I حکومت نے عالمی استعمار کے دبائو میں آ کر مدارس اور منبر و محراب کے خلاف کوئی قدم اٹھایا تو پوری قوم متحد ہو کر اس کی مزاحمت کرے گی ،مولانا حافظ محمد اسماعیل مینگل

اتوار مئی 21:16

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 مئی2019ء) جماعت اسلامی کے صوبائی نائب امیر مولانا حافظ محمد اسماعیل مینگل نے کہاکہ اگر حکومت نے عالمی استعمار کے دبائو میں آ کر مدارس اور منبر و محراب کے خلاف کوئی قدم اٹھایا تو پوری قوم متحد ہو کر اس کی مزاحمت کرے گی ۔ مساجد و مدارس پر قد غنیں لگانے سے معاشرہ انتشار کا شکار ہوگا ۔ حکمران اسلام مخالف رویہ ترک کردیں اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کسی عالمی دبائو کو قبول نہ کیا جائے انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ حکومتوں کی ناکامی کے بعد عوام نے پی ٹی آئی حکومت سے جو توقعات قائم کی تھیں وہ پوری نہیں ہوسکیں ۔

مدینہ کی طرز پر ریاست کے نعرے پر برسراقتدار آنے والی حکومت عملاً اسلام اور آئین سے متصادم قانون سازی کر رہی ہے ۔

(جاری ہے)

اسلامی نظریے اور تشخص کو ختم کرنے کے لیے سوچے سمجھے منصوبے پر عمل کیا جاہاہے ۔ ہم حکومت کے ان اقدامات کو مسترد کرتے ہیں اور حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنا ا سلام اور نظریہ پاکستان دشمن رویہ چھوڑ دے ۔ اس وقت پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین نظریاتی اور معاشی بحران سے دوچار ہے ۔

دشمن چاروں طرف سے ہم پر حملہ آور ہے اور نان ایشوز کی بنیاد پر آئین پاکستان سے کھلواڑ کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں ۔ یہ بدقسمتی ہے کہ بہت ہی قلیل مدت میں حکومتی تضادات ، بے عملی ، بد تہذیبی اور بد زبانی نے عوام کی ساری امیدوں اور توقعات کو خاک میں ملا دیاہے ۔ معاشی زبوں حالی اور سودی معیشت نے ملکی ترقی کا پہیہ الٹا گھمادیاہے ۔ ہم چاہتے ہیںکہ ملک میں آئین کی بالادستی ہو ، لاپتہ افراد کو بازیاب ہونا چاہیے ۔

انہوںنے کہاکہ حکومت کی مخالفانہ سرگرمیوں سے صوبوں کے اندر وفاق کے خلاف نفرت پیدا ہورہی ہے ۔ مدارس قرآن و سنت کے پیغام کو عام کرنے کا ذریعہ ہیں ان کے خلاف حکومتی رویہ ناقابل برداشت ہے ۔ دینی مدارس کی آڈٹ رپورٹس پہلے ہی حکومتی اداروں کے پاس جمع ہوتی ہیں اور دینی مدارس نے کبھی آڈٹ اور رجسٹریشن سے انکارنہیں کیا۔