نوجوان متحرک ، منظم اور بیدار ہوں گے تو کرپٹ اشرافیہ اور نااہل حکمرانوں سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے ، لیاقت بلوچ

آئی ایم ایف کی غلامی اور سود کی لعنت کبھی اقتصادی بحران سے نجات نہیں دلاسکتی ، اسلام کے معاشی نظام اور زکوٰة کے سنہری اصولوں پر عمل کرنے سے ہی معاشی حالات اور معیشت میں بہتری ممکن ہے ،وزراء کچرے کے ڈھیروں پر کھڑے ہوکر سیلفیاں بناتے ہیں ان کو جواب دیناہوگا کہ وہ حکومت کا حصہ ہیں ،عید الفطر کے بعد مہنگائی ، بے روزگاری اور آئی ایم ایف کی غلامی کے بعد کراچی میں تحریک شروع کرے گی،نائب امیر جماعت اسلامی

جمعرات مئی 00:25

نوجوان متحرک ، منظم اور بیدار ہوں گے تو کرپٹ اشرافیہ اور نااہل حکمرانوں ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 22 مئی2019ء) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ نوجوان پاکستان کا مسقبل ہیں ، نوجوان متحرک ، منظم اور بیدار ہوں گے تو کرپٹ اشرافیہ اور نااہل حکمرانوں سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے ،آئی ایم ایف کی غلامی اور سود کی لعنت کبھی اقتصادی بحران سے نجات نہیں دلاسکتی ، اسلام کے معاشی نظام اور زکوٰة کے سنہری اصولوں پر عمل کرنے سے ہی معاشی حالات اور معیشت میں بہتری ممکن ہے ،وزراء کچرے کے ڈھیروں پر کھڑے ہوکر سیلفیاں بناتے ہیں ان کو جواب دیناہوگا کہ وہ حکومت کا حصہ ہیں ، یہ ڈرامہ کر کے عوام کو کیوں بے وقوف بنارہے ہیں ۔

جماعت اسلامی ملک بھرکے عوام کو متحرک کرے گی ، عید الفطر کے بعد مہنگائی ، بے روزگاری اور آئی ایم ایف کی غلامی کے بعد کراچی میں تحریک شروع کرے گی۔

(جاری ہے)

16جون کو فیصل آباد میں عظیم الشان احتجاجی مارچ ہوگا۔،امریکہ اور عالمی مالیاتی اداروں کی غلامی ہرگز قبول نہیں کی جائے گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع غربی کے تحت اورنگی ٹاؤن فقیر کالونی میں عوامی دعوت ِافطار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

افطار میں ضلع غربی کے عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔دعوت ِافطارسے قائم مقام امیر ضلع غربی فضل احد حنیف نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر ڈپٹی سکریٹری کراچی یونس بارائی، سابق رکن قومی اسمبلی لئیق خان ،چیئرمین یوسی 21ہریانہ کالونی عبد القیوم ودیگر بھی موجود تھے ۔لیاقت بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہا کہ عالم اسلام بڑے مسائل کاشکار ہے ، کشمیر اور فلسطین میں مظالم روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے ۔

امریکہ ،افغانستان میں شکست کھارہی ہے ،روس کے بعد امریکہ بھی افغانستان میں ہار رہا ہے لیکن افغانستان کی سر زمین پر بھارت اور اسرائیل سازشوں میں مصروف ہیں ۔انہوں نے کہاکہ عالم اسلام کے اندر کشیدگی اور تعلقات میں خرابی عالمی سامراجی ایجنڈے کا حصہ ہے اس کا مقابلہ اتحاد امت کے بغیر ممکن نہیں ،امریکہ کبھی مسلمانوں کا دوست نہیں ہوسکتا ۔

مسلمانوں کو اپنے دشمن کو پہچاننا چاہیئے ۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان کی قیادت حکومت پاکستان کشمیر اور افغانستان کے حوالے سے کوئی جرأت مندانہ پالیسی اپنانے پر تیار نہیں ہے ۔غیر ت اور حمیت سے عاری حکمران ملک و ملت کے لیے خطر ناک ہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے ، ہمارے پاس نظریاتی طاقت ہے اور ملک بے پناہ مسائل سے مالا مال ہے لیکن حکمرانوں نے اس عظیم ملک کو برباد کردیا ہے ، عوام کو بنیادی ضروریات زندگی میسر نہیں ہے ،اورنگی ٹاؤن میں آج ہم نے دیکھا ہے کہ سڑکوں ، صفائی ستھرائی اور پانی کی صورتحال انتہائی خراب ہے ، عوام بے شمار مسائل میں گھرے ہوئے ہیں ۔

انہو ں نے کہاکہ نئی حکومت آگئی 10ماہ ہوگئے لیکن نقیب اللہ مسعود کے مقدمے کے کیا بنا،معصوم بچی فرشتہ کی بے حرمتی کی گئی اور قتل کیا گیا ، یہ واقعات ختم نہیں ہورہے ہیں ملک کے اندر بے حیائی عام ہے ، قادیانیت کی سرپرستی اور سرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہورہی ہیں ،مدارس او مساجد کے راستے میں روکاٹیں ہیں ، فاٹا کے پی کے میں ضم ہوگیا لیکن قبائلی عوام کو ان کا حق نہیں ملا ۔

انہوں نے کہاکہ معیشت تباہ ہوگئی ہے ،ڈالر اونچی اڑان اڑ رہا ہے ، روپے کی بے توقیری ہورہی ہے تجارت پیشہ طبقہ پریشان ہے ، کرپشن کم نہیں ہوئی ، احتساب کے نظام کو ناکارہ بنایا گیا ، پنامہ لیکس میں 436لوگ اور نیب کے 150سے زائد میگا اسکینڈل کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔ماہ رمضان میں اللہ کی رحمت سے صاحبان ایمان مستفید ہوتے ہیں اور ہر طرف نیکیوں اور رحمتوں کا ماحول پیدا ہوجا تا ہے ، لوگ نیکی کی طرف بڑھتے ہیں اور برائی سے بچتے ہیں ضروری ہے کہ ہم رمضان المبارک کے بعد بھی اسی رنگ اور ماحول کو برقرار رکھیں ،رمضان میں قرآن اور نمازوں سے جو تعلق پیدا ہوا ہے اسے آئندہ بھی جاری رکھیں اور قرآن کے نظام کو اللہ کی زمین پر نافذ کرنے کی جدوجہد کریں ،دین کو غالب کریں ، دین پر عمل کرنے سے ہی ہمارے مسائل حل ہوں گے ۔

انہوں نے کہاکہ روزے میں کامیاب وہ ہے جس نے روزے کی حفاظت کی ہے ، جھوٹ ،غیبت فریب ، ناپ تول میں کمی کرنے کے عمل سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں ۔ہمیں دوسروں کو معاف کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے ، ہم اللہ تعالیٰ سے خود تو بہت معافی مانگتے ہیں لیکن آپس میں ایک دوسرے کو معاف کرنے کا جذبہ نہیں رکھتے اس لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو معاف کرنے والے بنیں ۔#