ترک حکومت اور عوام نے 2005 ء کے زلزلے کے بعد آزاد کشمیر اور پاکستان میں کئی معیاری تعلیمی ادارے قائم کیے، صد رآزاد کشمیر سردار مسعود خان کا تقریب سے خطاب

جمعرات مئی 14:53

ترک حکومت اور عوام نے 2005 ء کے زلزلے کے بعد آزاد کشمیر اور پاکستان میں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 مئی2019ء) صد رآزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی تعلیم اور معیشت میں مہارت حاصل کر کے نہ صرف اپنے عوام کو ترقی و خوشحالی سے ہمکنار کر سکتے ہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کی قیادت و سیاحت کی ذمہ داری بھی سنبھال سکتے ہیں۔ ترکی کی حکومت اور عوام نے 2005 ء کے زلزلے کے بعد آزاد کشمیر اور پاکستان میں کئی معیاری تعلیمی ادارے قائم کیے جن میں سے ایک خبیب کالج مظفرآباد بھی ہے جو یتیم اور کم وسائل رکھنے والے بچوں کو شاندار معیاری تعلیم مہیا کر رہا ہے ۔

یہ بات اُنہوں نے خبیب کالج کے دورے کے موقع پر کالج کے اساتذہ اور طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اُنہوں نے کہا کہ خبیب فائونڈیشن نے مختصر عرصے میں آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان سمیت پورے پاکستان میں تعلیمی اداروں کا نیٹ ورک قائم کر کے اہم قومی ذمہ داری ادا کی ہے ۔

(جاری ہے)

پاکستان اور اہل کشمیر کے ساتھ ترکی کے ساتھ مثالی تعلقات ہیں ترک عوام بھی پاکستان کے ساتھ بے پناہ محبت کرتے ہیں اور دونوں ملک تعلیم اور اقتصادی میدان میں ترقی کر کے دنیا سلام کے عروج کے لیے کوشاں ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ الخبیب فائونڈیشن اور خبیب کالج اینڈ سکولز سنت نبوی اور قرآنی احکامات کے مطابق بچوں کو علم کی روشنی سے روشناس کرا رہے ہیں اور مسلمان نوجوانوں کی بیداری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اگر مسلم نوجوان بیدار ہو گئے تو پھر مسلمانوں کی تقدیر بدلے گی اور دنیا اسلام میں انقلاب آئے گا ۔ اُنہوں نے کہا کہ اُنہیں یہ جان کر بے حد مسرت ہوئی کہ اعلیٰ معیار کے حامل خبیب کالج میں زیر تعلیم طلبہ کی زیادہ تعداد یتیم بچوں پر مشتمل ہے جن میں سے زیادہ تر وہ بچے ہیں جن کے والدین 2005 کے زلزلے میں وفات پا گئے گے ۔

ہم اں بچوں کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو بے سہارا نہ سمجھیں کیونکہ آزاد کشمیر کی حکومت اور ریاست اُن کے ساتھ ہے اور وہ اس بات پر بھی یقین رکھیں کہ کائنات کی سب سے بڑی ہستی نبی اکرم ﷺ بھی یتیم تھے اور یتیم ہونے کے باوجود اُنہوں نے اپنی دانش اور فراست سے دنیا کی تقدیر کو بد ل دیا تھا اور اُن کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ اسلام مکہ اور مدینہ کی گلیوں سے نکل کر آج دنیا کے کونے کونے میں پھیل چکا ہے اور مسلمانوں کی تعداد دو ارب سے تجاوزکر چکی ہے ۔

صدر آزاد کشمیر نے بچوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ میں سے بہت سے بچوں کے ماں باپ نہیں ہیںلیکن اِس ادارے میں آنے کے بعد یہ ادارہ آپ کے لیے ماں باپ کا درجہ رکھتا ہے ۔ اُنہوں نے سکول کو سپانسر کرنے والی تنظیم الخبیب فائونڈیشن کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ الخبیب جیسی فلاحی تنظیموں کی وجہ سے ملک میں خیر و برکت ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ قرآن میںسب سے زیادہ یتیم بچوں کے حقو ق کی تاکید کی گئی ہے اور یہ حکم صرف مسلمان یتیم بچوں کے لیے نہیں بلکہ تمام مذاہب کے بچوں کے لیے ہے ۔

اُنہوں نے طلبہ کو ہدایت کی کہ وہ دل و جان سے اساتذہ کا احترام کریں اور اساتذہ کو اُن کی ذمہ داری یاد دلائی کہ وہ طلبہ کے سیرت و کردار کو نکھارنے کے لیے انتھک محنت کریں ۔ قبل ازیں صدر آزاد کشمیر کی آمد پر الخبیب فائونڈیشن کے چیئرمین ندیم احمد خان ، کالج کے پرنسپل اور ایڈمنسٹریشن کے ہیڈ ندیم ملک نے صدر کا خیر مقدم کیا اور طلبہ نے معزز مہمان کا پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے استقبال کیا ۔

صدر سردار مسعود خان نے بعد ازاں مظفرآباد کے قریب سنڈ گراں گائوں میں قائم ایس او ایس ویلج کا دورہ کیا اور وہاں مقیم اور زیر تعلیم طلبہ اور اساتذہ سے ملاقات کی ۔ ایس او ایس ویلیج پہنچنے پر ادارے کی چیئر پرسن ڈاکٹر بشریٰ شمس اور ادارہ کی پرنسپل نے صدر ریاست کو پروجیکٹ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی ۔