Live Updates

فوجی بجٹ میں کمی خوش آئند مگر ناقابل قبول ہے: میاں زاہد حسین

خارجی اور داخلی محاذ پر چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے، فوجی بجٹ بڑھایا جائے، ٹیکس مراعات اورناکام سرکاری کمپنیوں کے اخراجات فوج سے دگنے ہیں، فوج جان دے کرملک کا دفاع جبکہ سرکاری ادارے کرپشن کا دفاع کر تے ہیں

بدھ جون 17:55

فوجی بجٹ میں کمی خوش آئند مگر ناقابل قبول ہے: میاں زاہد حسین
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2019ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ فوجی بجٹ میں کمی خوش آئند مگر ناقابل قبول ہے۔سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے حکومت کی مالی مشکلات دیکھتے ہوئے فوجی بجٹ میں کمی کا فیصلہ کیا ہے جو انتہائی خوش آئند ہے ۔

فوج کی یہ کاوش حب الوطنی اورعوام دوستی کی روشن مثال ہے ۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ خارجی اور داخلی محاذ پر چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے، پڑوسی ملک میں جنونی حکومت آ گئی ہے، امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کسی بھی وقت بڑھ سکتی ہے، افغانستان کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں جبکہ وزیرستان میں صورتحال دوبارہ تشویشناک ہو گئی ہے۔

(جاری ہے)

ان حالات میں فوجی بجٹ میں کمی نہیں بلکہ اضافے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ فی فوجی دنیا میں سب سے کم یعنی صرف 13513 ڈالرسا لانہ خرچ کرنے والی پاک فوج اس وقت متعدد ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کی سازشوں کا کامیابی سے مقابلہ کر رہی ہے۔اس بجٹ میں سات لاکھ فوجیوں کی تنخواہ، دنیا کی بہترین انٹیلیجنس ایجنسی کے آپریشن، دنیا کا پانچواں بڑا ایٹمی پروگرام ، میزائل پروگرام، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ، سیلاب، زلزلہ، قدرتی آفات سے نمٹنا، پولیو پروگرام چلانا اور بہت کچھ کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جتنا بجٹ فوج کا ہے اتنا تو نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نا اہل انتظامیہ اور کام چور ملازمین کھا جاتے ہیں۔فوج جان کی قربانی دے کر ملک و قوم کا دفاع کرتی ہے جبکہ سویلین سرکاری ادارے کرپشن کا دفاع ہی کرتے رہتے ہیں اس لئے دونوں میں کوئی مقابلہ نہیں ممکن ہی نہیں۔ مختلف شعبوں کو بھی فوجی بجٹ سے کچھ کم ٹیکس مراعات دی جا رہی ہیں جس کے وہ اہل نہیں ہیں۔

ناکام سرکاری ادارے یا ٹیکس مراعات حاصل کرنے والے شعبے ملکی دفاع سے زیادہ اہم نہیں ہیں۔ سفید ہاتھی بننے والے اداروں کے بجٹ میں کٹوتی کرکے فوج کے بجٹ میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ فوج کے بعد بعض سیاستدانوں نے بھی اپنے بجٹ میں دس فیصد کمی کی ہے جو کم ہے ان کو دی جانے والی سبسڈی ختم اور تنخواہوں و مراعات میں از خود اضافہ کا اختیار بھی ختم کیا جائے۔
بجٹ 20-2019ء سے متعلق تازہ ترین معلومات