پاکستان کیخلاف مودی کا لہجہ نرم نہیں سخت رہے گا، امجد شعیب

ہندوستان میں حب الوطنی کے معنی پاکستان دشمنی ہے، مودی الیکشن ہار رہا تھا، توپلوامہ کا ڈرامہ رچایا ، جس سے مودی نے عوامی موڈ اپنے حق میں کرلیا۔سینئر تجزیہ کارلیفٹیننٹ جنرل (ر)امجد شعیب کی گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات مئی 15:54

پاکستان کیخلاف مودی کا لہجہ نرم نہیں سخت رہے گا، امجد شعیب
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔23 مئی 2019ء) سینئر تجزیہ کارلیفٹیننٹ جنرل (ر)امجد شعیب نے کہا ہے کہ پاکستان کیخلاف مودی کا لہجہ نرم نہیں سخت رہے گا، ہندوستان میں حب الوطنی کے معنی پاکستان دشمنی ہے،مودی الیکشن ہار رہا تھا، توپلوامہ کا ڈرامہ رچایا ، جس سے مودی نے عوامی موڈ اپنے حق میں کرلیا۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مودی کی جیت پر ہمین دو باتیں ذہن میں رکھنی چاہئیں،انہوں نے کہا کہ مودی کی بنیادآر ایس ایس ہے، آر ایس ایس کا تیار کردہ آدمی ہے۔

بی جے پی ایک آرا یس ایس کا چہرہ ہے۔ مودی کاٹریک ریکارڈ پاکستان کے خلاف دشمنی اور مسلمانوں کیخلاف قتل وغارت ہے۔اسی وجہ سے وہ یہاں تک پہنچا۔ پلوامہ کے واقعے سے پہلے مودی بڑی مشکل میں تھا۔

(جاری ہے)

دو تین ریاستوں میں الیکشن ہار بھی گیا تھا۔ کیونکہ کسانوں کا بڑا برا حال تھا۔ لوگوں میں بڑا منفی تاثر پایا جارہا تھا۔ لیکن اچانک پلوامہ کا ڈرامہ رچایا گیا۔

جس سے سارا کچھ بدل گیا۔ مودی کو پاکستان دشمنی سے حمایت لی۔ یہ سارا کچھ مودی نے عجلت میں کیا ۔ مودی نے پلوامہ والا کام پہلی صفائی کے ساتھ کیا اور الیکشن میں جیت گیا۔وہاں صرف حب الوطنی کے معنی پاکستان دشمنی ہے۔سینئر تجزیہ کارلیفٹیننٹ جنرل (ر)امجد شعیب نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ مودی پاکستان بارے نرم لہجہ اپنائے گا، بلکہ سخت ردعمل ہی رکھے گا۔

جس سے اس کو اپنے سیاسی کیرئیر میں فائدہ ملتا رہے گا۔لیفٹیننٹ جنرل (ر)امجد شعیب نے کہا کہ مائنڈ سیٹ کی بات ہے جب قوم میں اتنی نفرتیں بڑھا دیں ، قوم توقعات رکھے کہ مودی ہی پاکستان کوسبق سکھائے گا۔ اس لیے وہ کرنا پڑے گا۔ اڑی کا واقعہ ہوا، تو بھارتی لوگوں کا سخت ردعمل آیا جس پر مودی کو سرجیکل اسٹرائیک کا ڈرامہ کرنا پڑا۔اقوام عالم کوبھی پیغام دینا ہوتا ہے۔جس طرح مودی پچھلے دنوں لاہور آگئے تھے، پھر دیکھا کہ کلبھوشن بھی یہیں سے پکڑا گیا۔اس لیے مودی اپنی پالیسی میں تبدیلی نہیں لا سکتا،عوام کو اس کو جواب دینا ہوگا۔ واضح رہے بھارتی جنرل الیکشن میں حکمران جماعت بی جے پی اور اتحادیوں نے اکثریت حاصل کرلی ہے۔