سعودی اسپتال سے نوزائیدہ بچی اغوا کرنے والی خاتون گرفتار کر لی گئی

پچاس سالہ ملزمہ نے خود کو نرس ظاہر کر کے یہ گھناﺅنی واردات انجام دی

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات مئی 14:10

سعودی اسپتال سے نوزائیدہ بچی اغوا کرنے والی خاتون گرفتار کر لی گئی
جدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،23 مئی 2019ء) سعودی پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جدہ کے ہسپتال سے نوزائیدہ بچی کو اغوا کرنے والی خاتون گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس واقعے کی خبر منظر عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر بھونچال آ گیا تھا۔ پولیس کے مطابق جدہ کے اسپتال میں ایک خاتون خود کو نرس ظاہر کر کے چند گھنٹوں پہلے پیدا ہونے والی بچی کو لے کر فرار ہو گئی تھی۔

یہی خاتون بعد میں جدہ کے ایک اور اسپتال میں بھی پائی گئی۔ پولیس کی جانب سے تفتیش کے بعد ملزمہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ ملزمہ ایک سعودی خاتون ہے جس کی عمر 50 سے 55 سال کے درمیان ہے۔ اس خاتون کو گرفتار کرنے کے بعد اُس سے بچی بازیاب کرائی جا چکی ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ بچی کو دوبارہ اپنے ہاتھوں میں پا کر خوشی سے سرشار والد حُسین احمد نے اغوا کار خاتون کی گرفتاری پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

(جاری ہے)

مقامی اخبار عکاظ سے بات کرتے ہوئے حُسین محمد کا کہنا تھا ”یہ ایک بہت تکلیف دہ واقعہ تھا۔ ہم بہت اذیت سے گزرے تاہم اس دوران ہمیں عوام کی جانب سے بھرپور حوصلہ اور تسلّی دی گئی۔ مجھے سمجھ نہیں میری بیٹی اغوا کیسے ہوئی؟ یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ ایک خاتون اسپتال کی نرس کا رُوپ دھار کر اس طرح میری بچی کو اغوا کر کے لے جائے؟“ بچی کے والدین کی جانب سے اُس کا نام نُور رکھا گیا ہے۔واضح رہے کہ اپنی پیدائش کے چند گھنٹوں بعد ہی اغوا کی جانے والی بچی کا معاملہ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا تھا۔ اس افسوس ناک معاملے پر ٹویٹر پربنائے گئے #A Baby is kidnapped in Jeddah کے ہیش ٹیگ نے لاکھوں عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی تھی۔