سندھ میں جنگلات کی ایک لاکھ 80 ہزار 134 ایکڑ زمین پر با اثر افراد کے قبضے کا انکشاف

جنگلات کی زمینوں پر قبضے کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروادی گئی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات جون 14:40

سندھ میں جنگلات کی ایک لاکھ 80 ہزار 134 ایکڑ زمین پر با اثر افراد کے قبضے ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔13 جون۔2019ء) سندھ میں زمینوں پر قبضے کی مفصل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ہے جس میں سندھ کے جنگلات کی ایک لاکھ 80 ہزار 134 ایکڑ زمین پر با اثر افراد کے قبضے کا انکشاف ہوا ہے . ذرائع کے مطابق چیف فاریسٹ کنزرویٹو آفیسر نے رپورٹ تیار کی ہے‘رپورٹ کے مطابق سندھ کی 8 لاکھ 86 ہزار 840 ایکڑ زمین اور 6 فاریسٹ سرکل کی 7 لاکھ 6 ہزار 703 ایکڑ اراضی محکمہ جنگلات کے پاس ہے.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خیر پور فاریسٹ سرکل میں 1 لاکھ 55 ہزار 890ایکڑ جنگلات کی زمین ہے، جس میں سے 35 ہزار 761 ایکڑ زمین پر قبضہ ہے.

(جاری ہے)

لاڑکانہ سرکل میں 80 ہزار 573 ایکڑ محکمہ جنگلات کی زمین ہے، جس میں سے 17 ہزار 1 سو 81 ایکڑ زمین پر قبضہ ہے‘سکھر فاریسٹ سرکل میں 1 لاکھ 52 ہزار 258ایکڑ محکمہ جنگلات کی زمین میں سے 51 ہزار 925 ایکڑ زمین پر قبضہ ہے. ٹھٹھہ سرکل میں 1 لاکھ91 ہزار 9 سو 98 ایکڑ محکمہ جنگلات کی زمین سے 23ہزار557 ایکڑ زمین قبضے میں ہے‘بے نظیر آباد (نوابشاہ) میں 94 ہزار 3 سو 61 ایکڑ زمین محکمہ جنگلات کی ہے، جس میں سے 36 ہزار 3سو 12 ایکڑ زمین پر قبضہ ہے.

حیدر آباد کی 2 لاکھ 11 ہزار 759 ایکڑ اراضی محکمہ جنگلات کی ہے، جس میں سے 15 ہزار 397 ایکڑ زمین پر قبضہ ہے‘رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے 20 مارچ کے حکم کے بعد 2 لاکھ 2 ہزار368 ایکڑ زمین قابضین سے واگزار کرائی گئی ہے. چیف کنزرویٹو آفیسر نے رپورٹ میں سندھ حکومت کی عدالتی حکم کی خلاف ورزی کا حوالہ دیا‘20 فروری کو عدالت نے چیف کنزرویٹو آفیسر کو سہولتیں فراہم کرنے کا حکم دیا تھا‘پورٹ میں جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت نے عدالتی حکم عدولی کر کے فنڈز اور سہولتیں فراہم نہیں کیں. رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ زمینوں کے بورڈ آف ریونیو سے مل کر جعلی الاٹمنٹ کے کاغذات بنائے گئے،اس اراضی کو رینجرز او ردیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مل کرخالی کرایا جا سکتا ہے.