Live Updates

13 کھرب روپے حجم اور 60ارب روپے خسارے کا بجٹ کل سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا

سید مراد علی شاہ بجٹ پیش کریں گے‘بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس لگانے کی تجویزشامل نہیں. ذرائع سندھ حکومت

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات جون 14:50

13 کھرب روپے حجم اور 60ارب روپے خسارے کا بجٹ کل سندھ اسمبلی میں پیش کیا ..
کراچی (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔13 جون۔2019ء) 13 کھرب روپے پرمشتمل صوبائی بجٹ کل جمعہ کے روز سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گاسندھ بجٹ 60 ارب روپے خسارے پرمشتمل ہوگا. حکومت سندھ نے نئے مالی سال 2019-20 کیلئے 13 کھرب روپے کے لگ بھگ بجٹ اخراجات کا میزانیہ تیارکرلیا ہے‘سندھ کابینہ کل 14جون کووزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ کی زیرصدارت اجلاس میں بجٹ تجاویز کی حتمی منظوری دے گی.

اسی روز وزیراعلیٰ سندھ جو وزیرخزانہ بھی ہیں،سہ پہر3بجے بجٹ پیش کریں گے،13کھرب روپے پرمشتمل سندھ بجٹ 60 ارب روپے خسارے پرمشتمل ہوگا تاہم پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پرسندھ حکومت ٹیکس فری بجٹ پیش کرے گی.

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق بجٹ میں کوئی بھی نیا ٹیکس لگانے کی تجویز شامل نہیں کی گئی ہے‘بلاول بھٹو نے وزیراعلی کوہدایت کی ہے کہ بجٹ 2019-20 ٹیکس فری،فلاح و بہبود پر مشتمل ایک عوامی بجٹ بجٹ پیش کیا جائے.

ذرائع کے مطابق، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صوبائی ترقیاتی پروگرام کیلئے2 کھرب 60 ارب روپے سے2کھرب 90 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے. ضلعی ترقیاتی پروگرام کیلئے 35ارب روپے جبکہ 50 ارب روپے حکومت کی نئی اسکیموں کیلئے مختص کئے جائیں گے. امن وامان کیلئے 105 ارب روپے بلدیاتی حکومتوں کیلئے72 ارب روپے،کراچی شہر میں شاہراہوں،پلوں، فلائی اوورزاورانڈرپاسزکی تعمیرکیلئے20 سے30ارےروپے رکھنے کافیصلہ کیا گیا.

سندھ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اورپینشن میں 15سے 20 فیصد اضافے کا اعلان کیا جاسکتا ہے‘سندھ پولیس،ریونیو سمیت دیگر محکموں میں 20 ہزار نئی ملازمین بھرتی کرنے اوران کی تنخواہوں کے لیے بجٹ مختص کرنے کا اعلان بھی متوقع ہے. سندھ بجٹ میں بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام شروع کرنے، کسان کارڈ متعارف کرانے سمیت دیگرعوامی فلاح وبہبود کی مختلف اسکیموں کا بھی اعلان ہوگا.

ذرائع کے مطابق تعلیم کے شعبہ میں غیر ترقیاتی بجٹ کو 188.70 ارب روپے سے بڑھا کر آئندہ مالی سال کیلئے 205.739 ارب روپے کردیا جائے گا‘محکمہ آبپاشی کیلئے 30 ارب، زراعت کیلئے 7، ارب، محکمہ اوقاف کیلئے 42 کروڑ 50لاکھ روپے ، لا اینڈ پارلیمانی امور کیلئے سوا 2 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے. لائیواسٹاک اینڈ فشری کیلئے ڈھائی ارب روپے سے زائد ہے،محکمہ اقلیتی امور کے لئے ڈیڑھ ارب روپے سے زائداورسندھ اسمبلی کیلئے 2ارب روپے سے زائد مختص کئے جائیں گے.
بجٹ 20-2019ء سے متعلق تازہ ترین معلومات