سکاٹ لینڈ یارڈ نے الطاف حسین کی گرفتاری کی تصدیق کردی

حکومت پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ شواہد کی بنیاد پر انہیں نفرت انگیزتقاریرکے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل جون 14:20

سکاٹ لینڈ یارڈ نے الطاف حسین کی گرفتاری کی تصدیق کردی
لندن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔11 جون۔2019ء) سکاٹ لینڈ یارڈ نے سرکاری طور پرمتحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کی لندن میں گرفتار ی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہیں تفتیش کے لیے نارتھ لندن کے پولیس سٹیشن میں رکھا گیا ہے. اسکاٹ لینڈ یارڈ نے لندن کے مقامی وقت کے مطابق صبح 8بجے بانی ایم کیو ایم کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان کو حراست میں لے لیا‘ الطاف حسین کو گرفتار کرکے مقامی پولیس اسٹیشن لے جایا گیا جبکہ اس چھاپے کے دوران تقریبا 15 پولیس افسران نے حصہ لیا.

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق الطاف حسین کو 3 گھنٹے قبل گرفتار کیا گیا اور پولیس ٹیم کی جانب سے اس وقت ان کے گھر کی تلاشی لی جارہی ہے‘رپورٹس کے مطابق الطاف حسین کو مبینہ طور پر 2016 میں کی گئی نفرت انگیز تقریر سے متعلق کیس میں گرفتار کیا گیا. خیال رہے کہ رواں برس اپریل میں برطانیہ کی میٹروپولیٹن پولیس کی 12 رکنی ٹیم نے ایم کیو ایم لندن کے قائد الطاف حسین کی 2016 کی متنازع تقریر سے متعلق کیس میں اپنی تفتیش مکمل کی تھی.

اس سلسلے میں برطانوی پولیس کیس میں ثبوتوں کے حصول اور گواہوں کے بیانات کے لیے پاکستان آئی تھی، اس تفتیش کے دوران سندھ پولیس حکام کی ٹیم کے 6 اراکین برطانوی پولیس کی انسداد دہشت گردی کمانڈ (ایس او 15) کے سامنے بطور گواہ پیش ہوئے تھے اور اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا. کیس کی تفتیش کے دوران برطانوی پولیس کے ماہرین نے سندھ پولیس کے ان حکام کا انٹرویو کیا جو اس وقت صدر کراچی میں تعینات تھے جب 22 اگست 2016 میں الطاف حسین نے پاکستان مخالف تقریر کی تھی.

واضح رہے کہ کو ایم کیو ایم کے قائد کی اس تقریر کے بعد ان کی جماعت کے حامیوں نے کراچی پریس کلب کے قریب میڈیا ہاﺅسز پر مبینہ طور پر حملہ کیا تھا، پرتشدد کارروائیاں کی تھی اور گاڑیوں کو نذرآتش کیا تھا. تفتیش سے متعلق سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ برطانوی سی ٹی سی ٹیم کا مقصد 22 اگست 2016 کے واقعے کے اہم گواہوں سے تحریر بیان کو ثبوت کی شکل میں حاصل کرنا تھا‘برطانوی پولیس کی جانب سے حاصل کیے گئے ثبوتوں کو اس بات کا تعین کرنے کے لیے کراﺅن پروسیکیوشن سروس کے سامنے پیش کرنا تھا کہ آیا برطانوی عدالتوں میں الطاف حسین کے خلاف کارروائی کے آغاز کے لیے یہ کافی مواد ہے.

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اپنے سفارتخانے کے ذریعے الطاف حسین کے خلاف کریمنل کیسوں کے ثبوت اور دستاویزات برطانوی حکومت کے حوالے کیئے تھے جبکہ بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری کے بعد سے ایف آئی اے کا انسداد دہشت گردی ونگ برطانوی حکام سے رابطے میں ہے‘قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایڈمرل منصورالحق کیس کی طرح الطاف حسین کو بھی انٹرپول کے ذریعے پاکستان لایا جاسکتا ہے.

یاد رہے جنوری 2019 میں وزارتِ داخلہ نے بانی ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا، جس کے بعد حکومت ان کے خلاف کارروائی کے لیے برطانیہ سے جلد رابطہ کرے گی ، ذرائع کا کہنا تھا کہ علی رضا عابدی کے قتل میں بھی بانی ایم کیو ایم کے ملوث ہونے کا شبہ ہے. ذرائع کے مطابق بانی ایم کیو ایم کے خلاف 200 سے زائد مقدمات کا ریکارڈ برطانیہ بھجوایا جائے گا، ان پر الزام ہے کہ ایم کیو ایم کے منحرف راہنماﺅں کو بانی ایم کیو ایم قتل کروانے میں ملوث ہونے کے الزمات رہے ہیں.

یاد رہے 2016 مین اسکاٹ لینڈ یارڈ نے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین سمیت دیگر راہنماﺅں محمد انور، سرفراز مرچنٹ کے خلاف منی لانڈرنگ کیس ناکافی شواہد کی بنیاد پر ختم کردیا. واضح رہے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کیخلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب لندن پولیس ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس کے سلسلے میں 6 دسمبر2012کو متحدہ کے دفتر پہنچی اور چھاپے کے دوران، لاکھوں پاﺅنڈ برآمد کیے‘بعد ازاں 18جون 2013 کو لندن پولیس نے الطاف حسین کے گھر کی تلاشی کے دوران ا±ن کی رہائش گاہ سے غیر قانونی خطیر پاﺅنڈ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا.

ادھر لندن میٹروپولیٹن پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق منگل کے روزایم کیوایم کے ایک شخص کوگھرسے گرفتارکیا گیا ہے، گرفتارہونے والے شخص کی عمر60 سال ہے، گرفتاری سیکشن 44 کی خلاف ورزی کے تحت کی گئی جبکہ گرفتارشخص پرجان بوجھ کرجرم کی مدد اورحوصلہ افزائی کا الزام ہے. میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق تحقیقات کے تحت 2 مقامات کی تلاشی لے رہے ہیں، گرفتاری اگست 2016 اوراس سے قبل تقاریرکے تناظرمیں کی گئیں اورتحقیقات پاکستانی حکام کے ساتھ مل کرکی گئیں.

الطاف حسین کی باقاعدہ گرفتاری کے بعد انھیں مقامی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا جہاں ایک یا دو روز میں ان کی ضمانت پر رہائی ہو سکتی ہے تاہم اب اس مقدمے کے سلسلے میں باقاعدہ فردِ جرم عائد ہو گی اور عدالت میں مقدمہ چلے گا. خیال رہے کہ پاکستانی حکومت نے ستمبر 2016 میں الطاف حسین کے خلاف ایک ریفرنس برطانوی حکومت کو بھجوایا تھا‘اس ریفرنس کے ساتھ الطاف حسین کی اشتعال انگیز تقریر کی کاپی اور اپنی جماعت کے لوگوں کو تشدد اور بدامنی پر اکسانے کے شواہد بھی برطانوی حکام کو فراہم کیے گئے تھے.

اس ریفرنس مں برطانوی حکام سے کہا گیا تھا کہ ایم کیو ایم کے قائد نے نہ صرف برطانوی بلکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا ان کے خلاف برطانوی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے. برطانیہ کے قوانین میں کسی شخص کی طرف سے دوسرے فرد کو تشدد پر اکسانے کے بارے میں سخت قوانین موجود ہیں‘یاد رہے کہ الطاف حسین نے 22 اگست 2016 کو کراچی میں اپنی جماعت کے کارکنان سے ایک ٹیلی فونک خطاب میں پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی تھی.

اس خطاب کے بعد مبینہ طور پر ایم کیو ایم کے ارکان کی جانب سے مقامی میڈیا کے ملازمین اور دفتر پر حملے بھی کیے گئے تھے‘تاہم اس واقعے کے بعد الطاف حسین نے اپنی تقریر کے لیے معافی مانگ لی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ساتھیوں کے ماورائے عدالت قتل اور گرفتاریاں دیکھ کر شدید ذہنی دباﺅ کا شکار تھے اور اسی عالم میں وہ تقریر کر بیٹھے. اس ریفرنس کے بھجوائے جانے کے بعد فروری 2017 میں پاکستان کی وزارت داخلہ نے الطاف حسین کے ریڈ ورانٹ جاری کرنے کی منظوری دی تھی. خیال رہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ اکتوبر 2016 میں منی لانڈرنگ کیس میں الطاف حسین سمیت چھ افراد کے خلاف تحقیقات ختم کر چکی ہے.