الطاف حسین کا پولیس کے سوالوں کے جواب دینے سے انکار

لندن پولیس نے بانی ایم کیو ایم کو مزید 12 گھنٹے حراست میں رکھنے کی درخواست دےدی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ جون 13:04

الطاف حسین کا پولیس کے سوالوں کے جواب دینے سے انکار
لندن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 جون۔2019ء) بانی ایم کیوایم نےتفتیش میں پولیس کوجواب دینے سے انکارکردیا، پولیس بانی ایم کیوایم کوبغیرفردجرم عائدکئے 4روز تک رکھ سکتی ہے، ان کی رہائی یا فرد جرم کا فیصلہ آج ہونے کا امکان ہے. تفصیلات کے مطابق گرفتار بانی ایم کیوایم سدرن پولیس اسٹیشن میں موجود ہیں ، جہاں ان سے 2گھنٹے تک تفتیش کی گئی ، تفتیش کاسیشن رات 10 سے 12 بجے تک جاری رہا‘بانی ایم کیوایم نےتفتیش میں پولیس کوجواب دینےسےانکارکردیا، انھوں نے تفتیش میں صرف نام، تاریخ پیدائش اور پتہ بتایا.

(جاری ہے)

لندن پولیس نے بانی متحدہ کوبتایاآپ کے پاس نوکمنٹس کاآپشن ہے، بانی متحدہ کوکہاگیا کہ نوکمنٹس کہناعدالت میں خلاف بھی جاسکتاہے جبکہ بانی ایم کیوایم کے وکیل نے انہیں نو کمنٹس کہنے کا مشورہ دیا تھا. بانی متحدہ نے تفتیش شروع ہونے کے 2گھنٹے بعد سینے میں دردکی شکایت کی ، لندن پولیس نے سینے میں دردکی شکایت پر تفتیش روک دی، جس کے بعد بانی ایم کیوایم سےتفتیش کاعمل دوبارہ ایک گھنٹے سے شروع ہے.

بانی ایم کیوایم کوگرفتارہوئے 28گھنٹے گزرچکے ہیں، پولیس نے ان پراب تک فردجرم عائدنہیں کی، پولیس بانی ایم کیوایم کو بغیر فرد جرم عائد کئے 4 روز تک رکھ سکتی ہے. بانی متحدہ کی 24 گھنٹے کےلئے حراست کا وقت پورا ہونے کے بعد انہیں مزید 12 حراست میں رکھنے کے لیے درخواست ساﺅتھ ورک پولیس اسٹیشن کے سپرنٹنڈنٹ نے دی تھی‘بانی ایم کیوایم کی رہائی یافردجرم کافیصلہ آج ہونے کا امکان ہے.

یاد رہے کہ گزشتہ روز اسکاٹ لینڈ یارڈنےصبح سویرے بانی ایم کیو ایم کے گھرچھاپہ مار کرانھیں گرفتار کیا تھا، ان پرنفرت انگیز تقریر سے تشدد پر اکسانے کے الزامات ہیں. اسکاٹ لینڈ یارڈ نے بیان میں کہا تھا ایم کیو ایم کےایک شخص کو نفرت انگیزتقریروں پرگرفتارکیا گیا، چھاپے میں پندرہ پولیس اہلکاروں نےحصہ لیا، پولیس نے گھنٹوں رہائش گاہ کی تلاشی لی، اس دوران افسرپاکستانی حکام سے بھی رابطے میں رہے، بعد میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم ایم کیو ایم سیکرٹریٹ بھی پہنچی اور وہاں موجود ریکارڈ کی چھان بین کی.

بانی ایم کیوایم کوپولیس نے کرائم ایکٹ 2007 کے تحت گرفتار کیا اور ان کی گرفتاری دفعہ44کے تحت عمل میں آئی، دفعہ44ملزم تقریر سے عوام کو اشتعال دلانےکی کوشش پر لاگوہوتا ہے. واضح رہے 22 اگست 2016 میں بانی ایم کیو ایم نے لندن سے بذریعہ ٹیلیفونک خطاب کے دوران ریاست مخالف تقریرکی تھی، ان کی تقریر کے بعد اے آر وائی سمیت مختلف ٹی وی چینلزپرحملہ کیا گیا تھا.