انسانیت اب بھی باقی، ہندو لڑکی نے انتہا پسندوں کے قاتلانہ حملے سے مسلم خاندان کو بچا لیا

24 سالہ ہندو لڑکی نے مسلم خاندان کو بچا کر نئی مثال قائم کر دی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ جون 16:01

انسانیت اب بھی باقی، ہندو لڑکی نے انتہا پسندوں کے قاتلانہ حملے سے مسلم ..
بھارت (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 جون 2019ء) : بھارت میں مسلم مخالف بہت سے ایسے گروپس ہیں جو مسلمانوں کو پریشان کرتےاور ذرا ذرا سی بات پر مسلم خاندانوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ بھارت میں کئی ایسے واقعات اکثر و بیشتر سننے کو ملتے ہیں جہاں انتہا پسند ہندو مذہبی اور سماجی اختلافات کی بنا پر مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیتے ہیں جبکہ کئی علاقوں میں تو عام عوام بھی مسلمانوں کو اچھا نہیں سمجھتی۔

تاہم حال ہی میں بھارت کے شیر علی گڑھ میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جہاں ایک ہندو لڑکی نے مسلم گھرانے کو بچا کر انسانیت کی نئی مثال قائم کر دی۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ ہفتے ہندو برادری نے بچی کے بہیمانہ قتل کا الزام دو مسلمان گھرانوں پر عائد کیا جن کے ساتھ ان کے لین دین کے معاملے پر کافی اختلافات تھے ۔

(جاری ہے)

ہندو انتہا پسندوں نے اس آپسی لین دین کے معاملے کو مسلم کش فسادات کے لیے استعمال کیا اور علی گڑھ سے ایک گاڑی میں گزرنے والے مسلم گھرانے پر لوہے کی راڈز، ڈنڈوں اور تیز دھار آلات سے حملہ کردیا۔

مشتعل ہجوم نے گاڑی میں موجود مسلمان لڑکی کے حجاب کو بھی اُتارنے کی کوشش کی اور اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا ، انتہا پسندوں نے گاڑی کے شیشے اور دروازے بھی توڑ دئے۔ تب ہی وہاں گاڑی میں ایک پوجا چوہان نامی 24 سالہ ہندو لڑکی بھی مسلم گھرانے کے ہمراہ گاڑی میں موجود تھی، جس نے اپنی مسلم سہیلی کو مشتعل ہجوم کے چنگل سے آزاد کروایا تھا اور ہجوم کو منتشر کرنے میں بہادری کا مظاہرہ کیا۔

مسلم گھرانے کے سربراہ شفیع محمد عباسی نے زخمی حالت میں میڈیا کو بتایا کہ پوجا کے گھر والوں اور ان کے گھر والوں کے درمیان 34 سال سے رفاقت ہے اور وہ پوجا کو اپنی بیٹی ہی سمجھتے ہیں اور آج بھی ایک شادی کی تقریب میں جانے کے لیے پوجا ہمارے ساتھ جا رہی تھی۔ اس واقعہ پر مسلم برادری نے جہاں اس کی مذمت کی وہیں بہادری کا مظاہرہ کرنے پر 24 سالہ پوجا کی تعریف بھی کی اور کہا کہ پوجا نے ہندو ہونے کے باوجود مسلم گھرانے کی مدد کی تو مذہبی ہم آہنگی کی نئی مثال ہے۔