موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کی طرح رشوت ،کرپشن ،بے روزگاری ختم کرنے میں ناکام ہوئی ،سنیٹرسراج الحق

عام آدمی کہاں جائے ،یہ مدینہ کی ریاست کی بات کرتے ہیں لیکن عمل سے مدینہ کی اسلامی ریاست کا مذاق اڑارہے ہیں ،امیرجماعت اسلامی پاکستان

ہفتہ مئی 20:40

موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کی طرح رشوت ،کرپشن ،بے روزگاری ختم کرنے ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 مئی2019ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کی طرح رشوت ،کرپشن ،بے روزگاری ختم کرنے میں ناکام ہوئی ،اشیائے صرف کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ،گیس کی قیمتوں میں45فیصد ،دوائیوں کی قیمتوں میں 200فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ، عام آدمی کہاں جائے ۔

یہ مدینہ کی ریاست کی بات کرتے ہیں لیکن عمل سے مدینہ کی اسلامی ریاست کا مذاق اڑارہے ہیں ،کیا مدینہ کی اسلامی ریاست یہ ہے جو یہ بنانا چاہتے ہیں ۔یہ کونسی تبدیلی لانا چاہتے ہیں کراچی کے عوام کو بجلی ، پانی ، ٹرانسپورٹ کے سنگین مسائل کا شکار ہیں ،بنیادی سہولتیں میسر نہیں ،صفائی ،ستھرائی کا کوئی انتطام نہیں ،دنیا مریخ پر جارہی ہے اور کراچی کے عوام بنیادی انسانی ضروریات تک سے محروم ہیں ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع وسطی کے تحت بالمقابل فاروق اعظم مسجد بلاک kنارتھ ناظم آباد میں ایک بڑی عوامی دعوت ِافطارسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔دعوت ِافطار سے امیر ضلع وسطی منعم ظفر خان اور سکریٹری ضلع انجم رفعت اللہ نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان راشد نسیم ،امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ،نائب امیر مسلم پرویز ،سکریٹری کراچی عبد الوہاب ، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ،سید حفیظ اللہ ودیگر بھی موجود تھے ۔

سینیٹر سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہا کہ ہم پر اللہ کا بڑا انعام ہے کہ ہم نبی کریم ؐ کے امتی ہیں اور اس نے ہمیں رمضان المبارک عطا کیا ہے ۔رمضان المبارک کا پیغام یہی ہے کہ ایک ایسا نظام نافذ کیا جائے جس میں اللہ کی بندگی اختیار کرنا آسان ہو برائی کرنا مشکل ہو، ہم لوگوں کو اسی بنیاد پر جمع کرتے ہیں ۔پاکستان پوری دنیا میں منفرد ملک ہے ،ایک مدینہ طیبہ اور ایک پاکستان طیبہ کا مطلب اور پاکستان کا مطلب پاک ہے ، یہ ملک اسلام کی بنیاد پر قائم کیا گیا ،کسی مسلک ،لسانیت یا قومیت کی بنیاد پر نہیں ۔

آج ضروری ہے کہ ہم اس پاکستان کو وہ پاکستان بنائیں جس مقصد کے لیے ہم نے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا ۔70سال سے اس ملک میں اللہ کا دین نافذ نہ ہوا ، اگر ملک میں اسلامی نظام نافذ ہوتا تو ملک دولخت نہ ہوتا ۔مشرقی پاکستان بنگلہ دیش نہ بنتا ۔ملک پر 37سال جرنیل حکمران رہے سول حکمرانوں نے بھی حکومت کی ،دونوں نے نظریہ پاکستان سے بے وفائی کی ہے اور ملک کو اس کے قیام کے مقاصد سے دور رکھا ہے ۔

عوام نے جرنیلوں کی حکومت دیکھی پیپلز پارٹی ، نواز لیگ کی حکومت کو دیکھا اور اب سب کا مجموعہ بھی پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور اب ماضی کی طرح اقدامات ہورہے ہیں ،سودی قرضے لیے جارہے ہیں اور غربت ،مہنگائی ،بے روزگاری کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔یہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کی طرح ثابت ہوئی ،رشوت ،کرپشن ،بے روزگاری ختم کرنے میں ناکام ہوئی ۔

انہوں نے کہاکہ 50لاکھ گھروں کی تعمیر کا وعدہ کیا لیکن غریب لوگوں کو گھروں سے محروم کیا۔ موجودہ حکمران کا کوئی وژن نہیں ہے ،وزیرسائنس و ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک ہزار سینما گھر ہونا چاہیئے لیکن ابھی صرف140گھر ہیں ، یہ سمجھتے ہیں کہ سینما گھر بنا کر عوام کے مسائل حل کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے شروع سے یوٹرن لیے ہیں اب عوام کی خاطر ایک یوٹرن اور لے لیں جس میں عوام کومہنگائی سے نجات دلائیں پیٹرول کی قیمتیں کم کردیں ۔

انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیے تھے آج وہ خود پریشان ہیں ہم سوال کرتے ہیں ان سے کہاں گئی ان کی تبدیلی اور عوام کو ریلیف دینے کے دعوے اور نعرے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر اور حاجیوں کی خدمت کرنے والے اقامت دین کا کام کرنے والے اور دین کو غالب کرنے والے ہر گز برابر نہیں ہوسکتے ، یہ کام تمام انبیاء کرام ؐ نے کیا ہے اور تمام انبیاء کرام ؐ کو دنیا میں دین کو غالب کرنے کے لیے بھیجا گیا اور انسانوں کو توحید کی دعوت دی گئی اور ایک اللہ کی بندگی اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ۔

اقامت دین کی جدوجہد کا کام انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی جماعت اسلامی یہی جدوجہد کررہی ہے ، ہم معاشرے کی تطہیر اور انسانوں کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں اور دین کو نافذ کرنے کی بھی جدوجہد کررہے ہیں ،اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد ہمار امرکز و محور ہے ۔منعم ظفر خان نے کہاکہ قرآن رمضان المبارک کے مہینے میں نازل ہوا ،یہ خیر ، رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے ، اس ماہ مبارک میں غزوہ بدر ہوا اور اس ماہ مبارک میں ایک رات ایسی ہے جس میں ہزار مہینوں سے زیادہ کی عبادت کا ثواب رکھا گیا ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے بھرپور موقع دیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوںکی معافی طلب کریں اور جہنم کی آگ سے نجات حاصل کریں اور رمضان میں قرآن سے تعلق کو مضبوط و مستحکم بنائیں ۔