سہارا تو ہی تھا بیٹا، میرے ا ن بوڑھے ہاتھوں کا، ابھی تو ہاتھ جوڑے تھے، تیری لمبی عمر مانگی تھی

بتا ان کانپتے ہاتھوں سے، جواں سالہ کی تربت پہ میں مٹی خاک ڈالوں گا۔ قمرالزمان کائرہ کی اپنے بیٹے کی موت پر شئیر کی نظم نے تمام آنکھیں اشک بار کر دیں

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ اتوار مئی 16:45

سہارا تو ہی تھا بیٹا، میرے ا ن بوڑھے ہاتھوں کا، ابھی تو ہاتھ جوڑے تھے، ..
لاہور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19مئی2019ء) جمعہ کے روز پاکستان پیپلز پارٹی سنٹرل پنجاب کے صدر ،سابق وفاقی وزیر چودھری قمر زمان کائرہ کا کا 18سالہ بیٹا اسامہ قمر جوکہ گورنمنٹ کالج لاہور میں فرسٹ ائیر کا طالب علم تھا
اسامہ قمر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا انٹر کا طالب تھا
اسامہ قمر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا انٹر کا طالب تھا
جمعہ کو اپنے دوستوں کے ہمراہ کھاریاں سے سفید رنگ کی گاڑی DS-447 میں واپس لالہ موسیٰ آرہا تھا کہ ٹراما سینٹر لالاموسیٰ کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سوار کو بچاتے ہوئے کار قابو میں نہ رکھ سکا جس کے نتیجے میں کار درخت سے جا ٹکرائی۔

حادثے کے نتیجے میں اسامہ قمر کا جوگاڑی خود چلا رہا تھا موقع پر جاں بحق ہوگیا جبکہ اس کا دوست حمزہ بٹ ٹراما سنٹر میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا جبکہ اسامہ کی گاڑی بری طرح تباہ ہوگئی۔

(جاری ہے)

حادثہ کی خبر پھیلتے ہی ہسپتال میں سینکڑوں کی تعداد ان کے گھر پہنچے۔ قمر زمان کائرہ کو حادثے کی اطلاع اسلام آباد میں زرداری ہاوٴس میں پریس کانفرنس کے دوران دی گئی جس کے بعد وہ فوری لالہ موسیٰ چلے گئے۔

قمر الزمان کائرہ نے بیٹے کی تدفین سے پہلے ٹویٹر پر چند اشعار شئیر کیے جنہیں پڑھ کر ہر آنکھ اشک بار ہو گئی۔ انہوں نے لکھا: ”سہارا تو ہی تھا بیٹا، میرے ا ن بوڑھے ہاتھوں کا، ابھی تو ہاتھ جوڑے تھے، تیری لمبی عمر مانگی تھی،بتا ان کانپتے ہاتھوں سے، جواں سالہ کی تربت پہ میں مٹی خاک ڈالوں گا“۔
اس نظم کو پڑھنے والی ہر آنکھ اشک بار ہو گئی اور تمام لوگ دکھ کی اس گھڑی میں قمرالزمان کائرہ کے ساتھ ہیں۔ اسامہ قمرکی تدفین ہفتے کے روز کر دی گئی جس کے بعد قمرالزمان کائرہ نے دکھ و غم کی اس گھڑی میں ساتھ شریک ہونے والے افراد کا شکریہ ادا کیا ، انہوں نے مزید کہا کہ اسامہ اللہ کا انعام تھا ، اس نے واپس لیا،اللہ اکبر۔