Live Updates

معاشی اہداف کے حصول کے لیے کچھ لوگوں کو ناراض کرنا ہوا تو تیار ہیں،

کسی اور سے قربانی مانگنے سے قبل خود قربانی دینا ہوگی،حفیظ شیخ

بدھ جون 16:34

معاشی اہداف کے حصول کے لیے کچھ لوگوں کو ناراض کرنا ہوا تو تیار ہیں،
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 جون2019ء) وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ معاشی اہداف کے حصول کے لیے کچھ لوگوں کو ناراض کرنا ہوا تو تیار ہیں، کسی اور سے قربانی مانگنے سے قبل خود قربانی دینا ہوگی،ہمیں سیاست سے بالا تر ہوکر ملکی مفاد کو دیکھنا ہوگا،موجودہ حکومت قرض لے کر درست استعمال نہ کرے تو اس کا احتساب ہو سکتا ہے،برآمدات کرنے والوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہو گا،برآمدی شعبے کی اندرون ملک فروخت پر دیگر شعبوں کی طرح ٹیکس وصول کیا جائیگا،ٹیکس ادا نہ کرنے والے افراد پر گاڑی یا مکان کی خریداری پر 45 دن کے بعد نوٹس جاری کیا جائیگا ،نوٹس میں آمدنی کا تعین اور جرمانہ عائد کیا جائیگا،آئندہ مالی سال کے ٹیکس ہدف کو پورا کرنے کیلئے 1400 ارب روپے اضافی حاصل کرنا ہوں گے،ٹیکس میں روبدل سے عوام زیادہ متاثر نہیں ہوں گے،زیادہ ٹیکس اکھٹا کریں گے تو دیگر ممالک میں عزت ہوگی،اگر بنگلہ دیش اور بھارت کر سکتا تو ہم بھی کر سکتے ہیں،آئی ایم ایف کے اسٹاف لیول معاہدہ ہو چکا،آئی ایم ایف کا بورڈ جلد پاکستان کی درخواست پر غور کرے گا۔

(جاری ہے)

بدھ کو مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے وفاقی وزراء عمر ایوب ، خسرو بختیار ، وزیرمملکت حماد اظہر ، چیئر مین ایف بی آر شبر زیدی و دیگر کے ہمراہ پوسٹ بجٹ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بجٹ چیلنجنگ دور میں پیش کیا گیا،معیشت مشکل دور سے گزررہی ہے، حکومت کو پہلے دن سے ہی مشکل حالات کا سامنا رہا، بجٹ کے اندر تین سے چار چیزوں کو ہدف رکھنے کی کوشش کی ہے، کوشش کررہے ہیں پھر بھی ہم پر تنقید کی جارہی ہے۔

انہوںنے کہاکہ حکومت جب اقتدار میں آئی تو 31 ہزار ارب روپے کا قرض ورثے میں ملا،چار ہزار ارب روپے ٹیکس آمدن میں سے دو ہزار ارب روپے قرض پر سود کی ادائیگی میں استعمال ہو رہا تھا۔ انہوںنے کہاکہ ایک سو ارب ڈالر کے غیر ملکی قرض تھے،پانچ سالوں میں برآمدات میں صفر فیصد اضافہ تھا۔ انہوںنے کہاکہ پٹرولیم مصنوعات کی مؤخر ادائیگی کیلئے ساڑھے چار ارب ڈالر کی سعودی عرب سے امداد حاصل کی۔

انہوںنے کہاکہ ہماری ٹیکس اور آمدن کی شرح 12 فیصد ہے،اس کو بہتر بنانا ہے۔ انہوںنے کہاکہ سول حکومت کے اخراجات کو 468 سے کم کر کے 431 ارب روپے کیا گیا۔ انہوںنے کہاکہ مسلح افواج نے رضاکارانہ طور پر اپنے بجٹ کو گزشتہ سال کی سطح پر منجمد کیا۔ حفیظ شیخ نے کہاکہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کر سکتا،انہوںنے کہاکہ دوسروں نے جو قرض لئے وہ بھی ادا کریں گے۔

انہوںنے کہاکہ قرض پر سود کی ادائیگی کیلئے 2900 ارب روپے رکھے گئے۔مشیر خزانہ نے دفاعی بجٹ سے متعلق بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلح افواج نے بجٹ کو گزشتہ سال کی سطح پر قبول کیا اور اس میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، یہ دنیا اور پاکستان کے لوگوں کے لیے ایک بہت اچھا پیغام ہے کہ کس طرح حکومت کے اخراجات کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

انہوںنے کہاکہ دفاعی شعبے کیلئے 1150 ارب روپے مختص کئے گئے۔حکومت کی سادگی مہم کا حوالہ دیتے ہونے انہوں نے کہا کہ پہلے حکومت نے اپنے اخراجات کو واضح طور پر کم کرکے لوگوں کیلئے مثال قائم کی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے اخراجات کم کرنے ہیں اور عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہم اخراجات کم کرنے میں سب سے آگے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پہلا یہ کہ مشکل سے گزرنے کے باوجود کمزور، غریب طبقے کے لوگوں تک پہنچنا چاہیے اور انہیں یہ احساس نہیں دلانا چاہیے کہ ہم انہیں بلا چکے ہیں اور اسی کیلئے ہم نے سماجی تحفظ کے موجودہ بجٹ کو 100 ارب سے بڑھا کر 191 ارب روپے تک لے گئے۔

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ کسی اور سے قربانی مانگنے سے قبل خود قربانی دینا ہوگی، اس کے لیے ہم نے کفایت شعاری دکھائی اور سول حکومت کے اخراجات کو واضح طور پر کم کرکے 468 ارب سے 431 ارب کردیا ہے اور مہنگائی کی وجہ سے بڑھنے والی قیمتوں کے باوجود ہم نے اسے کم کیا۔مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ مشکل حالات سے نمٹنا ضروری ہے اور اس کیلئے سیاست سے بالاتر ہوکر ملک مفاد کو سامنے رکھنا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے آنے سے پہلے 10 کروڑ ڈالر کے غیر ملکی قرضے لیے ہوئے تھے اور ان کی ادائیگی ڈالر میں ہی کرنا تھی جبکہ ڈالر کمانے کی صورتحال ایسی تھی کہ برآمدات کی ترقی صفر تھی اور تجارت کا فرق 40 ارب ڈالر کے قریب تھا۔مشیر خزانہ نے کہا کہ مجموعی طور پر معاشی صورتحال ایسی ہونے کے باوجود ہم نے چند چیزوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا جس میں 3، 4 ایسے شعبے ہیں یہاں اخراجات کم کرنے کے بجائے بڑھائے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے بجلی کی قیمتیں بڑھنے کی صورت میں کمزور طبقے کو تحفظ دینے کا فیصلہ کیا اور 300 یونٹس سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کے لیے سبسڈی رکھی، بجٹ میں اس مد میں 216 ارب روپے رکھے جارہے ہیں تاکہ چھوٹے صارفین کو بجلی کی قیمتیں بڑھنے کی تکلیف سے بچایا جائے۔جٹ میں ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے بتاتے ہوئے انہوںنے کہاکہ اس سے ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں اور انفرااسٹرکچر بنتا ہے، گزشتہ برس اس مد میں 550 ارب روپے خرچ ہوئے جبکہ اس سال 950 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ ڈیمز، کراچی، بلوچستان، سابق قبائلی علاقوں کے لیے بھی رقم رکھی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تیسرا شعبہ جہاں ہم نے توجہ مرکوز کی وہ غربت اور مسائل کا شکار علاقے خصوصی طور پر قبائلی اور بلوچستان کے کچھ علاقوں پر تھی، اس کے لیے فاٹا کے ضم علاقوں کو قومی دھارے میں لانے کیلئے ان اضلاع کے لیے 152 ارب روپے رکھے گئے ہیں تاکہ وہ پاکستانی معاشرے میں مکمل طور پر ضم ہوجائیں۔انہوںنے کہاکہ ملک میں برآمدات کرنے والوں پر زیرو ریٹنگ ہے یعنی برآمدی شعبے پر کوئی ٹیکس نہیں ہے اور یہ نظام میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی، تاہم برآمدات کے ساتھ اپنے ملک میں اشیا فروخت کرنے پر ٹیکس دینا ہوگا۔

مشیر خزانہ نے بتایا کہ برآمد کنندگان کو برآمدات بڑھانے کے لیے نئے مالی سال کے بجٹ میں مراعات دی گئیں، جبکہ حکومت کی جانب سے اندرونی خسارے پر قابو پانے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ یہ غلط تاثر ہے کہ برآمدی شعبے کے ٹیکس نظام میں کوئی چھیڑ چھاڑ کی گئی بلکہ ہم برآمد کنندگان کو مدد دینے کے لیے مزید اقدامات کر رہے ہیں، تاہم اس وقت ہمارے اندازے کے مطابق مقامی شعبے میں 1200 ارب روپے کی ٹیکسٹائل کی سیل ہورہی ہے لیکن ہمیں 6 سے 8 ارب روپے ٹیکس ملتا ہے جو ناقابل قبول ہے، اس ملک میں کاروبار کریں لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ 1200 ارب پر 6 یا 8 ارب کا ٹیکس دیں۔

عبدالحفیظ شیخ نے ڈالر کی قیمت سے متعلق بتایا کہ برآمدات میں واضح کمی آئی جس سے ڈالر کی قیمت بڑھی۔مشیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا، جس میں 3 سے 4 اہم چیزوں پر توجہ دی گئی، سب سے پہلا بیرونی قرضوں پر منظم حد تک قابو پانا ہے اور اس کے لیے 9 ارب 2 کروڑ ڈالر موبیلائزڈ کیے گئے، پیٹرولیم مصنوعات کے لیے تاخیری ادائیگیوں کا انتظام کیا گیا۔

اس کے علاوہ درآمدات پر اس طرح کی ڈیوٹی لگائی گئی اور برآمدی شعبے کو مراعات دی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں دوسری توجہ مالی خسارے پر تھی کہ یعنی آمدنی اور اخراجات میں توازن اور اس کے لیے ریونیو کا ہدف چیلنجنگ بنایا ہے۔انہوںنے کہاکہ ٹیکسٹائل کا شعبہ ملک میں 1200 ارب روپے کا کپڑا فروخت کرتا ہے جس پر صرف 6 ارب روپے کا ٹیکس دیا جاتا ہے،ٹیکس ریفنڈ کا نیا طریقہ کار اختیار کیا جا رہا ہے۔

انہوںنے کہاکہ سیلز ٹیکس ہر چیز کی قیمت فروخت پر وصول کیا جائیگا۔ انہوںنے کہاکہ ٹیکس ادا نہ کرنے والے افراد پر گاڑی یا مکان کی خریداری پر 45 دن کے بعد نوٹس جاری کیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ نوٹس میں آمدنی کا تعین اور جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ حفیظ شیخ نے کہاکہ حقائق اپ کے سامنے رکھ دئیے ،ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کے امیر لوگوں کو ملک سے سچا ہونا ہوگا، خطے کے امیر لوگ پاکستان کے امیر لوگوں سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ زیادہ ٹیکس اکھٹا کریں گے تو دیگر ممالک میں عزت ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ اگر بنگلہ دیش اور بھارت کر سکتا تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سابق حکومت نے آدھے پاکستان کو ٹیکس نیٹ سے نکال دیا۔ انہوںنے کہاکہ ٹیکس میں روبدل سے عوام زیادہ متاثر نہیں ہوں گے ۔انہوںنے کہاکہ سوئس کمپنی کا پانی پینے والوں کو کچھ ٹیکس ادا کرنا چاہیے۔

انہوںنے کہاکہ آئندہ مالی سال کے ٹیکس ہدف کو پورا کرنے کیلئے 1400 ارب روپے اضافی حاصل کرنا ہوں گے۔ انہوںنے کہاکہ اگر یہ حکومت قرض لے کر درست استعمال نہ کرے تو اس کا احتساب ہو سکتا ہے۔ چیئر مین ایف بی آر شبر زیدی نے کہاکہ روایتی طریقہ کار کی بجائے مختلف شعبوں کو الگ دیکھا ہے ،شعبے وار ٹیکس جمع کرنے کو بہتر کرنے سے ہدف حاصل ہو جائیگا۔

وفاقی وزیر عمر ایوب نے کہاکہ حکومت نے 152 ارب روپے فاٹا کی ترقی کیلئے رکھا،یہ دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ کر کے حاصل کیا گیا۔ انہوںنے کہاکہ ملک کے کئی دشمن ہیں ،فاٹا میں ترقی سے ملک مضبوط ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ میں بطور پختون وزیراعظم اور آرمی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔حفیظ شیخ نے کہاکہ آئی ایم ایف کے اسٹاف لیول معاہدہ ہو چکا،آئی ایم ایف کا بورڈ جلد پاکستان کی درخواست پر غور کرے گا۔

حماد اظہر نے کہاکہ سابق حکومت نے نان فائلر کو قانونی حیثیت دی ،ہم نے اس کو ختم کر دیا ۔حماد اظہر نے کہاکہ نان فائلر کو اب قانون کی گرفت میں لایا جائیگا۔حفیظ شیخ نے کہا کہ معاشی اہداف کے حصول کے لیے کچھ لوگوں کو ناراض کرنا ہوا تو تیار ہیں،ہمیں سیاست سے بالا تر ہوکر ملکی مفاد کو دیکھنا ہوگا۔
بجٹ 20-2019ء سے متعلق تازہ ترین معلومات