حکومت کرنا بہت آسان ہے اور لڈو کھانے کے مترادف ہے، سراج الحق

حضرت عمر ؓ راتوں کواٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر روتے تھے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں مجھ سے پوچھے گا جبکہ ہمارا وزیر اعظم کہتا ہے کہ حکومت کرنا بہت آسان کام ہے اس لئے کہ چاروں طرف چاپلوس موجود ہوتے ہیں ،تعریف کرنے والے موجود ہوتے ہیں ،سب اچھا کی رپورٹ ملتی ہے، امیر جماعت اسلامی پاکستان

بدھ مئی 23:23

حکومت کرنا بہت آسان ہے اور لڈو کھانے کے مترادف ہے، سراج الحق
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 22 مئی2019ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کرنا بہت آسان ہے اور لڈو کھانے کے مترادف ہے اس لئے کہ شایدان کے سینے میں کوئی دھڑکنے والا دل نہیں۔ حکومت کرنا بہت مشکل کام ہے۔ حضرت عمر ؓ راتوں کواٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر روتے تھے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں مجھ سے پوچھے گا جبکہ ہمارا وزیر اعظم کہتا ہے کہ حکومت کرنا بہت آسان کام ہے اس لئے کہ چاروں طرف چاپلوس موجود ہوتے ہیں ،تعریف کرنے والے موجود ہوتے ہیں ،سب اچھا کی رپورٹ ملتی ہے ۔

حکومت کرنا ایک حساس انسان کے لئے بہت مشکل کام ہے ، یہ ایک آزمائش ہے ،یہ ایک امتحان ہے، ہم حکومت کو کچھ وقت دیتے ہیں کہ آئندہ گھنٹوں میں اپنی ذمہ داری پوری کرے اور فرشتہ مہمند کے قاتلوں کو، اغوا کرنے والوں کو اور اس کی عصمت کو تار ، تار کرنے والوں کو چوک میں ایسی سزا دے کہ تاکہ کل کوئی اور درندہ اور وحشی اس طرح کوئی اقدام نہ کرے ،وہ سبق سیکھے اور آئندہ نسلیں بھی اس سے سبق سیکھیں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد کے علاقہ شہزاد ٹائون میں اغوا اورزیادتی کے بعد قتل ہونے والی10سالہ بچی فرشتہ مہمند کے اہلخانہ سے ملاقات، فاتحہ خوانی اور اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ میں قوم کی جانب سے ننھی بچی فرشتہ مہمند کے والد گل نبی سے اظہار تعزیت کرنے اور معافی مانگنے آیا ہوں۔

اس واقعہ پر وزیر اعظم اور انتظامیہ نے بچی کے گھر آنے کی زحمت نہیں کی۔ اس واقعہ پر تو ساری ریاست کو حرکت میں آنا چاہئے تھا، ایسے المناک واقعہ کے بعد بھی حکومت پر کوئی اثر نہیں ۔ ایف آئی ار درج کرنے کے لئے بھی دھرنوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ انصاف اور انصاف دینے والے اندھے، گونگے اور بہرے ہو جاتے ہیں،حکومت کی ناک کے نیچے یہ واقعہ ہوا۔ بچی کے والد کو حوصلہ دینے کی بجائے دبائو ڈالا گیا۔

پانچ دن سے بچی اغوا ہے تو والدین پر کیا گزری ہو گی۔ہم شرمندہ ہیں رمضان میں بھی قوم کی بچی محفوظ نہیں،گھر سے افطاری کے سامان کے لئے نکلنے والی بچی اغوا ہو جاتی ہے ، مہذب معاشے میں جانور کے غائب ہونے پر بھی حکومت کارروائی کرتی ہے۔ بچی کا اغوا حکومت اور ہمارے معاشرے کی مجموی ناکامی ہے، قصور کی بچی زینب امین کے واقعہ کے بعد اس طرح کے دو ہزار اور واقعات ہو گئے ہیں، لیکن عزت کی وجہ سے لوگ بولتے نہیں ہیں، اپنے غم کو خود ہی کھانے پر مجبور ہیں،پولیس اصلاحات کے حکومتی دعوے کدھر گئی پوری دنیا میں پاکستان کا کیا تاثر بن گیا ہی انہوںنے کہا کہ میری بچی روز گھر سے سودا لینے نکلتی ہے اس معاشرے میں اس کے ساتھ بھی یہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیونکہ اس واقعہ میں ایک نعش ملی اس لیے معاشرے اور انتظامیہ کے لئے اس کو چھپانا مشکل تھا،ایف آئی درج کرنے کے لئے بھی ہمارے ملک میں دھرنوں کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر پوسٹمارٹم کے لئے بھی لوگوں نے احتجاج کیا، ہمارے معاشرے میں تو لوگ پوسٹمارٹم سے انکار کرتے تھے لیکن یہاں پوسٹمارٹم کا مطالبہ والدین کی جانب سے ہے، معاشرے کی طرف سے ہے اور اس میں بھی انتظامیہ نے لم لیٹ کیا ہے ۔

کہاں جائے ایک غریب آدمی ، کس دروازے پر دستک دے، کہاں سے انصاف ملے گا۔ میرا تو خیال تھا یہ کوئی وزیرستان کا مسئلہ نہیں ہے، یہ کوئی کراچی کا مسئلہ نہیں ہے، بالکل چند قدم پر یہاں وزیر اعظم ہے، چند قدم پر یہاں صدر پاکستان ہے، چند قدم پر آئی جی اسلام آباد ہے اور چند قدم پر یہاں پوری حکومت موجود ہے ۔ کاش اس ملک کے حکمران اس بچی کو اپنی بچی سمجھتے تو وہ یہاں آکر فرش پر گل نبی کے ساتھ بیٹھتے۔

یہاں کراچی ، لاہور ، پشاور ، سوات سے لوگ پہنچے ہیں لیکن اندھے ، بہرے اور گونگے حکمران جب تک لوگ احتجاج نہ کریں یہ نہ سنتے ہیں ، نہ دیکھتے ہیں اور نہ محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمر بن عبدالعزیز جس دن حکمران بن گئے وہ گھر آئے تو ان کا چہرہ زرد ہو گیا تھا ، ان کے آنسو بہہ رہے تھے اور ان کی اہلیہ فاطمہ نے ان سے پوچھا کہ یہ تو خوشی کا دن ہے لیکن عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا کہ ساری امت کا بوجھ میرے اوپر ڈالا گیا ہے اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے پوچھے گا اور عوام کے سامنے بھی میں جوابدہ ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کرنا بہت مشکل کام ہے۔انہوں نے کہا کہ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ اگر ایران کی گلیوں میں کسی گھوڑے نے بھی ٹھوکر کھائی تو اس کہ بارے میں بھی میں جوابدہ ہوں ،اس لئے کہ میں نے راستہ ٹھیک نہیں بنایا ہو گا تبھی تو جانور ٹھوکر کھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک اسلامی معاشرے میں ،مسلمانوں کے معاشرے میں حکومت آزمائش ہوتی ہے ،حکومت عیش اور عشرت کا نام نہیں ہے، حکومت وی آئی پی اسٹیسٹس سے لطف اندوز ہونے کا نام نہیں ہے۔

میں اپنے بھائی گل نبی کے پاس آیا ہوں، کچھ لوگوں نے اس واقعہ کو لسانیت اور قومیت کا رنگ دینے کی کوشش کی، بچی تو بچی ہے وہ پشتو بولنے والی ہو، وہ پنجابی بولنے والی ہو، وہ سندھی بولنے والی ہو، اردو بولنے والی ہو یا سرائیکی بولنے والی ہو،بچی تو بچی ہے وہ ہم سب کی ہے اس لئے بعض میڈیا اور چینلز نے ہمارے معاشرے میں نفرت کی زہر پھیلانے کی کوشش کی ہے ،ہمیں ان کے اس رویہ پر افسوس ہے۔

یہاں کوئی پنجابی اور سندھی کی بات نہیں ہے،بلکہ یہاں ہندو ، سکھ اور کوئی غیر مسلم کی بچی کی جان اور مال کی حفاظت بھی اتنی ہی ہماری ذمہ داری ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں فرشتہ محفوظ نہیں ہے تو پھر یہاں کوئی انسان محفوظ نہیں رہے گا، ہم حکومت کو خبردار کرتے ہیں کہ عوامی دبائو کے بعد انہوں نے قصور کی ساری آبادی میں پھر وہی کیا جو پہلے مرحلہ میں کرتے تو اچھا ہوتا، ہمیں مجبور نہ کریں، لوگوں کے صبر کاامتحان نہ لیں، لوگوں کو خود اسلام آباد کی طرف آپ لانا نہیں چاہتے ہیں تو اس فرشتہ کے کیس کو اپنی ماں،اپنی بہن، اپنی بیٹی اور اپنے گھر کی ملکہ کی طرح ان کی عزت کو ان کی نعش کو وہ سمجھ کر ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ میں بھی اپنے بھائی گل نبی کے ساتھ موجود ہوں اورجماعت اسلامی حلقہ خواتین کی پورے ملک کی قیادت بھی یہاں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ یہاں کے ایس ایچ او کا رویہ ٹھیک نہیں، میں ایس ایچ او کے رویہ کی بات نہیں کرتا، یہاں کے آئی جی کا رویہ ٹھیک ہونا چاہیئے، یہاں کے صدر ، وزیر اعظم کا رویہ ٹھیک ہونا چاہیئے، یہاں وزیر اعلیٰ پنجاب اور گورنر پنجاب کو آنا چاہیئے تھا اور ایس ایچ او تو عام درجہ کا ذمہ دار ہے اور اس کو تو بطریق اولیٰ یہاں چوکیداری کرنی چاہیئے تھی اور پانچ دن تو اسے یہاں ہی رہنا چاہیئے تھا،یہاں کیمپ لگانا چاہیئے تھا،یہاں کا ایم این اے ہونا چاہیئے تھا، یہاں اسلام آباد اور راولپنڈی کے ایم این ایز کو ہونا چاہیئے تھا ، یہاں اسمبلی کے تمام ممبران ہونے چاہئیں تھے اور یہاں کیمپ لگا نا چاہیئے کہ جب تک اس قاتل کو نہ پکڑے ہمارا یہ کیمپ ادھر رہے گااور ایم این اے اور ایم پی اے یہاں پر رہیں، یہ ہے قوم کی قیادت کرنا، لڈو کھانا اور چینل پر آکر لوگوں کو سبز باغ دکھانا ، جھوٹ بولنا اور جھوٹے وعدے کرنا ، غلط اعلانات کرنا، یہ ایک دھوکہ باز تو ہو سکتا ہے ، یہ ایک حقیقی قیادت نہیں ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم گل نبی خان کے ساتھ ہے۔میں میڈیا کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں میڈیا نے ہمیشہ ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے اگر یہی میڈیا قصور کی بچی زینب کی پشت پر کھڑی نہ ہوتا تو وہ بھی خس کم جہاں پاک کی طرح ساری کہانی ہی غائب ہوتی ۔ یہ بھی ہمارے اسلام آباد اور پاکستان کا ایک اہم کیس ہے ۔ میں میڈیا اور پاکستان کے تمام ذمہ دار لوگوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ خدا کے لئے ہم سب نے مل کر اس قاتل کو نشان عبرت بنانا ہے تاکہ ہر گھر میں فرشتہ محفوظ رہے اور پر گھر میں زینب محفوظ رہے اور گھر میں ماں، بیٹی اور بہن محفوظ رہے۔