حمزہ شہباز 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

احتساب عدالت کا حمزہ شہباز شریف کو 26جون کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ جون 12:52

حمزہ شہباز 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 جون 2019ء) احتساب عدالت میں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز شریف کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی، احتساب عدالت نے حمزہ شہباز کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر حمزہ شہباز کو ریمانڈ کے حصول کے لیے احتساب عدالت میں پیش کر دیا۔

لاہور کی احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت کی۔نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر وارٹ علی جنجوعہ حمزہ شہباز کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کے لیے دلائل دئیے۔حمزہ شہباز کی جانب سے ان کے وکیل امجد پرویز اور سلمان اسلم بٹ عدالت میں پیش ہوئے ہیں. احتساب عدالت نے حمزہ شہباز کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔

(جاری ہے)

عدالت نے حمزہ شہباز کا 26 جون تک جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔احتساب عدالت نے حمزہ شہباز کو 26 جون کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ واضح رہے کہ حمزہ شہباز کی ضمانت 11 جون کو ختم ہوگئی تھی، جس میں توسیع کے لیے انہوں نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا تھا، تاہم عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ضمانت میں توسیع کا معاملہ احتساب عدالت دیکھے گی جس پر لیگی رہنما نے اپنی درخواست واپس لے لی اور انہیں گرفتار کرلیا گیا. واضح رہے کہ 5 اپریل 2019 کو آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں نیب کی ٹیم نے لاہور کے علاقے ماڈل ٹاﺅن میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تھا، تاہم وہ انہیں گرفتار نہیں کرسکی تھی. اس واقعے کے اگلے روز 6 اپریل کو ایک مرتبہ پھر نیب کی ٹیم مذکورہ کیسز میں حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے ماڈل ٹاﺅن کی رہائش گاہ پر پہنچی تھی اور گھر کا محاصرہ کرلیا تھا لاہور ہائی کورٹ نے حمزہ شہباز کی درخواست پر نیب کو ان کی گرفتاری سے روک دیا تھا.