افغانستان میں نیٹو کے فضائی حملے ، غلطی سے 17 پولیس اہلکار مارے گئے

حملہ اس وقت کیا گیا جب افغان پولیس اور طالبان کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں،گورنر ہلمند محمد یسین

جمعہ مئی 16:59

کابل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 مئی2019ء) افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے دارالحکومت میں طالبان سے جھڑپوں کے دوران نیٹو کے فضائی حملے میں غلطی سے 17 افغان پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے،لشکر گاہ شہر کے باہر حملہ اس وقت کیا گیا جب افغان پولیس اور طالبان کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں۔ادھر ہلمند کے گورنر محمد یٰسین نے کہا ہے کہ فضائی حملے کی تحقیقات جاری ہیں، دوسری جانب طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ امریکی فورسز کی جانب سے کیا گیا تھا۔

کابل میں موجود امریکی فوج کی جانب سے مذکورہ حملے سے متعلق فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔صوبائی کونسل کے سربراہ عطااللہ افغان نے کہا کہ ملک کے جنوبی صوبے ہلمند کے دارالحکومت میں طالبان سے جھڑپوں کے دوران نیٹو کے فضائی حملے میں غلطی سے 17 افغان پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔

(جاری ہے)

صوبائی کونسل کے سربراہ عطااللہ افغان نے کہا کہ لشکر گاہ شہر کے باہر حملہ اس وقت کیا گیا جب افغان پولیس اور طالبان کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں۔

صوبائی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ فضائی حملہ ہلمند،قندھار ہائی وے کے علاقے نہر سراج میں نیٹو کے ریزولیٹ سپورٹ مشن فورس کی جانب سے کیا گیا تھا۔ہلمند کے گورنر محمد یٰسین نے کہا کہ فضائی حملے کی تحقیقات جاری ہیں، دوسری جانب طالبان کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملہ امریکی فورسز کی جانب سے کیا گیا تھا۔کابل میں موجود امریکی فوج کی جانب سے مذکورہ حملے سے متعلق فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

خیال رہے کہ مارچ میں افغانستان کے شمالی شہر قندوز میں طالبان کے حملے میں 8 افراد جاں بحق اور 62 زخمی ہوئے تھے۔اس سے قبل افغان طالبان نے صوبہ قندوز میں قائم آرمی بیس پر حملہ کرکے 26 سیکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کردیا تھا۔واضح رہے کہ افغانستان میں 18 سالہ جنگ کے بعد امریکا اور طالبان امن عمل کے لیے براہ راست مذاکرات کررہے ہیں جس کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور امریکی نمائندہ خصوصی کے درمیان مذاکرات کا حالیہ دور رواں ماہ کے آغاز میں ہوا تھا۔