پنجاب میں کمسن بچی فرشتے کے ساتھ انسانیت سوز واقعے نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کررکھ دیا، شہزاد رائے

ٹرسٹ کی جانب سے لائف اسکل بیسڈ ایجوکیشن کے نام سے پروگرام بنایا جارہا ہے،زیبا بختیار، ماہرہ خان ودیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب

جمعرات مئی 22:58

پنجاب میں کمسن بچی فرشتے کے ساتھ انسانیت سوز واقعے نے پورے ملک کو جھنجھوڑ ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 مئی2019ء) معروف گلوکار اورزندگی ٹرسٹ کے سربراہ شہزادرائے نے کہا ہے کہ پنجاب میں زینب کے اندوہناک واقعے کے بعد ملک کے دارالخلافہ میں کمسن بچی فرشتے کے ساتھ انسانیت سوز واقعے نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کررکھ دیا، ٹرسٹ کی جانب سے لائف اسکل بیسڈ ایجوکیشن کے نام سے پروگرام بنایا جارہا ہے، پروگرام کا مقصد معیوب اورغیر اخلاقی رویوں کے حوالے سے بچوں کو اگاہی فراہم کرنا ہے۔

(جاری ہے)

یہ بات انھوں نے کراچی پریس کلب میں معروف کرکٹریونس خان جبکہ شوبز کی معروف شخصیات زیبا بختیار اور ماہرہ خان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی،شہزاد رائے کا کہنا تھا کے وہ یہاں ان بچوں کے لئے جمع ہوئے ہیں جن کی آوازعام لوگوں تک نہیں پہنچتی ہے ایک سال قبل ملک میں بڑھتی ہوئی زیادتیوں کے خلاف اواز اٹھائی قصور کی زینب اوراب دس سالہ فرشتے کیساتھ ہونیوالے واقعات نے پوری قوم کو جھنجوڑ دیا ہے،اور اب وقت آگیا ہے کہ والدین اور بچوں کے درمیان اس اہم معاملے پر ہم آہنگی ہو بلکہ بچے کے ساتھ ایسے کسی بھی معیوب اور منفی رویے کا برملا اظہارہو،شہزاد رائے کا کہناتھا کہ ان واقعات کے بعد اب یہ بات ناگزیر ہوچکی ہے کہ نصابی تعلیم میں شامل مضامین کے ذریعے بچوں کو منفی رویوں کے متعلق آگاہ کیا جائے انھوں نے اس حوالے سے ٹرسٹ کی جانب سے لائف اسکل بیسڈ ایجوکیشن کے نام سے پروگرام بنانے کا اعلان کیا ، ، شہزاد رائے کا کہنا تھا کے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر اس طرح کے 10 سے زائد واقعات رونما ہوتے ہیں،شہزار رائے کے مطابق سندھ میں بچوں کے ساتھ منفی رویوں یا زیادتی کے حوالے سے صرف ایک چیپٹر شامل کیا گیا ہے،اور سندھ ٹیکسٹ بک میں بچوں کے ساتھ معیوب حرکات کے حوالے سے مضمون کا اضافہ کردیا گیا ہے تاہم اس موضوع کی ضرورت نصابی کتب میں ایک چیپٹر سے زیادہ کی ہے،جبکہ بلوچستان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ نصاب میں اس موضوع کو شامل کرینگے جبکہ باقی دونوں صوبوں پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں اس حوالے سے کوئی اقدامات دکھائی نہیں دے رہے، پریس کانفرنس کے دوران یونس خان کا کہنا تھا کہ گزارش کرتا ہوں بچوں کی آگاہی کے لیے نصاب میں میں ایک مضمون کو شامل کیا جائے، پشتو میں گزارش کرتا ہوں کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی جائے،ہمیں مل کر اس قبیح عمل کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی،اور اس کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی،اوریہ اس وقت ممکن ہوگا جب ہر فرد اس کے حوالے سے سنجیدہ ہوکر سوچے اورعملی طورپرکام کرے،اداکارہ زیبا بختیار کا کہنا تھا کہ سب کو عزت پیاری ہوتی ہے یہی وجہ سے کہ زیادہ تر لوگ زیادتی کے واقعات رپورٹ ہی نہیں کرتے،اور خاموشی سے اس بات کو پی جاتے ہیں جبکہ اکثروبیشتر ہمیں یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ پاکستان میں رہ کر ایسی باتیں نہ کی جائیں،زبیا بختیار کا کہناتھا کہ ملک میں بچوں کی زیادتی کے خلاف کام نہیں ہورہا،مگر شائد اب وہ وقت آگیا ہے کہ اس معاملے پر قطعی طورپرخاموش ہوکر نہیں بیٹھا جاسکتا، اداکارہ ماہرہ خان کا کہناتھا کہ والدین کو بچوں سے بات کرنی چاہیے،دس بچے ہر روز زیادتی کا شکار ہوتے ہیں،ہمیں شرم آتی ہے اس موضوع پر بات کرنے میں،ہمیں اب ایک ہو کر زیادتی کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی،اکثر زیادتی کے واقعات گھروں میں رونما ہوتے ہیں، بچوں کو بولنے کا موقع دیا جائے، بچوں کو چپ کروانا زیادتی ہے، ان معاملات میں پولیس اور تمام تر اداروں کو اپنا بھرپورکرداراداکرناہوگا، شرکانے اس بات پر زور دیا کہ اس حساس نوعیت کے سماجی معاملے پر بھرپور آگاہی کے علاوہ سوشل ویلفیئر اور چائلڈ پروٹیکشن،پولیس و دیگر کو فعال ہونا ہونا ہوگا، شہزاد رائے نے اس عزم کا اظہار کیا کے مجھ سے جتنا ہوسکا بچوں کی تحفظ کے لئے آواز بلندکرونگا ،تاہم باقی تینوں صوبوں کو ہنگامی بنیادوں پربچوں کو ہراساں یا زیادتی جیسے رویے کو نصاب کا حصہ بنانے اوراسکولوں کی سطح پرچائلڈ پروٹیکشن یونٹ کو فعال کرنا ہوگا۔