آئی ایم ایف معاہدے کے تحت ڈالر کی قیمت 180 روپے کی سطح تک جانے کا امکان

مالیاتی ادارے کیساتھ معاہدے کے تحت اگلے 3 سال میں پاکستانی روپے کی قدر میں 20 فیصد کمی ہوگی، قیمت 200 روپے کی سطح تک بھی جا سکتی ہے: خلیج ٹائمز کی رپورٹ

muhammad ali محمد علی اتوار مئی 00:05

آئی ایم ایف معاہدے کے تحت ڈالر کی قیمت 180 روپے کی سطح تک جانے کا امکان
لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 18 مئی 2019ء) آئی ایم ایف معاہدے کے تحت ڈالر کی قیمت 180 روپے کی سطح تک جانے کا امکان، خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مالیاتی ادارے کیساتھ معاہدے کے تحت اگلے 3 سال میں پاکستانی روپے کی قدر میں 20 فیصد کمی ہوگی، قیمت 200 روپے کی سطح تک بھی جا سکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق خلیجی خبر رساں ادارے خلیج ٹائمز کی جانب سے پاکستانی کرنسی کی بے قدری کے حوالے سے خصوصی رپورٹ شائع کی گئی ہے۔

خلیج ٹائمز کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں تشویش ناک پیشن گوئی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے کے تحت پاکستان میں ڈالر کی قیمت 180 روپے کی سطح تک جانے کا امکان ہے۔ خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مالیاتی ادارے کیساتھ معاہدے کے تحت اگلے 3 سال میں پاکستانی روپے کی قدر میں 20 فیصد کمی ہوگی۔

(جاری ہے)

قیمت 200 روپے کی سطح تک بھی جا سکتی ہے۔

ڈالر کی قدر بڑھنے سے پاکستان میں سعودی ریال، اماراتی درہم اور دیگر غیر ملکی کرنسیوں کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب اس حوالے سے ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر دسمبر تک 200 روپے  اور آئندہ جون تک 250 روپے تک جا سکتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا ک اگر امپورٹڈ میٹریل اہم عہدوں پر لگایا جائے گا تو یہ لوگ ادارے فروخت کر دیں گے۔

تحریک انصاف کے رہنما ہمایوں اختر کا کہنا تھا کہ میں لگتا ہے کہ ڈالر 155 پر آکر رک جائے گا۔خیال رہے ڈالر کی قیمت میں کل تیسری مرتبہ اضافہ ہوا تھاجس کے تحت ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جبکہ روپے کی بے قدری جاری ہے۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں ایک روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد ڈالر کی قیمت 151 روپے ہو گئی۔ جبکہ انٹربینک مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت میں ایک روپیہ 35 پیسے کا اضافہ ہوا۔

خیال رہے کہ اوپن مارکیٹ میں کل کے دن ڈالر کی قیمت میں چار روپے جبکہ دو روز کے دوران 7 روپے کا اضافہ ہوا۔اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں تین روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد ڈالر 147 سے 150 روپے پر آ گیا تھا۔ شئیر بازار میں بھی شدید مندی دیکھنے میں آئی،سرمایہ کاروں کے 150 ارب روپے ڈوب گئے۔ کاروبار کے دوران 100 انڈیکس میں 965 پوائنٹس کی کمی بھی ہوئی۔

جس کے تحت انڈیکس تین سال چار ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا۔ڈالر کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمت اور روپے کی بے قدری پر معاشی ماہرین نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ کل صبح انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں ایک روپیہ 48 پیسے کا اضافہ ہوا جس کے بعد ڈالر کی نئی قیمت 148 روپے ہو گئی۔ کاروباری دن کے آغاز پر ڈالر 148 روپے فروخت ہوتا رہا۔ تاہم اب اوپن مارکیٹ میں ڈالر150 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جبکہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 149 روپے ہو گئی ۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے پٹرول کی قیمت میں بھی اضافہ ہونے کا قوی امکان ہے اور اگرپٹرول کی قیمت بڑھی تو ملک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا جس میں ملک کی غریب عوام مزید پس جائے گی۔