نے شکریہ ادا کیا۔

اور کہا کہ ملاقات کریں وہ آئے بہت اچھا لگا۔میری کوشش ہے کہ صدرکے دفترکو سب کیلئے کھلا رکھوں۔کیونکہ صدر کا عہدہ وفاق کی علامت ہے۔ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پارٹی کے اندراختلافات ہوتے ہیں ، لیکن اختلافات کو باہر نہیں آنا چاہیے۔اختلافات کا باہر آنا نقصان ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اسمبلی میں بھی اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جھگڑوں کے خلاف ہوں۔اپوزیشن کا کام احتجاج اور تنقید کرنا ہے۔