Live Updates

دوبڑوں کو چھوڑ دیا جائے تو اپوزیشن کے غبارے سے ہوانکل جائے گی؛ صمصام بخاری

یہ چارٹرآف ڈیموکریسی نہیں بلکہ چارٹرٹو پروٹیکٹ کرپشن ہے،جس اے پی سی کی صدارت مولانا فضل الرحمن کرینگے اس کی کریڈیبلٹی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں،کاش افطار ڈنر کے شرکاء ایک دوسرے سے پیٹ پھاڑنے اور گھسیٹنے کا بھی ذکر کر لیتے،عمران کرپشن پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرینگے، کرپشن ختم کرنے کیلئے چھوٹے آپریشن کی نہیںمیجر سرجری کی ضرورت ہے،اے پی سی اور حکومت مخالف تحریک سے دونوں پارٹیاں عوام میں اپنی رہی سہی ساکھ بھی کھو دیں گی،افطار پارٹی 2013 کی سندھ تمہارا پنجاب ہمارا ڈیل کی کڑی ہی؛ صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت کا اپوزیشن کی اے پی سی پر رد عمل

پیر مئی 23:39

دوبڑوں کو چھوڑ دیا جائے تو اپوزیشن کے غبارے سے ہوانکل جائے گی؛ صمصام ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 مئی2019ء) صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت سید صمصام علی بخاری نے کہا ہے کہ یہ چارٹر آف ڈیموکریسی نہیں بلکہ چارٹر ٹو پروٹیکیٹ کرپشن ہے۔ جس اے پی سی کی صدارت مولانافضل الرحمن کریں گے اس کی کریڈیبلٹی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔اپنے ایک بیان میں اپوزیشن کی طرف سے اے پی سی بلانے پر ردعمل دیتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ کہ اگر اپوزیشن اے پی سی بلائی بھی ہے تو اس کی قیادت ایسے سیاستدان سے کرائی جاتی جس کے دامن پر کوئی داغ نہ لگا ہوتااور وہ پارلیمنٹ کا ممبر بھی ہوتا- جن لوگوں نے قوم کو درد دیا اب وہی دوا دینے کی کوشش کررہے ہیں اور اے پی سی کے نام پر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ افطار پارٹی دراصل 2013 کی اس ڈیل کی کڑی ہے جس میں دونوں بڑی پارٹیوں نے سندھ تمہارا پنجاب ہمارا کا معاہدہ کیا تھا۔

(جاری ہے)

کاش اس افطار ڈنر کے شرکاء ایک دوسرے سے پیٹ پھاڑنے اور گھسیٹنے کا بھی ذکر کرلیتے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ اسے پی سی کی اہمیت محض اتنی ہی ہے کہ اگر آج دو بڑوں کو چھوڑ دیا جائے تو اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی۔

اے پی سی اور حکومت مخالف تحریک سے نواز لیگ اور پیپلز پارٹی اپنی رہی سہی ساکھ بھی کھو دے گی۔ قوم سب چوروں کا اکٹھے مل کر شور مچانا دیکھ رہی ہے۔ ان کا اصلہ مسئلہ ملک سے فرار اور کیسوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان صحیح کہتے ہیں کہ ملک توڑنے والے عناصر اب اکٹھے ہو جائیں گے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ عمران خان کریشن پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

درحقیقت ملک سے کرپشن کے خاتمے کیلئے چھوٹے آپریشن کی نہیں بلکہ میجر سرجری کی ضرورت ہے۔ کیونکہ دونوں پارٹیوں کی اپنی پارٹی کی منی لانڈرنگ سے متعلق میڈیا میں آ نے والے حقائق چشم کشا ہیں۔ ان حقائق کی روشنی میں نیب جب سابق حکمرانوں کے خلاف شکنجہ کسنے لگتی ہے تو یہ لوگ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق چیخنے چلانے لگتے ہیں۔
وزیراعظم حاضر ہے سے متعلق تازہ ترین معلومات