Live Updates

چیک پوسٹ پر حملہ افسوسناک اور شر پسندانہ کارروائی ہے، حکومت کا ایکشن قانون کے مطابق ہوگا،کسی کو بھی پاکستان کی ساکھ ، وقار ، قومی تشخص اور قومی مفاد کے ساتھ کھیلنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی، واقعہ پر سیاست پاکستان کے مفاد میں نہیں،اسے کسی قومیت کے ساتھ منسلک نہ کیا جائے، جہاں پاکستان کی بات آئے گی وہاں ہم سب اکٹھے ہیں، وہاں پر سیاست ہرگز نہیں آنی چاہیے عوامی نمائندہ ریاستی رٹ چیلنج کریں گے تو قانون حرکت میں آئے گا،ریاستی رٹ کو ہرصورت قائم رکھا جائے گا، حملہ کرنے والے گروہ کو بے نقاب کریںگے،چیک پوسٹ پر حملہ کرکے دشت گردوں کا چھڑانے کی کوشش کی گئی، حملہ سے متعلق بلاول کا بیان سیاسی غیر سنجیدگی ہے،بلاول بھٹو کا بیان ان کی سیاست پر سوالیہ نشان ہے،کچھ شرپسند عناصر پاکستان مخالف قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں لیکن قبائلی عوام نے شرپسند گروہ کے بیانیے سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے، عمران خان واحد وزیراعظم ہیں جنہوں نے قبائلی عوام کے زخموں پر مرحم رکھا، وزیراعظم قبائلی علاقوں کو ملک کے دیگرترقی یافتہ علاقوں کے مساوی لانے کے خواہاں ہیں، قبائلی عوام انشااللہ اپنے علاقے اور پاکستان کی تعمیروترقی میں ہر اول دستہ بنیں گے اور سازشیں دم توڑیں گی

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی مختلف نجی ٹی وی چینلز سے گفتگو

اتوار مئی 22:00

چیک پوسٹ پر حملہ افسوسناک اور شر پسندانہ کارروائی ہے، حکومت کا ایکشن ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 26 مئی2019ء) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ چیک پوسٹ پر حملہ افسوسناک اور شر پسندانہ کارروائی ہے، حکومت کا ایکشن قانون کے مطابق ہوگا،کسی کو بھی پاکستان کی ساکھ ، وقار ، قومی تشخص اور قومی مفاد کے ساتھ کھیلنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی،واقعہ پر سیاست پاکستان کے مفاد میں نہیں، اسے کسی قومیت کے ساتھ منسلک نہ کیا جائے، جہاں پاکستان کی بات آئے گی وہاں ہم سب اکٹھے ہیں، وہاں پر سیاست ہرگز نہیں آنی چاہے،عوامی نمائندہ ریاستی رٹ چیلنج کریں گے تو قانون حرکت میں آئے گا،ریاستی رٹ کو ہرصورت قائم رکھا جائے گا، حملہ کرنے والے گروہ کو بے نقاب کریںگے،چیک پوسٹ پر حملہ کرکے دشت گردوں کا چھڑانے کی کوشش کی گئی، حملہ سے متعلق بلاول کا بیان سیاسی غیر سنجیدگی ہے،بلاول بھٹو کا بیان ان کی سیاست پر سوالیہ نشان ہے،کچھ شرپسند عناصر پاکستان مخالف قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں لیکن قبائلی عوام نے شرپسند گروہ کے بیانیے سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے، عمران خان واحد وزیراعظم ہیں جنہوں نے قبائلی عوام کے زخموں پر مرحم رکھا، وزیراعظم قبائلی علاقوں کو ملک کے دیگرترقی یافتہ علاقوں کے مساوی لانے کے خواہاں ہیں، قبائلی عوام انشااللہ اپنے علاقے اور پاکستان کی تعمیروترقی میں ہر اول دستہ بنیں گے اور سازشیں دم توڑیں گی۔

(جاری ہے)

اتوار کو مختلف ٹی وی چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خاڑکمر چیک پوسٹ پر حملہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اس افسوسناک واقعے میں ایک جتھے کی شکل میں افواج پاکستان کی چیک پوسٹ پر حملہ آور ہو کر دہشت گردوں کو چھڑانے کی کوشش کی گئی، یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب چین کے نائب صدر پاکستان کی موجودہ قیادت اور عوام کے ساتھ جڑے ترقی و خوشحالی کے مشن کو تقویت دینے آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف ایک منظم سازش کے تحت ایک ایسا ماحول پیدا کیا گیا جہاں سے کچھ شرپسند عناصر مسلسل پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے ، نو گو ایریا تھا لیکن وزیراعظم عمران خان ہی ملک کے وہ واحد وزیراعظم ہیں جنہوں نے قبائلی علاقوں میں جا کر قبائلی عوام کے زخموں پر مرہم رکھا، ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے اور ان کو مرکزی سیاسی نظام کے اندر حصے دار بنایا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سارا عمل احسن طریقے سے چل رہا تھا اور علاقے کی تعمیروترقی کے لیے انقلابی اقدامات ہو رہے تھے، وزیراعظم عمران خان کی بصیرت کی روشنی میں قبائلی علاقوں میں تعمیروترقی کے عمل کو تیز کیا جا رہا تھا اور انشااللہ اس عمل کو مذید تیز بھی کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ان علاقوں میں جہاں سے بارود کی بدبو آتی تھی وہاں انہوں نے پھولوں کی خوشبو کو مہکنے پر مجبور کیا اور وہاں وزیراعظم عمران خان کے اقدامات سے قبائلی عوام کے ان تمام حقوق کی طرف مثبت پیشرفت کا آغاز ہوا، اب جس استقامت، جرات، صبر اور عظیم جذبہ حب الوطنی سے قبائلی عوام نے مصائب اور مشکلات کا سامنا کیا ، آج انہیں آئینی و جمہوری حقوق اور ترقی و خوشحالی کے ثمرات ملنے کا وقت آیا تو یہ کچھ شرپسند عناصر اس ترقی و خوشحالی کے راستے میں روڑے اٹکا رہے ہیں، وہ عوام کے اس فائدے کو روکنے کے لیے عالمی طاقتوں کے ہاتھوں کھلونہ بن رہے ہیں اور پاکستان کے دفاع کو کمزور کرنے کے درپے ہیں لیکن موجودہ حکومت، افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادار ے پر عزم ہیں ، وہ ہر کوشش کو ناکام بنائیں گے ، ہم نے اس علاقے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کی بہت زیادہ قیمت ادا کی ہے، لازوال قربانیاں دی ہیں ، کئی ہزار قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں، تب جا کے وہاں امن بحال ہوا ہے اور حالات اس قابل ہوئے ہیں کہ وہاں سیاسی جلسے ہوں لیکن اب اگر ان جلسوں میں ایسی زبان استعمال ہو گی جس کا مقصد ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنا، عوام کو گمراہ کرنا اور بے بنیاد پراپیگنڈہ کر کے وہاں پاکستان مخالف قوتوں کے ایجنڈے کو پروان چڑھاناتو یہ ناقابل قبول ہے۔

وزیراعظم حاضر ہے سے متعلق تازہ ترین معلومات