نواز شریف اور زرداری کو کسی صورت نہیں چھوڑنا۔ وزیراعظم کا چئیرمین نیب کو پیغام

وزیراعظم عمران خان کس بات کی وجہ سے چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال پر دباؤ ڈال رہے ہیں؟ سینئیر صحافی نجم سیٹھی نے بڑا دعویٰ کر دیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات مئی 11:17

نواز شریف اور زرداری کو کسی صورت نہیں چھوڑنا۔ وزیراعظم کا چئیرمین نیب ..
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 مئی 2019ء) : معروف صحافی نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال پر عمران خان کا سخت پریشر ہے۔دوران پروگرام گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ چئیرمین نیب پر عمران خان کی طرف سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔اور عمران خان نے انہیں کہا ہے کہ نواز شریف اور آصف زردای کو چھوڑنا نہیں ہے۔حمزہ شہباز اور آصف زرداری کو گرفتار کر کے جیل میں کیوں نہیں ڈالا جاتا؟،شہباز شریف ملک سے باہر کیسے چلے گئے۔

ان تمام باتوں کے جواب میں چئیرمین نیب کہتے ہیں کہ میں کام کر رہا ہوں اور قانون کے مطابق چل رہا ہوں۔اس تمام صورتحال میں چئیرمین نیب بہت پریشان ہیں،وہ شاہد یہ سوچتے ہیں کہ میں اپوزیشن کو تھوڑا ٹائٹ کروں گا۔پھر انہوں نے سوچا کہ ایسا کرنے سے وزیراعظم عمران خان تو خوش ہو جائیں گے تاہم مجھ پر الزام لگنا شروع ہو جائیں گے۔

(جاری ہے)

تو پھر انہوں نے کہہ دیا کہ پرویز خٹک کو بھی پکڑ لیں گے تاکہ کام تھوڑا بیلنس ہو جائے۔

یہی وجہ ہے کہ چئیرمین نیب نے کہا تھا کہ ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں مجھے پسند نہیں کرتیں۔واضح رہے ان دنوں چئیرمین نیب کا صحافی کو دیا گیا انٹرویو بھی خبروں کی زینت بنا ہوا ہے۔خیال رہےکہ معروف صحافی و کالم نگار جاوید چوہدری نے حال ہی میں چئیرمین نیب سے ہونے والی ملاقات کے احوال پر مبنی کالمز لکھے جس کی نیب نے سختی سے تردید کی۔

انہوں نے اپنے کالمز میں بتایا کہ چئیرمین نیب کا کہنا تھا کہ مجھ پر کافی دباؤ ہے ، مجھے عہدہ چھوڑنے اور صدر پاکستان بنانے کی پیشکش بھی کی گئی لیکن میں نے انکار کر دیا۔ اپنے کالم میں جاوید چودھری نے ملاقات کی تفصیلات بیان کیں لیکن نیب کے مطابق جسٹس (ر) جاوید اقبال نے جاوید چودھری کو کوئی انٹرویو نہیں دیا۔ چئیرمین سے جو باتیں منسوب کی گئیں وہ درست نہیں اور ان کی تردید ذرائع ابلاغ میں نشر کی جا چکی ہے۔صحافی نے حقائق بیان نہیں کیے اور کالم میں خود ہی کئی باتوں کی وضاحت بھی کر رکھی ہے۔ نیب کے مطابق کالم میں کچھ شخصیات اور کیسوں سے متعلق جو بیان کیا گیا وہ درست نہیں اور ادارہ اس پر پہلے ہی تردید جاری کرچکا ہے۔ لیکن جاوید چوہدری اپنے دعوے اور انکشافات پر قائم ہیں۔