12 سالہ لڑکے نے ماں سے ڈانٹ کھانے کے بعد کپڑے سکھانے کے لیے بارش کا پتا چلانے والا ریک تیار کر لیا

Ameen Akbar امین اکبر جمعرات مئی 23:48

12 سالہ  لڑکے نے ماں  سے ڈانٹ کھانے کے بعد کپڑے سکھانے کے لیے  بارش کا ..

ناننگ، چین سے تعلق رکھنے والے ایک 12 سالہ لڑکے نے حال ہی میں علاقائی سائنس  اور اختراعات سے  متعلق مقابلے میں پہلا انعام حاصل کیا ہے۔ ا س  لڑکے  نے ایک ایسا ریک  ایجاد کیا ہے جو بارش آنے پر سکڑ جاتا ہے اور دھوپ نکلنے پر پھر پھیل جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لڑکے نے یہ ایجاد  اپنی ماں سے ڈانٹ کھانے کے بعد  کی ہے۔
لو جیزہن  ، نارتھ – ایسٹ وومنز ایجوکیشن سنٹر، ناننگ، گوانگڈونگ، چین میں چھٹے گریڈ کے طالب علم ہیں۔

ایک دن اُن کی ماں نے گھر سے باہر جاتے  ہوئے انہیں دھوپ میں سوکھنے والے کپڑوں کا خیال رکھنے کا کہا۔ اُن کی ماں نے کہا تھا کہ بارش آنے کی صورت میں کپڑوں کو اندر رکھ دے لیکن لوجیزہن  کھیل کود میں کپڑوں کو بھول گئے اور سارے کپڑے بارش  میں بھیگ گئے۔

(جاری ہے)

اُن کی ماں نے کپڑوں کو بھیگے دیکھا تو اپنے بیٹے کو خوب ڈانٹا۔ڈانٹ کھانے کے بعد انہوں نے سوچا کہ کچھ ایسا ایجا د کیا جائے جس سے وہ اگلی بار ڈانٹ کھانے سے بچ جائیں۔

انہوں نے اپنے والد اور اساتذہ سے  بارش میں خودبخود سکڑنے والے ریک کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ سب نے کہا یہ کہ خیال ممکن ہے اور ایسی ایجاد میں وہ  لوجیزہن کی مدد کریں گے۔
کئی ماہ کی محنت کے بعد لوجیزہن ایک  خود کار ریک  بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ ریک بارش آنے پر سکڑ جاتا ہےا ور اس پر لگی تڑپال پھیل جاتی ہے جبکہ بارش ختم ہونے پر تڑپال سکڑ جاتی ہے اور ریک پہلے کی طرح پھیل جاتا ہے۔

اس ریک کی تیاری میں لوجیزہن نے کئی حساس سنسر استعمال کیے ہیں۔ پانی کے قطروں کا پتا چلانے والا سنسر بارش کا پتا چلاتا ہے جس سے ریک سکڑ اور تڑپال پھیل جاتی ہے جبکہ روشنی کا پتا چلانے والا سنسر صاف آسمان اور دھوپ کا پتا چلاتا ہے ، جس سے  ریک پھیل اور تڑپال سکڑ جاتی ہے۔
اس  ماہ کے شروع میں لوجیزہن نے یہ ایجاد 34 ویں گوانگشی پرونشل یوتھ  سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اینویشن کانٹیسٹ میں متعارف کرائی۔ مقابلے کے جج اس ایجاد سے اتنے متاثر ہوئے کہ اسے ہی پہلا انعام دے دیا۔
لوجیزہن اس ایجاد کو ایک تجارتی ورژن بھی پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔