وزیر داخلہ سے لیکر آئی جی تک میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے جو چا ہے کرنا ہے کر لو،کوہسار کے اے ایس آئی عظیم خان اور محمد صادق کی بے گناہ شہری پر تشدد کے بعد دھمکی

جمعرات مئی 21:45

وزیر داخلہ سے لیکر آئی جی تک میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے جو چا ہے کرنا ہے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 16 مئی2019ء) وزیر داخلہ سے لیکر آئی جی تک میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے جو چا ہے کرنا ہے کر لو،کوہسار کے اے ایس آئی عظیم خان اور محمد صادق کی بے گناہ شہری ظہیر پر تشدد کے بعد دھمکی، کوہسار تھانے کے دو اہلکاروں عظیم خان اور محمد صادق نے بے گناہ شہری ظہیر ملک کو بے گناہ تشدد اور بغیر ایف آئی آر ہتھکڑی لگا کر تھانے لانے کے بعد دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ سے لے کر آئی جی اسلام آباد تک میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے جو چاہئے کر سکتے ہو کر لو، مظلوم شہری ظہیر ملک جو کہ ایف سکس میں واقع ایک گیٹ ہاؤس میں ملازم ہے ڈی آئی جی آپریشن وقار الدین سید کو درخواست دی اور بتایا کہ کل صبح یعنی 21 اپریل کو عظیم خان اور محمد صادق نے چھاپہ مارا اور 489F کے نامزد ملزم وقار احمد کو گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ مجھے بھی گرفتار کیا ہتھکڑی لگائی تھپٹر مارے ماں بہن کی گالیاں دیں اور تھانے لے آئے مظلوم شہری ظہرے ملک نے درخواست میں مزید لکھا کہ جب میں نے تھانے میں ASI عظیم خان سے پوچھا کہ مجھے کس جرم کے تحت گرفتار کر لے ہتھکڑی لگا کہ تھانے میں لائے ہیں تو اس کے بعد اس نے کہا کہ جیسے چاہیں جس وقت چاہئیں تھانے لا کر بند کر سکتے ہیں تم کس باغ کی مولی ہو اس کے بعد عظیم خان کے ساتھی محمد صادق نے میرے ایک رشتے دار بہادر کو ٹیلی فون کیا۔

(جاری ہے)

اور کہا کہ ہم تمہارے رشتے دار ظہیر ملک کو تھانے لے آئے ہیں اسے آ کر لے جاؤ اس کے لگ بھگ ادھے گھنٹے بعد پولیس اہلکاروں نے مجھے چھوڑ دیا لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ جو چاہئے کرنا ہے کر لو میرا کوئی کچھ نہیں بیگاڑ سکتا اس کے بعد ظہیر ملک نے ہمیں بتایا کہ میں نے ڈی جی آپریشن وقار الدین سید کو اس سارے واقع کی درخواست دی اور سارا واقعہ درخواست میں بیا ن کیا۔

اس کے بعد ڈی آئی جی آپریشن وقار الدین سید نے وہ درخواست ایس پی سٹی ساعد عزیز کو مزید کارروائی کے لئے بھیجی لیکن تاحال ان دونوں اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو سکی اس موقع کے حوالے سے جب ہم نے ایس پی سٹی ساعد عزیز سے پوچھا کہ لگ بھگ ایک ماہ گزرنے کے باوجود اب تک مظلوم کو انصاف کیوں نہ مل سکا تو اس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی انکوائری کرنے کے لئے ڈی ایس پی عارف الفت چوہدری کو بتا دیا ہے جبکہ جلد مظلوم ظہیر سب کو انصاف ملے گا لگ بھگ ایک ماہ گزر جانے کے باوجود صورتحال دونوں پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کیوں نہ ہو سکی یہ اسلام آباد پولیس کی کارکردگی کے اوپر سوالیہ نشان ضرور ہے۔

ٖ Asi عظیم خان کے حوالے سے جب ہم نے ایس ایچ او تھانہ کوہسار عبدالرزاق چوہدری سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر عظیم خان انتہائی بد تمیز بے حیا ار بدلحاظ پولیس افیسر ہے انہوں نے بتایا کہ میں یہ لفظ اس لئے استعمال کر رہا ہوں کہ جب بھی عظیم خان کے سامنے کوئی شخص ہمارے کسی سینئر آفیسر کا نام لیتا ہے تو وہ ان کے خلاف غلط باتیں کرتا ہے اور جو کہتا ہے کہ جاؤ جو کرنا ہے کر لو ۔

عبدالرزاق چوہدری نے مزید بتایا کہ ہمارے لئے توہر شخص جو تھانے میں آتا ہے وہ محترم ہوتا ہے اور ہمیں انسان ہونے کے ناطے ہر شخص کو عزت کرنی چاہئے لیکن عظیم خان بالکل اختلاف سے عاری شخص ہے عام آدمی سے لے کر ہمارے سینئر و جونیئر افسران تک ہر شخص محروم ہے اور ہمیں ہر شخص کی عزت کرنی چاہئے ۔ عبدالرزاق چوہدری نے مزید بتایا کہ عظیم کے رویے کی میں سینئر افسران سے اگلے چند دن میں مزید شکایات کروں گا کیونکہ عظیم خان جیسے آفسر کی تھانے میں موجودگی پولیس ڈیپارٹمنٹ کے لئے باعث شرمندگی ہے لہذا اگلے چند دنوں میں عظیم خان کی خلاف شکایات کی جائے گی ۔

متعلقہ عنوان :