شیر خوار بچے کو اپنے ساتھ اسمبلی لانے والی بلوچستان اسمبلی کی خاتون رکن کو ایوان سے باہر بھیج دیا گیا

رکن صوبائی اسمبلی ماہ جبین اپنے شیر خوار بچے کو ایوان میں لائیں تو انہیں بتایا گیا کہ یہ قواعد کے خلاف ہے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات مئی 15:50

شیر خوار بچے کو اپنے ساتھ اسمبلی لانے والی بلوچستان اسمبلی کی خاتون ..
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 مئی 2019ء) : بلوچستان کی اسمبلی میں شیر خوار بچے کو ساتھ لانے والی خاتون رکن کو باہر جانے کا کہہ دیا گیا ۔ ہمارے معاشرے میں جہاں مرد محنت و لگن سے کام کر رہے ہیں وہیں زندگی کے ہر شعبے میں خواتین بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔ ایسے میں کچھ خواتین ایسی ہیں جو نہ صرف اپنے پیشہ ورانہ فرائض بخوبی انجام دے رہی ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی زندگی میں بھی قابل تعریف کام کر رہی ہیں۔

ایسی ہی ایک خاتون رکن صوبائی اسمبلی ماہ جبین شیراں بھی ہیں لیکن ان کے ساتھ قابل افسوس سلوک کیا گیا جس پر ہر شخص نے آواز اُٹھائی۔ تفصیلات کے مطابق رکن صوبائی اسمبلی ماہ جبین شیراں جب اپنے شیرخوار بچے کو بلوچستان اسمبلی میں لے کر آئیں تو انہیں بتایا گیا کہ وہ قواعد کے مطابق ایسا نہیں کر سکتیں۔

(جاری ہے)

اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے انہیں بچے کو ایوان سے باہر جانے کا حکم دیا۔

ماہ جبیں شیران نے کہا میرا بچہ بیمار ہے اور گھر میں کوئی سنبھالنے والا نہیں اس لئے میں اسے اپنے ساتھ لے آئی ہوں لیکن کوئی بھی ان کی حمایت میں سامنے نہیں آیا۔ جس کے بعد اس وقت تو انہیں ایوان چھوڑ کر جانا پڑا لیکن اس واقعہ کے بعد وہ اسمبلی میں شیرخوار بچوں کے لیے ڈے کیئر سینٹر کے قیام کے لیے سرگرم ہو گئیں۔ ماہ جبین کا کہنا تھا کہ اسمبلی کے سیشنز اور گھر پر اپنے بیمار بچے کی دیکھ بھال کے کاموں میں میں بٹ کر رہ گئی تھی لہٰذا اُس دن میں نے اپنے سات ماہ کے بیٹے کو اپنے ساتھ اسمبلی لے جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ اُس دن میں اسمبلی کا سیشن مس نہیں کرنا چاہتی تھی۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں ایسی خواتین کی عزت کرنی چاہئیے جو اپنے کام کے ساتھ ساتھ گھر داری بھی کرتی ہیں۔ یہ آسان کام نہیں ہے کیونکہ ہمیں روزانہ کی بنیاد پر مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ معاملہ سامنے آنے پر سوشل میڈیا صارفین نے اسمبلی کے اسپیکر سمیت ایوان میں بیٹھے تمام اراکین کو آڑے ہاتھوں لے لیا اور کہا کہ یوں تو ہم ترقی کی باتیں کرتے ہیں، نئی سوچ کی باتیں کرتے ہیں لیکن ایوان میں ایک ماں کے ساتھ بچہ آتا ہم برداشت نہیں کر سکے۔

حالانکہ دنیا بھر میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں جہاں کئی خواتین اپنے بچوں کو اپنے ہمراہ لے کر گئیں ، انہیں تو کسی نے ایوان سے باہر جانے کا نہیں کہا۔ 14 ستمبر 2018ء کو برطانیہ کی لبرل ڈیموکریٹ کی ڈپٹی رہنما جو سونسن اجلاس میں پراکسی ووٹنگ پر بحث میں اپنے بیٹے گیبرل کے ساتھ شرکت کرنے آئی تھیں۔برطانیہ میں دارالعوام کے کسی بھی اجلاس میں پہلی بار اپنے بچے کو ساتھ لانے والی خاتون رکن کا کہنا تھا کہ وہ پُراُمید ہیں کہ پارلیمان میں جدت پسندی کی جانب پہلا قدم ہے۔

یہی نہیں بلکہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈار آرڈن نے اپنی تین ماہ کی بیٹی کے ہمراہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔ جیسنڈا کا کہنا تھا کہ اپنی بیٹی نیو کو جنرل اسمبلی میں لے جانا ایک پریکٹیکل فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں زیادہ تر وقت نیو مجھ سے قریب ہوتی ہیں اور ہم انہیں ہر وقت گود میں اُٹھائے نہیں رکھتے ، لیکن یہاں ، جب وہ جاگ جاتی ہیں تو میرے ساتھ ہوتی ہیں۔ صارفین کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ماں کی عظمت کا احترام کیا جاتا ہے ، ان تمام خواتین کو کام کے وقت اپنے بچوں کو ساتھ لانے پر بے دخل نہیں کیا گیا تو پھر بلوچستان اسمبلی میں خاتون رکن کے ساتھ اس طرح کا رویہ کیوں روا رکھا گیا۔