مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں دواورکشمیری نوجوا ن شہید

شہداء کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت

بدھ مئی 17:20

سری نگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 22 مئی2019ء) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران بدھ کو ضلع کولگام میں دو اورکشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے نوجوانوں کوضلع کے علاقے گوپال پورہ میں بدھ کو علی الصبح تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران شہید کیا۔

شہید نوجوانوںکی شناخت زاہد احمد منٹواورعرفان منظور کے طورپر ہوئی ہے۔ زاہد شوپیاں کے علاقے فیری پورہ کا رہائشی تھا جبکہ عرفان کا تعلق کولگام کے علاقے Paonwhiسے تھا۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی فوجی کارروائی میں تین مکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ قابض انتظامیہ نے نوجوانوں کی شہادت کے فورابعد کولگام اور شوپیاں کے اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی۔

(جاری ہے)

دونوں اضلاع میں شہید نوجوانوں کے آبائی علاقوں میں ان کی متعدد مرتبہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگوںنے پابندیوںکو خاطر میں نہ لاتے ہوئے نماز جنازہ میں شرکت کی اور آزادی اور پاکستان کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے بلند کئے۔فوجیوںنے سرینگر ، شوپیاں ، پلوامہ اور بانڈی پورہ کے اضلاع کے مختلف علاقوںمیںتلاشی اور محاصرے کی کارروائیاں بھی شروع کیں۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے تین خصوصی نمائندوں کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں ظلم وتشدد اور قتل کے واقعات کے بارے میں بھارت سے جواب طلبی کا خیر مقدم کیا ہے۔ تاہم انہوںنے اقوام متحدہ پر مقبوضہ علاقے میں تعینات لاکھوں بھارتی فوجیوںکی طرف سے قتل عام ، ظلم و تشدد، جبری گرفتاریوں، دوران حراست قتل اور خواتین کی بے حرمتی کے واقعات کو رکوانے کیلئے مزید موثر کردار ادا کرنے پر زوردیا۔

کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی ایک بیان میں مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کے متاثرین کو انصاف کی فراہمی کیلئے بھارت کی طرف سے کئے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیلات طلب کرنے پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کاخیرمقدم کیا ہے۔ادھر بھارت نے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے شرمی سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو بتایا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں کونسل کی رپورٹ پر عالمی ادارے کے خصوصی نمائندوںکے ساتھ کوئی رابطہ نہیں رکھے گا۔

بھارتی روزنامہ دی ہندو کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے 2016سے 2018کے درمیان 58مراسلے بھیجے تاہم بھارت نے ان پر کوئی جواب نہیں دیا۔کشمیرکونسل یورپی یونین نے کشمیر کے حوالے سے یورپ میں اپنی دس لاکھ دستخطی مہم کے سلسلے میںبیلجیم کے دارلحکومت برسلز میں ایک روزہ دستخطی کیمپ لگایا۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے دستخطی مہم میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ کشمیرکونسل یورپی یونین کے چیئرمین علی رضا سیدنے اس موقع پر کہا کہ دستخطی مہم کا مقصد مقبوضہ کشمیر کے عوام پر بھارتی مظالم کو اجاگر کرنا ہے