Live Updates

وہاب ریاض کی سکواڈ میں شمولیت پر سوالیہ نشان لگ گیا

پی ایس ایل کے بعد پیسر کی کاکردگی کیسی رہی اسے دیکھنا ہوگا: سابق کپتان

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب ہفتہ مئی 15:31

وہاب ریاض کی سکواڈ میں شمولیت پر سوالیہ نشان لگ گیا
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔25مئی 2019ء) قومی ٹیم کے سابق کپتان معین خان نے وہاب ریاض کی سکواڈ میں شمولیت پرسوالات اٹھا دیے۔ایک انٹرویو میں معین خان نے کہا کہ وہاب ریاض کو کس بنیاد پر سکواڈ میں شامل کیا گیا،پیسر نے پی ایس ایل میں اچھی بولنگ کی لیکن اس کے بعد اب تک کیا کارکردگی رہی،اس معاملے کو بھی دیکھنا ہوگا۔براہ راست ٹیم میں شامل کیے جانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سابق کپتان نے کہا کہ اگر کوئی طریقہ کار بنایا گیا تو اس کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے،دوسری صورت میں تنازعات سامنے آتے ہیں،ایک حالیہ ٹورنامنٹ میں وہاب ریاض کو بولنگ کرتے دیکھا تو بجھے بجھے نظر آئے، پیسر چھوٹے رن اپ سے بولنگ کررہے تھے،ہوسکتا ہے کہ ایسا بہت زیادہ کرکٹ کھیلنے یا پھر پریکٹس نہ ہونے کی وجہ سے نظر آرہا ہو۔

(جاری ہے)

معین خان نے کہا کہ محمد عامر ایک سینئر بولر ہیں، ٹیم میں جگہ بنانے کیلئے ان کو اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کی ضرورت نہیں تھی، اگرچہ پیسر کی حالیہ فارم اچھی نہیں رہی لیکن انگلش کنڈیشنز میں وہ کامیاب ہوں گے، ورلڈکپ جیسے بڑے ایونٹ میں سینئر کھلاڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ انگلینڈ کیخلاف سیریز میں بولنگ نہیں چل سکی،محمد عامر، وہاب ریاض اور شاداب خان کی واپسی سے یہ شعبہ مضبوط ہوگا، بولرز نے بھی بیٹسمینوں کی طرح بہتر کارکردگی دکھائی تو پاکستان نہ صرف سیمی فائنل تک رسائی پائے گا بلکہ ورلڈکپ بھی جیت سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انگلینڈ کیخلاف سیریز میں ناکامیوں کا میگا ایونٹ میں کارکردگی پر اثر نہیں پڑنا چاہیے، صرف ایک میچ میں فتح مورال بلند کرنے کیلئے کافی ہوتی ہے، ورلڈکپ 1992ءمیں بھی اچھا آغاز نہ کرنے کے باوجود ٹیم جوبن پر آئی تو فتوحات حاصل کرتی گئی اور ٹائٹل بھی اپنے نام کیا۔سابق کپتان نے عابد علی کو ڈراپ کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام الحق اور دیگر نوجوان بیٹسمین اچھا پرفارم کررہے ہیں، عابد علی میں صلاحیت ہے، اگر کوئی ناکام ہوتو ان کو موقع ملنا چاہیے۔
کرکٹ ورلڈکپ 2019 سے متعلق تازہ ترین معلومات