عید الفطر کے بعد مہنگائی، بے روزگاری اور آئی ایم ایف کی غلامی کے خلاف تحریک چلائیں گے،سینیٹر سراج الحق

عوام پر مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جارہا ہے ،اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہاہے ،کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب ہے لیکن پانی اور بجلی کی سہولتوں سے محروم ہیں،امیر جماعت اسلامی

پیر مئی 23:34

عید الفطر کے بعد مہنگائی، بے روزگاری اور آئی ایم ایف کی غلامی کے خلاف ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 مئی2019ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں اور بد اعمالیوں کے باعث وسائل سے مالا مال اور بہترین افرادی قوت کی صلاحیت کا حامل ملک بیرونی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اور موجودہ حکمران آئی ایم ایف سے مزید قرضے لے رہے ہیں، عوام پر مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جارہا ہے، اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہاہے، عوام کے لیے کوئی ریلیف نہیں ہے،کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب ہے لیکن پانی اور بجلی کی سہولتوں سے محروم ہیں۔

جماعت اسلامی مظلوموں، مزدوروں اور غریب عوام کی ترجمانی کرے گی اور عید الفطر کے بعد مہنگائی، بے روزگاری اور آئی ایم ایف کی غلامی کے خلاف تحریک چلائیں گے۔

(جاری ہے)

عوام ایک اسلامی،خوشحال اور بیرونی قرضوں سے آزاد پاکستان کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔جماعت اسلامی ملک میں اسلام کے عادلانہ اور منصفانہ نظام کی جدوجہد کریں،اسلامی نظام اور شریعت محمدی ? کے نفاذ سے ہی عوا م کے مسائل حل ہوں گے اور ملک بحرانوں سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع شرقی کے تحت محکمہ موسمیات گلستان جوہر میں عوامی دعوت ِافطار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ افطار میں ضلع شرقی کے عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔دعوت ِافطار سے امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ محمد حسین محنتی،امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن اورسکریٹری ضلع ڈاکٹر فواد احمد نے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پرنائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اسد اللہ بھٹو،نائب امرائ کراچی برجیس احمد، ڈاکٹر اسامہ رضی، مسلم پرویز،ڈپٹی سکریٹری یونس بارائی،ضلع شرقی کے امیر سید شاہد ہاشمی،سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ودیگر بھی موجود تھے۔ سینیٹر سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہا کہ دنیا اور آخرت میں ساری انسانیت کی کامیابی دین اسلام میں ہے، 6ارب انسان دنیا میں موجود ہیں، لیکن امت مسلمہ کی حیثیت ومقام دنیا اورآخرت میں بلند ہے، اس کی فضیلت کا سبب یہ ہے کہ یہ امت وہی کام کرے گی جس کے لیے دنیا میں تمام انبیائ کرام ?لائے تھے اور وہ کام یہ ہے کہ تمام انسانوں کو حق وسچ اورتوحید کی دعوت دیناہے، اللہ کے دین کو دنیا میں نافذ کرنا ہے۔

نبی کریم ? نے بھی دین کی اقامت کے لیے مکہ میں بے شمار صعوبتیں اٹھائیں اور دین کی سر بلندی کے لیے مکہ سے مدینہ ہجرت کی۔ان کی ساری جدوجہد ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ہم اللہ کی رضا حاصل کریں اورجنت میں داخل ہوں، اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اقامت دین کی جدوجہد کریں اور اپنے لیے جنت کو حاصل کریں۔فریضہ اقامت دین اور اسلامی حکومت قائم کرنے کا کام آج ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج دنیا میں 57اسلامی ممالک ہیں لیکن کسی جگہ اللہ کا دین حقیقی معنوں میں غالب اور حکمران نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی پاکستان بنائیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں بھی رحمتیں اور برکتیں عطا فرمائے گا۔ایک اسلامی پاکستان ہوگا تو کشمیر اور فلسطین بھی آزاد ہوگا۔ملک میں بڑی معدنیات موجود ہیں، ملک ایک ایٹمی قوت اور طاقت اور نوجوانوں کی تعداد بہت زیاد ہ ہے لیکن بدقسمتی سے حکمرانوں کی بد اعمالیوں کے باعث ملک کے عوام مسائل سے دوچار ہیں۔

انہوں نے کہاکہ حکمرانوں نے ملک کے اندر ایک دن کے لیے بھی اسلام نافذ نہیں کیا۔آج ہمارے اور چین کے تعلقات کی بہت باتیں کی جارہی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ اب مسائل حل ہوں گے، یہ حکمران مسائل حل کرانے کی صلاحیت نہیں رکھتے،ملک کے اندر سول اور فوجی حکمران بر سر اقتدار رہے لیکن اللہ کے دین سے بے وفائی کی گئی،موجودہ حکومت بھی سابقہ حکمرانوں کی طرز پر عمل پیرا ہے،موجودہ معاشی پالیسی، پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی پالیسی ہے جو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ایمائ پر بنائی گئی ہے۔

محمد حسین محنتی نے کہاکہ رمضان المبارک میں قرآن کی تلاوت، نماز تراویح، روزوں سے ایک خوبصورت ماحول بن جاتا ہے،ہمیں چاہیئے کہ رمضان المبارک کے بعد بھی اسی ماحول کو برقرار رکھیں اور اس ماہ مبارک میں جو تربیت ہمیں ملتی ہے اس کے اثرات سال کے باقی گیارہ مہینے میں بھی قائم رکھیں اور قرآن کو نافذ کرنے کی جدوجہد کریں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ رمضان المبارک برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے، نزول قرآن کا مہینہ ہے،یہ رمضان ہمیں پیغام دے رہا ہے کہ ہم قرآن سے اپنے تعلق کو مضبوط کریں اور قرآ ن کے نفاذ کی تحریک کاحصہ بنیں،قرآن کے احکامات کو نافذ کرنے سے ہی ہمارے مسائل حل ہوں گے۔#