7022 ارب روپے کے حجم اور 3560ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش

ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں میں 3255 ارب روپے ملیں گے‘روزہ مرہ کی کئی اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل جون 22:10

7022 ارب روپے کے حجم اور 3560ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔11 جون۔2019ء) وفاقی بجٹ 2019-20کا کل تخمینہ 7022 ارب روپے ہے جو پچھلے سال سے 30 فیصد زیادہ ہے‘وفاقی محصولات مجموعی طور پر 6717 ارب روپے ہوں گے جو پچھلے سال سے 19 فیصد زیادہ ہیں جبکہ ایف بی آر نے اس سال ٹیکس وصولی کا ہدف 5550 ارب روپے رکھا ہے. بجٹ خسارہ 3560 بلین روپے ہوگا‘مجموعی مالیاتی خسارہ تقریباً 3137 بلین روپے ہو گا‘ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں میں 3255 ارب روپے تقسیم کیے جائیں گے، جو پچھلے سال کی نسبت 32 فیصد زیادہ ہیں.

نیٹ وفاقی ذخائر 3462 ارب تک پہنچ جائیں گے جو کہ پچھلے سال کی نسبت 13 فیصد زیادہ ہیں بجٹ میں ایل این جی کی امپورٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو17.18 روپے فی مکعب فٹ سے بڑھا کر مقامی گیس کے برابر 10 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی تجویز ہے. بجٹ میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ ٹیکس گوشوارے نہ جمع کروانے والے افراد کے خلاف کارروائی کے لیے خصوصی جج کی عدالت میں مقدمے قائم کیے جائیں گے اور مذکورہ شخص کی گرفتاری بھی ممکن ہوگی.

بجٹ میں سیمنٹ کی فی بوری پر 2 روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہر کی تقریر کے دوران حفیظ شیخ بھی متحرک نظر آئے مشیر خزانہ، جو کہ وزیرِ مملکت برائے خزانہ کے برابر والی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے نے ایک موقع پر جھک کر حماد اظہر کے سامنے رکھے کاغذات پر کچھ لکھا اور پھر اپنی نشست پر بیٹھ گئے.

حماد اظہر بجٹ تقریر میں کہا کہ جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس کی شرح 12 فیصد ہے اور صرف 19 لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں‘حماد اظہر کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ 2017 کی جاری تنخواہ پر ہو گا. اسی طرح گریڈ 1 سے 16 کے ملازمین کے لیے 10 فیصد ایڈہاک ریلیف‘گریڈ 17 سے 20 کے ملازمین کے لیے 5 فیصد ایڈہاک ریلیف جبکہ گریڈ 21 اور 22 کے ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ نہیں ہو گا ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے.

حماد اظہر نے بجٹ تقریرمیں بتایا کہ جب ہماری حکومت آئی تو مالیاتی خسارہ 2260ارب روپے تک پہنچ گیا تھا، جاری کھاتوں کا خسارہ 20ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، تجارتی خسارہ 32ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، مجموعی قرضے 31ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے تھے، ہم نے تجارتی خسارہ چار ارب ڈالر کم کیا اور اب بجلی کے گردشی قرضوں میں12 ارب روپے کی کمی آئی ہے. بجٹ 20۔

(جاری ہے)

2019 کا مجموعی حجم 7 ہزار 22 ارب روپے ہے جو کہ گزشتہ بجٹ سے 30 فیصد زائد ہے،ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار 555 ارب روپے رکھا گیا ہے، جی ڈی پی میں ٹیکسوں کا تناسب 12 اعشاریہ 6 فیصد ہے، مالی خسارے کا تخمینہ 3 ہزار 137 ارب روپے ہے.

بجٹ میںکولڈڈرنکس پرڈیوٹی 11.5سےبڑھاکر 13 فیصد جب کہ مشروبات پر ڈیوٹی 11.25سے بڑھا کر 14فیصد کردی گئی، چینی پرسیلزٹیکس 8سےبڑھاکر 13 فیصدکردیاگیا جس سے چینی کی قیمت ساڑھے 3 روپے فی کلوبڑھےگی، خوردنی تیل اور گھی پر بھی 14فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، سونے، چاندی، ہیرے کے زیورات پرسیلزٹیکس بڑھانے کافیصلہ کیا گیا ہے. بجٹ میںبجٹ میں سنگ مرمر کی صنعت پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے، سیمی پراسس اورپکے ہوئے چکن،مٹن، بیف اورمچھلی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے.

وفاقی حکومت نے کم ازکم تنخواہ 17 ہزار 500 مقرر کرتے ہوئے بتایا کہ اضافہ 2017 سے جاری تنخواہ پر ہوگا‘اسی طرح ایک ہزار ایک سی سی سے 2 ہزار سی سی تک گاڑیوں پر پانچ فیصد جب کہ 2 ہزار سی سی سے زائد کی گاڑی پر ساڑھے سات فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے. بجٹ میں تنخواہ دار اورغیر تنخواہ دارافراد کے لیے ٹیکس شرح میں اضافہ اور تنخواہ دار ملازمین کیلئے قابل ٹیکس آمدنی کی حد 12لاکھ سے کم کرکے 6 لاکھ روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جب کہ غیر تنخواہ دار انفرادی ٹیکس دہندگان کیلئے قابل ٹیکس آمدنی کہ حد کم کرکے چار لاکھ روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، غیر تنخواہ دار طبقے کو سالانہ چار لاکھ آمدن پر ٹیکس دینا ہو گا.

حماد اظہر نے کہا کہ آئی ایم ایف سے 6ارب ڈالرکےمعاہدہ ہوگیا ہے، چین سے313 اشیاکا ڈیوٹی فری برآمدات کافیصلہ کیاگیا جبکہ 95 منصوبے شروع کرنے کیلئے فنڈزجاری کئے گئے. وزیرمملکت نے بتایا کہ دفاع اورقومی خودمختاری ہرچیزسےمقدم ہے، سول اور عسکری حکام نے اپنے بجٹ میں مثالی کمی کی ہے تاہم دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے پربرقرار رہے گا، حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم کرکے 437 ارب روپے کردیے ہیں، ملک میں صرف380کمپنیاں کل ٹیکس کااسی فیصد دیتے ہیں جب کہ 31لاکھ کمرشل صارفین میں سے 14 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں اس لیے ہمیں تنخواہوں کیلئے بھی قرض لیناپڑتاہے، قرضوں اور ایڈوانسز کی بازیابی کا نظر ثانی میزانیہ 183.520ہدف رکھاگیا.

بجٹ تقریر کے مطابق قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے1800 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 894 ارب 50 کروڑ روپے رکھا گیا ہے، بیرونی ذرائع سے حاصل ہونیوالی وصولیوں کا ہدف 1828 ارب 80کروڑ روپے رکھا گیا ہے نجکاری پروگرام سے 150ارب روپے حاصل ہونے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اس طرح کل دستیاب وسائل کا تخمینہ 7036ارب 30 کروڑ روپے رکھا گیا ہے.

حماد اظہر نے کہا کہ کراچی کے ترقیاتی بجٹ کے لیے45.5ارب روپے رکھے جارہے ہیں، جب کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے 10.4ارب روپے رکھے جارہے ہیں، سکھر ،ملتان سیکشن کے لیے 19ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، توانائی کے لیے 80ارب روپے اور انسانی ترقی کے لیے 60 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں. بجٹ میں ہائرایجوکیشن کمیشن کے لیے 59 ارب 10 کروڑ جب کہ وفاقی وزارت تعلیم کے لیے 13 ارب 70 کروڑ 90 لاکھ مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے،مقبوضہ کشمیر کے طلباءکے لیے اسکالرشپ کی مد میں 10 کروڑ 56 لاکھ روپے اور کمیونٹی اسکولز 20 کروڑ35 لاکھ مختص کرنے کی تجویز کی گئی ہے.

وفاقی وزارت تعلیم کے لیے 4ارب،79کروڑ67لاکھ کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے،نیشنل کمیشن فارہیومین ڈویلپمنٹ کے لیے بجٹ میں 11کروڑ10لاکھ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے. وزیر مملکت نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ آبی وسائل کے لیے70 ارب روپے مختص کیے جارہےہیں،غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 6192ارب 90 کروڑ روپے رکھا گیا ہے، پنشن کی مد میں اخراجات کا تخمینہ 421ارب روپے رکھا گیا ہے،سود کی ادائیگیوں کے لیے2891ارب 40 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں اور آیندہ سال کے دوران سبسڈی کے لیے271ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں.

وزیرمملکت نے کہا کہ بجلی چوری کے خلاف منظم مہم شروع کی ہے،بجلی اور گیس کے لیے 40ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے جب کہ گیس کا گردشی قرضہ 150ارب روپے ہےاور اگلے 24ماہ میں گردشی قرضوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے. انہوں نے بتایا کہ 44.8ارب روپے گندم اور چاول کی پیدوار بڑھانے کے لیے مختص کیے گئے اور فاٹا کے علاقوں کے لیے 152ارب روپے مختص کیے گئے ہیں.

کاغذ کی پیداوار کے لیے خام مال کوکسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ، ادویات کی پیداوارکے خام مال کی 19 بنیادی اشیا کو 3 فیصد امپورٹ ڈیوٹی سے استثنیٰ دینے کی تجویز دی گئی ہے، اسی طرح ریسٹورنٹ اوربیکری مصنوعات پر سیلزٹیکس 17 سے کم کرکے 7.5 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے. وفاقی حکومت نے مالی سال 20-2019 کے لیے چینی کی سیلز ٹیکس میں 17 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی ہے جس کے نتیجے میں فی کلو 3 روپے 65 پیسے کا اضافہ متوقع ہے اس کے علاوہ خوردنی تیل اور سیمنٹ بھی مہنگے ہوجائیں گے.

وزیر مملکت ریونیو کہا کہ اس وقت چینی پر 8 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے جبکہ اس شعبے میں وسیع معاشی مواقع موجود ہیں‘ اس شعبے میں جمع ہونے والا ٹیکس صرف 18 ارب روپے ہے جو اس کی حقیقی صلاحیت سے بہت کم ہے. حماد اظہر نے کہا کہ ٹیکس میں موجود خلا کو کم کرنے اور اس کے ریٹ کو دیگر اشیا سے ہم آہنگ کرنے کے لیے چینی پر سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 17 فیصد کردیا جائے گا.

انہوں نے کہا کہ چینی کے سیلز ٹیکس کے ریٹ میں اس اضافے کے اثر سے صارفین کو جزوی طور پر بچانے کے لیے یہ تجویز ہے کہ چینی کو ان اشیا سے نکال دیا جائے جن کی غیر رجسٹڑڈ افراد کو فروخت سے اضافی 3 فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے. چینی کی قیمت میں اضافے کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ اس اقدام کے نتیجے میں امید ہے کہ چینی کی قیمت میں صرف 3 روپے 65 فیصد روپے فی کلو گرام اضافہ ہوگا.

وزیر مملکت نے کہا کہ بناسپتی گھی اور کوکنگ آئل پر صرف فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ہے، پیداکاروں کو ویلیو ایڈیشن پر ایک روپے فی کلوگرام کے حساب سے اور درآمد شدہ خوردنی تیل سیڈز کی ویلیو ایڈیشن پر 40 روپے فی کلوگرام کے حساب ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے. انہوں نے کہا کہ ٹیکس کی محصولات اصل صلاحیت کے مقابلے میں انتہائی کم ہے حالانکہ خوردنی تیل کی 27 فیصد پیداوار مقامی ہے اور مقامی پیداوار پر صرف 50 کروڑ ٹیکس وصول ہوا ہے اور درآمد پر اس ٹیکس کی مقدار 42 ارب روپے ہے.

مالی سال کے بجٹ میں تجویز پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تجویز ہے کہ خوردنی تیل پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھا کر 17 فیصد کردی جائے اور ویلیو ایڈیشن ٹیکس کے بدلے میں ایک روپے فی کلوگرام ٹیکس کو بھی ختم کردیا جائے. وفاقی حکومت نے خوردنی تیل کے بیجوں پر رعایتی ریٹس کو بھی ختم کرنے کی تجویز دی ہے‘ ایسا گھی یا کوکنگ آئل جو ریٹیل پیکنگ میں کسی برانڈ نام سے فروخت ہوتا ہے اس کے لیے تجویز ہے کہ ریٹیل پرائس کے 17 فیصد کے برابر سیلز ٹیکس عائد کیا جائے.

خوردنی تیل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس کی مد میں معمول کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی قانون کو بحال کیا جائے. وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر سیمنٹ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ایک روپے 50 پیسے فی کلوگرام کے حساب سے نافذ العمل ہے. انہوں نے کہا کہ تجویز ہے کہ سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھا کر 2 روپے فی کلوگرام کردی جائے.

بجٹ میں صوبائی سرپلس کے لیے 423 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں جبکہ ڈیم کے منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے جس میں 15 ارب روپے بھاشا ڈیم اور 20 ارب روپے مہمند ڈیم کی اراضی کے لیے مختص کیئے ہیں اسی طرح داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 55 ارب روپے رکھے گئے ہیں‘اشیاءضروریہ کے لیے جنرل سیل ٹیکس کی شرح کو 17 فیصد پر برقرارگیا ہے. ہیولین تھاکوٹ موٹر وے کے لیے 24 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیںاسی طرح ‘انسانی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 60 ارب روپے‘اعلیٰ تعلیم کے لیے 45 ارب روپے‘وفاقی ترقیاتی بجٹ میں زراعت کے لیے 1200 ارب روپے‘کراچی میں 9 منصوبوں کے لیے 45.5 ارب روپے‘بلوچستان میں ترقیاتی پیکج کے لیے 10.4 ارب روپے اور پانی کے منصوبوں کے لیے 30 ارب روپے‘خشک دودھ، پنیر، کریم پر 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جبکہ وفاقی آمدنی کا تخمینہ 6 ہزار 717 ارب روپے رکھا گیا ہے.

بجٹ میں زرعی شعبے کے لیے 12 ارب روپے‘بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا وظیفہ بڑھا کر 5500 روپے کرنے کی تجویز‘چینی، کوکنگ آئل، گھی، مشروبات، سگریٹ اور سی این جی مہنگی کرنے کی تجویز‘گریڈ ایک سے 16 تک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد ایڈہاک اضافے کی تجویز دی گئی ہے . یاد رہے کہ 2018 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پہلا وفاقی بجٹ پیش کیا گیا ہے اس سے قبل وہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود اپریل 2018 میں بجٹ پیش کیے جانے کے بعد متعدد ضمنی بجٹ پیش کرچکی ہے گذشتہ مالی سال 19-2018 کے لیے وفاقی حکومت نے 5246 ارب روپے کا بجٹ تخمینہ لگایا تھا.

قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں ایک نئے سفر کا آغاز ہوا ہے، تحریک انصاف نئی سوچ، نیا عزم اور ایک نیا پاکستان لائی ہے، پاکستان کے لوگوں کی مرضی ہمیں یہاں لائی ہے، اب وقت ہے لوگوں کی زندگی بدلنے کا، اداروں میں میرٹ لانے کا اور کرپشن ختم کرنے کا.

وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کا پہلا مکمل بجٹ پیش کیا تو اس دوران اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کیا گیا، اپوزیشن ارکان نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور دوران بجٹ تقریر انہوں نے شور شرابا کیا. انہوں نے کہا کہ ہم سب اس ملک اور آئین کے محافظ ہیں، اس حکومت کے منتخب ہوتے وقت پائی جانے والی معاشی صورتحال کو یاد کریں اور کچھ حقائق بتانے کی اجازت دیں.

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مجموعی قرض اور ادائیگیاں 31 ہزار ارب روپے تھی اور 97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ جات اور ادائیگیاں تھی اور بہت سے تجارتی قرضے زیادہ سود پر لیے گئے، گذشتہ 5 سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں تھا جبکہ حکومت کا مالیاتی خسارہ 2 ہزار 260 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا. وزیر مملکت نے بتایا کہ ہم نے فوری خطرات سے نمٹنے اور معاشی استحکام کے لیے چند اقدامات کیے، درآمدی ڈیوٹی میں اضافے سے یہ 49 ارب ڈالر سے کم ہوکر 45 ارب ڈالر تک آگئی، ترسیلات زر میں 2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، 38 ارب روپے ماہانہ کے حساب سے بڑھنے والے قرضوں میں 12 ارب ڈالر کی ماہانہ کمی آئی، چین اور دوست ممالک سے 2 ارب ڈالر کی امداد ملی.

انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوگیا ہے، اس سے معیشت کو استحکام حاصل ہوگا جبکہ سعودی عرب سے فوری ادائیگی کے بغیر تیل درآمد کرنے کی سہولت حاصل کی، ان اقدامات کی بدولت اس سال جاری اکاﺅنٹ خسارے میں 7 ارب ڈالر کی کمی آئے گی‘حماد اظہر نے بتایا کہ ان سب بیرونی اقدامات کے علاوہ حکومت نے دیگر اقدامات کیے، اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم متعارف کروائی گئی.

مالی سال 20-2019 کے بجٹ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے بیرونی خسارے میں کمی کا ہدف رکھا ہے اور کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 13 ارب ڈالر تک کم کرکے 6.5 ارب ڈالر تک کم کیا جائے گا، درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ کیا جائے گا، آزادانہ تجارتی معاہدوں کو دیکھا جائے گا، سول و عسکری حکام نے اپنے اخراجات میں مثالی کمی کا اعلان کیا ہے. انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹیکس وصولی کم ہے، نئے پاکستان میں اس کو بدلنا ہوگا، جب تک ٹیکس نظام میں بہتری نہیں آئی گی پاکستان ترقی نہیں کرسکتا، سول و عسکری بجٹ میں کفایت شعاری کے ذریعے بچت کی جائے گی.

انہوں نے کہا کہ پاک۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) ہماری مستقل ترجیح ہے جس کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اس میں نئے شعبے شامل کیے گئے ہیں جن میں اقتصادی ترقی، زراعت اور خصوصی معاشی زونز بنانے کے ذریعے صنعتی ترقی کا حصول شامل ہے، جبکہ ریلوے کے شعبے کو ترقی دینے کے لیے رقم مختص کی گئی. انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ ایک لعنت ہے، اس سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے اور معاشی نقصان ہوتا ہے، تجارت پر منحصر منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے ایک نیا نظام تجویز کیا جارہا ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو افراط زر کو قابو میں رکھنے کے لیے مانیٹری پالیسی بنانے کی وسیع تر خودمختاری دی جارہی ہے، جبکہ حکومت کو رقوم کمرشل بینکوں میں رکھنے کی ممانعت کردی گئی ہے.

حماد اظہر نے بتایا کہ بیرونی استحکام کے علاوہ حکومت نے دیگر اقدامات بھی کیے، اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم پر عملدرآمد جاری ہے جس سے ٹیکس کا دائرہ وسیع ہوگا اور بے نامی اور غیر رجسٹرڈ اثاثے معیشت میں شامل ہوں گے، 95 ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کے لیے فنڈز جاری کیے گئے، احتساب کے نظام، اداروں کے استحکام اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے، اسٹیٹ بینک کو مزید خودمختاری دی گئی، افراط زر کو مانیٹری پالیسی کے ذریعے کنٹرول کیا جارہا ہے.

انہوں نے بتایا کہ ٹیکس پالیسی کو ٹیکس انتظامیہ سے الگ کیا گیا ہے تاکہ دونوں کام بہتر طریقے سے ہو سکے، ایک ٹریڑری بینک اکاﺅنٹ بنایا گیا ہے اور اب حکومت کی رقم کمرشل بینک اکاو¿نٹ میں رکھنا منع ہے، پاکستان بناﺅ سرٹیفکیٹ کا اجرا کیا گیا تاکہ سمندر پار پاکستانی 6.75 فیصد منافع سے فائدہ اٹھا کر وطن میں سرمایہ کر سکیں. وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت نے اثاثے ظاہر کرنے کے آرڈیننس 2019 کے نفاذ کے ذریعے اصلاحات کا پیکج متعارف کروادیا ہے تاکہ غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نظام میں شامل کیا جائے اور ٹیکس تعمیل کی حوصلہ افزائی سےمعاشی بحالی و نمو کے مقاصد پورے ہوں.وزیر مملکت حماد اظہر نے بجٹ تقریر کے دوران اعلان کیا کہ مالی سال 20-2019 کے لیے جی ڈی پی کا ہدف 4 فیصد رکھا گیا ہے‘ گذشتہ مالی سال 19-2018 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے جی ڈی پی کا ہدف 6.2 فیصد مقرر کیا تھا تاہم گذشتہ روز عبدالحفیظ شیخ کی جانب سے پیش کیے گئے اقتصادی سروے کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں جی ڈی پی 3.3 فیصد رہی.

اس سے قبل مالی سال 18-2017 میں جی ڈی پی کا ہدف 6 فیصد مقرر تھا، مالی سال 17-2016 میں 5.7 فیصد، 16-2015 میں 5.5 فیصد، 15-2014 میں 5.1 فیصد اور 14-2013 میں اس کا ہدف 4.4 فیصد رکھا گیا تھا. خیال رہے کہ جی ڈی پی میں زراعت کے حصے پر نظر ڈالیں تو مالی سال 19-2018 کیلئے یہ 3.8 فیصد مقرر کیا گیا تھا تاہم یہ 0.8 رہا، 17-2016 میں عارضی طور پر 3.46 فیصد رہا، 16-2015 میں 0.27 فیصد، 15-2014 میں 2.13 فیصد اور 14-2013 میں یہ 2.5 فیصد تھا.

جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ کا حصہ مالی سال 19-2018 کے لیے 8.1 فیصد مقرر کیا گیا تھا لیکن یہ منفی 0.3 فیصد رہا، 17-2016 میں عارضی طور پر 5 فیصد رہا، 16-2015 میں 5.8 فیصد، 15-2014 میں 5.2 فیصد اور 14-2013 میں یہ 4.53 فیصد تھا. جی ڈی پی میں اشیاءکی پیداوار کے شعبے کا حصہ مالی سال 19-2018 کے لیے 7.6 فیصد مقرر کیا گیا لیکن یہ 1.40 رہا، 17-2016 میں عارضی طور پر 4.3 فیصد، 16-2015 میں 3 فیصد، 15-2014 میں 3.6 فیصد، 14-2013 میں 3.49 فیصد تھا.

سروسز کے شعبے میں شرح نمو کی ترقی مالی سال 19-2018 کے لیے 6.5 فیصد مقرر کی گئی تھی لیکن یہ 4.71 رہی، 17-2016 میں عارضی طور پر 5.6 فیصد، 16-2015 میں 5.6 فیصد، 15-2014 میں 4.4 فیصد اور 14-2013 میں 4.46 فیصد رہی. گذشتہ بجٹ کے دوران جی ڈی پی کی شرح میں ٹیکس ریونیو کی شرح 19-2018 میں 12.6 رہی، 17-2016 میں 8.5 فیصد، 16-2015 میں 12.6 فیصد، 15-2014 میں 11 فیصد اور 14-2013 میں یہ 10.2 فیصد رہی. وزیر مملکت نے بتایا کہ جب تحریک انصاف کو حکومت ملی تو بجلی کے نظام کا گردشی قرضہ 1200 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا اور 38 ارب ماہانہ کی شرح سے بڑھ رہا تھا، سرکاری اداروں کی کارکردگی 1300 ارب روپے کے مجموعی خسارے سے ظاہر تھی، پاکستانی روپے کی قدر بلند رکھنے کے لیے اربوں ڈالر جھونک دیئے گئے، اس مہنگی حکمت عملی سے برآمدات کو نقصان پہنچا، درآمدات کو سبسڈی ملی اور معیشت کو نقصان ہوا، ایسا زیادہ دیر نہیں چل سکتا تھا اس لیے دسمبر 2017 میں روپیہ گرنے لگا اور ترقی کا زور ٹوٹ گیا، چیزوں کی قیمتوں پر دباو¿ بڑھ رہا تھا اور افراط زر 6 فیصد کو چھو رہی تھی.

انہوں نے کہا کہ حکومت وقت کی ذمہ داری تھی کہ وہ مناسب اقدامات سے صورتحال کو قابو میں لاتی، ہم نے فوری خطرات سے نمٹنے اور معاشی استحکام کے لیے چند اقدامات کیے، درآمدی ڈیوٹی میں اضافے سے یہ درآمدات 49 ارب ڈالر سے کم ہوکر 45 ارب ڈالر تک آگئی اور تجارتی خسارہ 4 ارب ڈالر کم ہوا، وزیر اعظم کے اعتماد دلانے سے ترسیلات زر میں 2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، 38 ارب روپے ماہانہ کے حساب سے بڑھنے والے بجلی کے گردشی قرضے میں میں 12 ارب ڈالر کی ماہانہ کمی آئی اور اسے 26 ارب روپے پر لایا گیا جبکہ چین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت دوست ممالک سے 9.2 ارب ڈالر کی امداد ملی، اس امداد پر ان ممالک کا شکر گزار ہوں.

انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹیکس وصولی کم ہے، نئے پاکستان میں اس کو بدلنا ہوگا، جب تک ٹیکس نظام میں بہتری نہیں آئی گی پاکستان ترقی نہیں کرسکتا، سول و عسکری بجٹ میں کفایت شعاری کے ذریعے بچت کی جائے گی. انہوں نے بتایا کہ انضمام شدہ قبائلی علاقوں کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 152 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے جس میں 10 سالہ ترقیاتی منصوبہ بھی شامل ہے جس کے لیے وفاقی حکومت 48 ارب روپے دے گی، یہ 10 سالہ پیکج 1 کھرب روپے کا حصہ ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتیں مہیا کریں گی.

انہوں نے کہا کہ بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک سے قرض حاصل کیا جاتا ہے اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اب یہ سہولت استعمال نہیں ہوگی، افراط زر کے لیے ہمارا وسط مدتی ہدف 5 سے 7 فیصد ہے، بدعنوانی کے مقابلے کے لیے پرعزم ہیں، اداروں کو خودمختاری دیں گے اور ان کی صلاحیت میں اضافہ کریں گے، 20-2019 معیشت کے استحکام کا سال ہوگا. انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹیکس وصولی کم ہے، نئے پاکستان میں اس کو بدلنا ہوگا، جب تک ٹیکس نظام میں بہتری نہیں آئی گی پاکستان ترقی نہیں کرسکتا، سول و عسکری بجٹ میں کفایت شعاری کے ذریعے بچت کی جائے گی.

اپنی تقریر کے دوران ٹیکس تجاویز کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس سال پاکستان نے سابق حکومتوں کی طرف سے متعارف کروائی گئی ناقص ٹیکس پالیسیوں کے بدترین اثرات کا سامنا کیا، ان پالیسیوں کو پاکستانی عوام کی تائید حاصل نہ تھی، گزشتہ حکومت نے اضافی ٹیکس ریلیف فراہم کیا جس سے ٹیکس بیس میں 9 فیصد کمی واقع ہوئی، گزشتہ 5 سال کے دوران حکومت نے ٹیکس محصولات میں اضافے کے لیے صرف ٹیکس ریٹ میں اچانک تبدیلیوں کی رسائی کا سہارا لیا اور زیادہ مستعد، مساویانہ اور مضبوط ٹیکس نظام کے قیام میں ٹیکس بیس میں اضافے کی اہمیت کو تسلیم نہیں کیا گیا اور اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوئے.

انہوں نے بتایا کہ 22 کروڑ آبادی میں صرف 19 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرواتے ہیں اور ان میں بھی ٹیکس جمع کروانے والوں کی تعداد 13 لاکھ ہے، ساتھ ہی یہ بات بھی تشویشناک ہے کہ سیلز ٹیکس فائلرز کی تعداد صرف ایک لاکھ 41 ہزار ہے جس میں سے صرف 43 ہزار اپنے گوشواروں کے ساتھ ٹیکس ادا کرتے ہیں، پاکستان میں جی ڈی پی کے لحاظ سے ٹیکس کی شرح 12 فیصد ہے جو نہ صرف خطے بلکہ دنیا میں کم ترین شرح میں سے ایک ہے جبکہ موجودہ اخراجات کے لحاظ سے ضروری ہے کہ ٹیکس کی شرح جی ڈی پی کا 20 فیصد ہو، اسی تناظر میں موجودہ حکومت نے ٹیکس اصلاحات کا ایسا ایجنڈا ترتیب دیا ہے جس کے ذریعے سخت فیصلے کیے جائیں گے جو نہ صرف مائیکرو انکامک اسٹیبیلٹی بلکہ آنے والی نسلوں کی خاطر قومی یکجہتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے.

مالی سال 20-2019 کے مجوزہ ٹیکس اقدامات کے بنیادی اصولوں کے بارے میں مختصر طور پر بتاتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ یہ اقدامات حکومت کے درمیانی مدت پالیسی فریم ورک کا حصہ ہیں، اس فریم ورک کی بنیادی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ درمیانی مدت کے دوران جمع ہونے والے محصولات اور حقیقی پوٹینشل میں فرق کم کیا جائے. انہوں نے کہا کہ مالی سال 19-2018 میں حکومت نے ٹیکس اخراجات کی حد 972 ارب 40 کروڑ روپے کی ٹیکس سہولیات دیں، یہ اخراجات ان بے شمار ٹیکس چھوٹ رعایتوں کا نتیجہ ہیں جو معیشت کے مختلف شعبوں کو مہیا کی جارہی ہیں، تاہم ان رعایتوں میں کمی سے نہ صرف محصولات بلکہ ٹیکس نیٹ میں بھی اضافہ ہوگا.

وزیر مملکت نے کہا کہ ٹیکس کے خلا کو کم کرنے کی کوششیں 2 حصوں پر مشتمل ہیں، ایک چھوٹ اور رعایتوں میں مرحلہ وار کمی، دوسرا ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی شرح کو مرحلہ وار مساویانہ بنانا اور خصوصی طریقہ پر نظرثانی کرنا، موثر اور خوف سے پاک ٹیکس تعمیل کو یقینی بنانا ہے. انہوں نے بتایا کہ ٹیکس گزار اور ٹیکس وصول کرنے والے کے مابین انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے رابطہ کاری کو متعارف کروایا جائے گا، جس سے ٹیکس گزار اور محکمے کے مابین اعتماد کا فقدان کم ہوگا.

وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت نے اثاثے ظاہر کرنے کے آرڈیننس 2019 کے نفاذ کے ذریعے اصلاحات کا پیکج متعارف کروادیا ہے تاکہ غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نظام میں شامل کیا جائے اور ٹیکس تعمیل کی حوصلہ افزائی سے معاشی بحالی و نمو کے مقاصد پورے ہوں. بجٹ تقریر کے دوران کسٹم ڈیوٹی کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے حماد اظہر نے بتایا کہ ماضی میں ملکی ٹیکسوں سے ملنے والے کم ریونیو کی وجہ سے کسٹم ٹیرف کو درآمدات سے ریونیو حاصل کرنے کے لیے بے دردری سے استعمال کیا گیا، اس وقت پاکستان میں اوسطاً کسٹمز ٹیرف اور درآمدات کے مرحلے کے حوالے سے ریونیو بہت زیادہ ہے جبکہ درآمدات سے حاصل ہونے والے ریونیو میں تیزی سے اضافہ ہوا، درآمد شدہ خام مال کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں ملکی اور برآمدی دونوں صنعتوں کی مسابقت پر منفی اثرات مرتب ہوئے.

انہوں نے بتایا کہ حکومت کو مکمل یقین ہے کہ برآمدات اور ملکی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے کسٹمز ٹیرف کا استدلال ایک بنیادی ضرورت ہوتی ہے، اسی مقصد کے لیے 1600 سے زائد ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی، خام مال کے ضمن میں مستثنیٰ کی جارہی ہے، جس سے تقریباً 20 ارب روپے کا ریونیو کا نقصان ہوگا لیکن صنعتی ترقی کے بدلے میں بہت زیادہ فوائد کی توقع ہے، حکومت کسٹمز ٹیرف کے اصلاحاتی منصوبے کو حتمی شکل دے رہی ہے جسے مرحلہ وار لاگو کیا جائے گا.

حماد اظہر نے کہا کہ ٹیکسٹائل کے شعبہ اہم ہے اور حکومت کی پالیسی ہے کہ اس شعبے کو ٹیکسٹائل مشینری کے پارٹس اور آلات پر ڈیوٹی سے چھوٹ دے کر معاونت فراہم کی جائے گی، اسی طرح لچکدار دھاگے اور بغیر بنے کپڑے پر ڈیوٹی بھی کم کی جائے گی. انہوں نے بتایا کہ ملک کے تعلیمی شعبے میں کاغذ کا استعمال انتہائی اہم ہے اور اس کی قیمت سے تعلیم کی مجموعی لاگت پر اثر پڑتا ہے، کاغذ کی پیداوار کے لیے استعمال ہونے والے بنیادی خام مال جیسے برادہ اور کاغذ کے اسکریپ کو کسٹم ڈیوٹی سے چھوٹ دینے کی تجویز ہے جبکہ مختلف اقسام کے کاغذ پر ڈیوٹی 20 سے 16 فیصد تک کم کی جائے گی، جس سے کاغذ اور کتابوں کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور پرنٹنگ کی صنعت کی حوصلہ افزائی ہوگی جبکہ قرآن پاک کی اشاعت کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جارہے ہیں.

بجٹ تجاویز کے دوران ان کا کہنا تھا کہ غیر روایتی برآمدات میں اضافے کے لیے لکڑی کے فرنیچر اور ریزر کی پیداوار میں استعمال ہونے والی کچھ اشیا پر ڈیوٹی کم کی جاسکتی ہے، مقامی جنگلات کو بچانے اور فرنیچر کنندگان کی حوصلہ افزائی کے لیے لکڑی پر ڈیوٹی 3 فیصد سے کم کرکے صفر فیصد اور لکڑی کے مصنوعی پینلز پر ڈیوٹی 11 فیصد سے کم کرکے 3 فیصد کرنے کی تجویز ہے، اسی طرح ریزر کے برآمد کنندگان کے لیے اسٹیل کی پٹیوں پر ڈیوٹی 11 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنے کی تجویز دی جارہی ہے.

انہوں نے بتایا کہ گھریلو اشیا کی صنعت، پرنٹنگ پلیٹ کی صنعت، سولر پینلز کے اسمبلرز اور کیمیکل انڈسٹری کے مداخل کی لاگت کو کم کرنے کے لیے ان کے مداخل پر ڈیوٹیز جیسا کہ گھریلو اشیا کے پارٹس/اجزا ایلومینیم کی پلیٹوں، دھاتی سطح والی اشیا اور ایسٹک ایسڈ پر ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز ہے، بڑے پیمانے کی صنعتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی غرض سے تیل صاف کرنے والے ہائیڈرو کریکر پلانٹس کی تنصیب کے لیے استعمال ہونے والے پلانٹ اور مشینری پر ڈیوٹی سے چھوٹ دینے کی تجویز ہے .

زرمبادلہ کے ذخائر کو بچانے کے لیے ممنوعہ ریگولیٹری ڈیوٹیز کے استعمال درآمدات تو کم ہوئیں لیکن ان میں کچھ اشیا ٹرانزٹ ٹریڈ میں چلی گئیں اور پھر انہیں واپس اسمگل کیا گیا، لہٰذا تجویز ہے کہ ٹائر، وارنش اور خوراک کی صنعت میں خوراک کی تیاری کے حوالے سے ڈیوٹی کے ڈھانچے کو منطقی بنایا جائے تاکہ ان اشیا کو اسمگلنگ میں منتقل ہونے سے بچایا جائے اور ضائع محصولات کو حاصل کیا جائے.

حماد اظہر نے کہا کہ دوائیوں کی قیمتوں میں کمی کی غرض سے ادویات کی پیداوار میں استعمال ہونے والے خام مال کی 19 بنیادی اشیا کو 3 فیصد درآمدی ڈیوٹی سے استثنیٰ دینے کی تجویز دی گئی ہے. ان کا کہنا تھا کہ شپ بریکرز کے لیے درآمد کیے جانے والے جہاز سیلز ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہیں، تاہم جہاز توڑ کر حاصل کی جانے والی شپ پلیٹس پر 9600 فی میٹرک ٹن کے حساب سے ٹیکس نافذ ہے.

حماد اظہر نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں قائم اسٹیل انڈسٹری سیلز ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے اور دیگر علاقوں کے اسٹیل یونٹس ان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے. وزیر مملکت نے کہا کہ ان پیچیدہ قوانین سے چھٹکارا پانے اور اس شعبے سے پوٹینشل ریونیو حاصل کرنے کے لیے تجویز ہے کہ اسپیشل پروسیجر کا خاتمہ کیا جائے اور ان اشیا کو نارمل ٹیکس قانون کے تحت لایا جائے، بیلٹ، راڈز، شپ پلیٹس اور دیگر ایسی اشیا پر سیلز ٹیکس کی صورت میں 17 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جائے، ان اشیا پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے سے فروخت پر سیلز ٹیکس کا خاتمہ کیا جارہا ہے اور بجلی کے استعمال کی بنیاد پر پیداوار کے حوالے سے کم سے کم معیارات کا تعین کیا جارہا ہے.

انہوں نے کہا کہ اوگر کی جانب سے سی این جی کی قیمتوں کی ڈی ریگولیشن کے بعد سے سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، اس تناسب سے ٹیکس کی شرحوں کوریشنالائز نہیں کیا گیا اس لیے تجویز ہے کہ سی این جی ڈیلرز کے لیے ویلیو ریجن ون کے لیے 64.80 روپے فی کلوگرام سے بڑھا کر 74.04 روپے فی کلوگرام اور ریجن ٹو کے لیے 57.69 روپے فی کلوگرام سے بڑھا کر 69.57 روپے فی کلوگرام کردیا جائے.

ان کا کہنا تھا کہ واضح رہے کہ اس اقدام سے سی این جی کی قیمت میں بہت معمولی اضافہ ہوگا کیونکہ سی این جی کی مارکیٹ قیمت اس رقم سے کہیں زیادہ ہے‘وزیر مملکت نے کہا کہ سیلز ٹیکس کی ادائیگی کے لیے ریٹیلرز کو مختلف سطحوں میں تقسیم کیا گیا ہے ، سطح نمبر ایک کے ریٹیلرز کو 17 فیصد یا ٹرن اوور کا 2 فیصد، سطح نمبر 2 کے ذریعے ٹیکس کا نفاذ، تجویز ہے کہ ٹرن اوور ٹیکس کا خاتمہ کردیا جائے.

حماد اظہر نے کہا کہ سطح نمبر ون کے ریٹیلرز کو ایف بی آر کے آن لائن سسٹم سے منسلک کردیا جائے گا، نظام سے منسلک دکانوں سے اشیا کی خریداری اور انوائسز طلب کرنے پر 5 فیصد تک سیلز ٹیکس کی واپسی کی صورت میں فائدہ دیا جائے گا، ایسی دکان جس کا سائز 1000 مربع فٹ یا اس سے زائد ہوگا اسے بھی سطح ون کے ریٹیلرز میں شامل کیا جائے گا. کاٹیج انڈسٹری کو حاصل استثنیٰ کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہورہا ہے جس کی دوبارہ تشریح کی تجویز ہے، یکم جولائی 2019 سے کاٹیج انڈسٹری سے مراد وہ صنعت ہوگی جو رہائشی علاقوں میں قائم ہو، جہاں زیادہ سے زیادہ مزدور کام کرتے ہوں اور سالانہ ٹرن اوور 20 لاکھ روپے سے زائد نہ ہو.

سونے چاندی، ہیرے اور زیورات کی بنائی پر سیلز ٹیکس پر کم شرح سے ٹیکس نافذ کیے جانے کی تجویز ہے‘سنگ مرمر کی صنعت میں فروخت پر ٹیکس کی موجودہ شرح 1.25 روپے فی یونٹ ہے اور تجویز ہے کہ اس شعبے پر بھی 17 فیصد فی یونٹ کی شرح نافذ کی جائے. آئی سی ٹی قانون میں شامل ہونے والی دفعات، تجویز ہے کہ ایسی خدمات جو صوبائی قوانین میں قابل ادا ئیگی ٹیکس ہیں اور وہ آئی سی ٹی قوانین میں شامل نہیں انہیں بھی آئی سی ٹی قوانین میں شامل کیا جائے.

ایسی خدمات جن پر پہلی ہی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ ہے انہیں آئی سی ٹی قانون میں شامل نہیں کیا جائے گا تاکہ دہرے ٹیکس سے بچا جاسکے‘حماد اظہر کا کہنا تھا کہ کاروبار میں آسانی کے لیے اقدامات، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 58 سے ڈائریکٹر یا شیئر ہولڈر کو یہ اختیار دیا جارہا ہے کہ وہ کمپنی کے لیے ادا شدہ ٹیکس کمپنی سے وصول کرسکے، سیلز ٹیکس کے پروسیجر کو آسان بنایا جارہا اور نادرا کے ای سروسز سے سیلز ٹیکس رجسٹریشن ممکن بنائی جاسکے.

ٹیکس گزاروں کی سہولت کے لیے ڈی رجسٹریشن کے حوالے سے قواعد میں ترمیم کی جارہی ہے، اس پروسس کے دوران گوشوارے فائل کرنا ضروری نہیں اور اس کے احکامات پر درخواست دائر کرنے کی اجازت دی جائے. فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے حوالے سے مختلف اشیا پر ٹیکس کے ریٹ میں آہنگی کے لیے چینی والی مشروبات کی کھپت کم کرنے کے لیے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 11.25 فیصد سے بڑھا کر 13 فیصد کرنے کی تجویز ہے.

بناسپتی گھی اور کوکنگ آئل پر صرف فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لاگو ہے، خوردنی تیل، گھی اور کوکنگ آئل پر ایف ای ڈی بڑھا کر 17 فیصد کرنے جبکہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) کے بدلے میں 1 روپیہ فی کلوگرام کو ختم کرنے کی تجویز ہے. انہوں نے کہا کہ صحت کو پہنچنے والے نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریٹیل پرائس کے 5 فیصد کے برابر ایف ای ڈی متعارف کرنے کی تجویز ہے.

حماد اظہر نے کہا کہ تعلیم میں پیچھے رہنے والے اضلاع میں والدین کو بچوں کو اسکول بھیجنے کے لیے خصوصی ترغیب دی جائے گی، جبکہ عمر رسیدہ افراد کے لیے احساس گھر بنانے کا پروگرام شروع کردیا گیا ہے‘ان کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام کے تحت بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے 57 لاکھ انتہائی غریب گھرانوں کو فی سہ ماہی 5000 روپے نقد امداد دی جاتی ہے جس کے لیے 110 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، افراط زر کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے سہ ماہی وظیفے کو بڑھا کر 5500 مقرر کیا گیا ہے.

وزیر مملکت نے کہا کہ غریبوں کی نشاندہی کے لیے سماجی اور معاشی ڈیٹا کو اپ ڈیٹ کیا جارہا ہے جو مئی 2020 تک مکمل ہوگا، اس دوران 3 کروڑ 20 لاکھ گھرانوں اور 20 کروڑ آبادی کا سروے کیا جائے گا. انہوں نے کہا کہ 50 اضلاع میں 'بی آئی ایس پی' سے بچیاں 750 روپے وظیفہ حاصل کرتی ہیں، اس پروگرام کو مزید 100 اضلاع تک توسیع دی جارہی ہے اور بچیوں کے وظیفے کی رقم 750 سے بڑھا کر 1000 تک کی جارہی ہے‘ان کا کہنا تھا کہ صحت سہولت پروگرام کے تحت غریب افراد کو صحت کی انشورنس فراہم کی جاتی ہے، مستحق افراد کو صحت کارڈ فراہم کیے جاتے ہیں جن سے وہ ملک بھر سے منتخب 270 ہسپتالوں سے 7 لاکھ 20 ہزار روپے کا سالانہ علاج کروا سکتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں پاکستان کے 42 اضلاع میں 32 لاکھ خاندانوں کو صحت انشورنس کی سہولت فراہم کی جارہی ہے، اگلے مرحلے میں اسے ڈیڑھ کروڑ پسماندہ خاندانوں تک توسیع دی جائے گی، اس پروگرام کا اطلاق تمام اضلاع بشمول تھرپارکر اور خیبر پختونخوا کے خاندانوں پر ہوگا. آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں حکومت صحت، تعلیم، غدائیت، پینے کے صاف پانی کے لیے 93 ارب روپے مختص کرے گی، کم آمدن والے افراد کو سستے گھر بنا کر دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، اس کے علاوہ موسمی تبدیلی کی تلافی کے لیے بلین ٹری سونامی، کلین اور گرین پاکستان پروگرام شروع کیے گئے ہیں.

ان کا کہنا تھا کہ ہم کوشش کریں گے کہ قیمتوں میں کم سے کم اضافہ کیا جائے لیکن اگر عالمی منڈیوں میں قیمتیں بڑھنے سے ہمیں قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑے تو ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ صارفین کو تحفظ دیا جائے، قیمتوں میں استحکام بنیادی اہمیت رکھتا ہے، مالیاتی پالیسی اور مانیٹری پالیسی کے ذریعے قیمتوں میں اضافے کا مقابلہ کریں گے جس کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کیے گئے ہیں.

حماد اظہر نے کہا کہ زراعت صوبائی محکمہ ہے تاہم اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور اس میں ترقی کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں‘ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے 10.4 ارب روپے سے کوئٹہ ڈیولپمنٹ پیکج کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا ہے، یہ رقم 30 ارب روپے کے پانی اور نکاسی کے منصوبوں سے الگ ہے.

روزگار کے لیے وزیر اعظم کے '50 لاکھ گھر پروگرام' سے 28 صنعتوں کو فائدہ ہوگا اور بے روزگاروں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، اس کے لیے زمینیں حاصل کرلی گئی ہیں اور سرمایہ کاری کے انتظامات مکمل کیے جارہے ہیں، یہ سلسلہ ملک بھر میں پھیلے گا، پہلے مرحلے میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے لیے 25 ہزار اور بلوچستان میں 1 لاکھ 10 ہزار ہاﺅسنگ یونٹ کا افتتاح کیا گیا.

انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں انسانی ترقی کے لیے 60 ارب روپے تجویز کیے جارہے ہیں جبکہ صحت، تعلیم، ترقیاتی اہداف کا حصول، موسمیاتی تبدیلی اہم ترجیحات ہیں‘گذشتہ مالی سال 19-2018 میں مسلم لیگ (ن) نے اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت ایک نئے پروگرام کا آغاز کر رہے ہیں جس کا نام 100،100،100 ہے، جس کی تشریح یہ پیش کی گئی تھی، وفاقی حکومت کا عہد ہے کہ 100 فیصد بچوں کے اسکول میں داخلے، 100 فیصد بچوں کی اسکول میں حاضری اور 100 فیصد بچوں کے کامیابی سے فارغ التحصیل ہونے کو یقینی بنائے گی، یہ بھی اعلان کیا گیا تھا کہ اگرچہ تعلیم کا شعبہ اب صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے، پھر بھی وفاقی حکومت مالی اور انتظامی لحاظ سے ہر صوبے کو اس مقصد کے حصول میں معاونت فراہم کرے گی.

مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے صحت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا دعویٰ کیا تھا، حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صحت کے شعبے کو صوبوں کے حوالے کئے جانے کے باوجود وفاقی حکومت اس شعبے میں اپنی ذمہ داریوں سے روگردانی نہیں کر سکتی تھی، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار غریب عوام کو صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے کیلئے پرائم منسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام کا اجراءکیا گیا جس کے تحت 30 لاکھ خاندانوں کو 41 اضلاع میں سرکاری اور نجی ہسپتالوں سے صحت کی معیاری سہولیات بالکل مفت فراہم کی جا رہی ہیں اور اب اس پروگرام کا دائرہ ملک کے تمام اضلاع تک پھیلایا جا رہا ہے.

7022 ارب روپے کے حجم اور 3560ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش