امریکا کی مخالفت کے باوجود ہم روسی ساختہ طیارہ شکن میزائل سسٹم حا صل کرینگے، صدر اردوان

جمعرات جون 14:21

امریکا کی مخالفت کے باوجود ہم روسی ساختہ طیارہ شکن میزائل سسٹم حا صل ..
انقرہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 جون2019ء) ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے امریکا کی مخالفت کے باوجود وہ اپنے دفاع کے لئے روسی ساختہ طیارہ شکن میزائل سسٹم حا صل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ میرا ملک ایس۔400 میزائل نظام کے حصول کے معاہدے کی لیے مکمل طور پر 'پرعزم' ہے۔ہمیں یہ سسٹم آئندہ ما ہ تک حا صل ہو جائے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے امریکی میزائل نظام پیٹریاٹ پر ہمیں امریکا سے کوئی مثبت پیش کش نہیں کی گئی تھی جس طرح سے ہمیں روس سے ایس۔

400 میزائل پر کی گئی۔روس کے ریاستی دفاعی تنظیم کے سربراہ رستیک، سرجئی کیممیف نے تصدیق کی تھی کہ روس دو ماہ میں ترکی کو ایس ۔400 میزائل نظام کی ترسیل شروع کر دے گا.امریکہ اس سسٹم کی مخالفت کر رہا ہے جسے وہ اپنے طیاروں کے لیے خطرہ سمجھتا ہے امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ترکی ایک ہی وقت میں امریکا سے جدید ایف۔

(جاری ہے)

35 لڑاکا طیارے اور روس سے ایس۔ 400 طیارہ شکن میزائل سسٹم نہیں خرید سکتا تاہم صدر اردگان کا کہنا ہے کہ ترکی ہر اس شخص سے باز پرس کرے گا جس نے ترکی کو ایف 35 پروگرام سے بیدخل کیا صدر اردگان نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ جون کے اختتام پر ان کی صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقات سے قبل وہ فون ڈپلومیسی کے ذریعے اس معاملے کو حل کر لیں گے۔

؂صدر اردگان کے اس اعلان سے قبل امریکہ نے ترکی کو جولائی کے آخر تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ فیصلہ کرے کہ آیا وہ امریکہ سے جنگی جہاز خریدے گا یا روس سے طیارہ شکن میزائل سسٹم۔ترکی کو یہ الٹی میٹم امریکہ کے قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شانہان نے ترکی کے وزیر دفاع ہلوسی اکار کو ایک خط کے ذریعے دیا تھا۔