پاکستان کو گزشتہ کئی دہائیوں سے سرد جنگوں اور گوریلہ وار کا سامنا ہے‘وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا

اخوت مواخات مدینہ کا شاندار نمونہ اور ملک سے غربت ،افلاس ،بھوک ،بے روزگاری اور معاشی ،بدحالی کے خاتمہ کا مجرب نسخہ ہے

بدھ مئی 13:48

پاکستان کو گزشتہ کئی دہائیوں سے سرد جنگوں اور گوریلہ وار کا سامنا ہے‘وائس ..
سرگودہا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 مئی2019ء) وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودہا ڈاکٹر اشتیاق احمد نے یونیورسٹی کے اخوت کیمپس کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اخوت مواخات مدینہ کا شاندار نمونہ اور ملک سے غربت ،افلاس ،بھوک ،بے روزگاری اور معاشی ،بدحالی کے خاتمہ کا مجرب نسخہ ہے ۔ پاکستان کو گزشتہ کئی دہائیوں سے سرد جنگوں اور گوریلہ وار کا سامنا ہے ۔

ان حالات میں صاحب ثروت طبقہ کے ایثار، قربانی اور ملی حمیت کاڈاکٹرائن ہی ملک کی سلامتی اور استحکام کا موجب ثابت ہوا۔ان خیالات کا اظہار ’’اخوت پاکستان‘‘کے زیر اہتمام ملک کی پہلی بالکل مفت تعلیم دینے والی یونیورسٹی کے قیام کیلئے منعقدہ فنڈریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اشتیاق احمد نے کہا کہ اخوت ایک عظیم کاز ہے جس کا مقصد پسے ہوئے طبقے کی خوشحالی اور محروم طبقے کو علم و آگہی سے سرفراز کرنا ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ پاکستانی قوم ہمدردی کے جذبات سے سرشار ہے یہا ں صدقات اور زکواة و خیرات کے جذبوں کافقدان نہیں۔صرف اعتبار اور اعتماد کی کمی ہے لیکن اخوت نے اپنے آغاز سے اب تک عوام کا اعتماد جیتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کا ہر منصوبہ کو کامیابی اور دوام میسر ہے ۔اخوت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اظہار الحق نے کہاکہ اخوت کے زیر انتظام چلنے والے اداروں بائیو ٹیکنالوجی ،ریسرچ سنٹر بچوں کے تین سو زائد سکولوں میں ساٹھ ہزار سے زائد طلباء و طالبات مفت تعلیم اخوت بینک،لباس بینک،فائونٹین ہائوسز و دیگر ادارے قومی خدمت میں پیش پیش ہیں۔

مدارس میں طلبہ کو کتب اور مطالعاتی مواد بھی مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔ جبکہ اخوت بینکاری سے سالانہ لاکھوں خاندان بلا سود قرضے حاصل کر کے اپنی غربت مٹارہے ہیں۔ انہوں نے صدقات بنک کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے شرکا اور صاحب ثروت افراد پر زور دیا کہ وہ اپنے کرنٹ اکآنٹ سودی بینکاری نظام سے نکال کر اس بنک میں جمع کرائیں اور اللہ تعالی کے وعدہ کے مطابق اس سے ستر گنا نفع کمائیں۔

انہوں نے زور دیا کہ اخوت یونیورسٹی کے قیام میں حصہ ڈالیں۔ایک اینٹ لگائیں جسکی قیمت صرف ایک ہزار روپے ہے ۔دیئے سے دیا جلائیں اور معاشرے کو علم کی روشنی سے منور کریں ۔اس یونیورسٹی میں صرف ہونہار اور مستحق طلباء و طالبات تعلیم حاصل کریں گے۔ اور وہ پاکستان کے روشن مستقبل کی دلیل ثابت ہونگے۔ سلیم رانجھا اور پروفیسر ڈاکٹرہارون الرشید تبسم نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر یونیورسٹی کے قیام کیلئے شرکاء نے امدادی چیک اور نقد رقوم بھی جمع کروائیں۔