سندھ میں دو صوبے بننے چاہئیں،ملک میں اور سندھ میں نئے انتظامی یونٹ کے لئے طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے تیار ہیں،ڈاکٹر فاروق ستار

ہفتہ مئی 13:55

سندھ میں دو صوبے بننے چاہئیں،ملک میں اور سندھ میں نئے انتظامی یونٹ ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 مئی2019ء) تنظیم ایم کیو ایم پاکستان بحالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستارنے کہاہے کہ سندھ میں دو صوبے بننے چاہئیں،ملک میں اور سندھ میں نئے انتظامی یونٹ کے لئے طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے تیار ہیں، اگر جنوبی پنجاب صوبے کی قرارداد پاس ہو سکتی ہے تو سندھ میں انتظامی یونٹ پر بات کیوں نہیں ہوسکتی پاکستان کے بہتر مفاد میں چھوٹے انتظامی یونٹ بنانا ہے اور یہ اب ناگزیر ہوچکا ہے۔

ہفتہ کوانسداددہشت گردی عدالت میں پیشی کے بعدمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ اتوار کو تنظیم بحالی اور میری جانب سے افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا ہے، آفاق احمد اور مصطفی کمال کو بھی دعوت دی ہے، میری خواہش ہے کہ جنہیں مدعو کیا ہے وہ ضرور تشریف لائیں،مجھے پی ایس پی اور نہ ہی نام نہاد ایم کیو ایم پاکستان والوں نے افطار پارٹی میں دعوت دی، میں اس چیز کا گلہ نہیں کررہا کہ مجھے کیوں نہیں بلایا، میں نے خالد مقبول صدیقی کو بھی افطار پارٹی میں دعوت دی ہے۔

(جاری ہے)

فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کا کام سیاست اور میرا امن کا پیغام پہنچانا ہے، پاکستان کے بہتر مفاد میں انتطامی یونٹ بنانا ناگزیر ہے، وزیر اعظم عمران خان نے جنوبی سندھ صوبہ نہ بنانے کا شہریوں کو ٹکہ سا جواب دیا ہے، عمران خان کا یہ جواب ایم کیو ایم پاکستان کو منظور ہو سکتا ہے لیکن ہمیں نہیں، اگر جنوبی پنجاب صوبے کی قرارداد منظور ہو سکتی ہے تو سندھ میں انتطامی یونٹ پر بات کیوں نہیں ہو سکتی۔

ہم ملک میں اور سندھ میں نئے انتطامی یونٹ کے لئے طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہم معاملات افہام و تفہیم سے سلجھانا چاہتے ہیں، انتطامی یونٹ سے کسی بھی سندھی بھائی کی حق تلفی نہیں ہوگی، اگر میری بات سے سندھی اور کسی کی بھی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معذرت چاہتا ہوں۔