میکسیکو سٹی کے لوگ ڈکیتی کے دوران ڈاکوؤں کو دینے کے لیے جعلی فون خریدنے لگے

Ameen Akbar امین اکبر جمعرات مئی 23:48

میکسیکو سٹی کے لوگ ڈکیتی کے دوران ڈاکوؤں کو دینے کے لیے   جعلی فون خریدنے ..

میکسیکو سٹی میں مسلح ڈکیتی کی وارداتیں اتنی عام ہو گئی ہیں کہ لوگوں نے  ڈاکوؤں کے دینے کے لیے جعلی فون خریدنا شروع کر دئیے ہیں۔ یاد رہے کہ دنیا بھر کی طرح میکسیکو سٹی میں بھی ڈاکو خالی ہاتھ جاتے ہوئے   اپنے شکاروں پر غصے میں گولی بھی چلا دیتے ہیں، جس سے بچنے کے لیے اب شہری جعلی فون خریدنے لگے ہیں۔
میکسیکو سٹی میں گلیوں میں چلنا اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا کافی خطرناک ہوگیا ہے۔

حال ہی میں جاری  ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق 2019ء کے پہلے چار ماہ میں میکسیکو سٹی میں  ڈکیتی کی 70 سے زیادہ پرتشدد وارداتیں ہوئی ہیں۔ ان میں سے دو تہائی وارداتوں میں پیدل چلنے والوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ باقی وارداتیں پبلک ٹرانسپورٹ میں، ٹریفک جام میں پھنسے گاڑیوں کےمالکان اور ٹریفک کے اشاروں پر انتظار کرتے لوگوں کے ساتھ  ہوئی ہیں۔

(جاری ہے)

شہر میں اس طرح پر پرتشدد وارداتوں میں اضافے کے بعد شہریوں نے ڈاکوؤں کو دینے کے لیے جعلی فون خریدنا شروع کر دئیے ہیں تاکہ اُن کے اپنے فون بچ جائیں۔
سمارٹ فون کی ڈمی 300 سے 500 میکسیکن پیسو یا 15 سے 25 ڈالر میں ملتی ہے اور اصل فون کی ہی نقل ہوتی ہے۔ ڈمی کو اصل فون کے وزن کے مطابق بنانے کے لیے اس میں دھات کے ٹکڑے ڈالے جاتے ہیں۔
سمارٹ فونز کی ڈمی فروخت کرنے والے   ایک شخص، ازیل  ، نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ  ڈاکو فوراً ہی ہر چیز حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

چند سیکنڈ کی واردات میں  ڈاکو چیزیں پکڑتے اور  فرار ہوجاتے ہیں، ایسے میں اُن کے پاس فون کے اصل یا جعلی ہونے کا  اندازہ کرنے کےلیے وقت نہیں ہوتا۔ اس لیے ہی شہری کوشش کرتے ہیں کہ جیب میں اصل کے ساتھ جعلی فون بھی رکھا جائے جو  مصیبت کے وقت کام آئے۔
تاہم بندوق کی نوک پر ڈاکوؤں کو  جعلی فون تھمانے کے اپنے خطرات ہیں۔ اگر ڈاکوؤں کو اندازہ ہوجائے  کہ یہ فون جعلی ہے تو  پھر شکار کی پٹائی سے لیکر گولی لگنے تک سب کچھ ہو سکتا ہے۔اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے میکسیکو کے کچھ لوگ جعلی فون خریدنے کی بجائے سستے  لیکن اصل فون خریدرہے ہیں تاکہ ڈاکوؤں کو دے کر جان بچائی جا سکے۔

متعلقہ عنوان :