قومی اسمبلی سے بجٹ پاس نہ ہوا تو وفاقی حکومت کے عدم اعتماد تصور ہوگا ،لطیف کھوسہ

عدم اعتماد کی صورت میں حکومت کو گھر جانا ہوگا ، اپوزیشن اپنی حکومت بنائے گی یا پھر مڈ ٹرم الیکشن ہونگے،میڈیا سے گفتگو

پیر جون 22:21

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 17 جون2019ء) پیپلزپارٹی کے رہنما لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی سے بجٹ پاس نہ ہوا تو وفاقی حکومت کے عدم اعتماد تصور ہوگا ،پھر حکومت کو گھر جانا ہوگا سندھ ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لطیف کھوسہ نے کہا کہ تحریک انصاف کے اتحادی بھی ان کے رویے سے ناراض ہیں، اگر قومی اسمبلی سے بجٹ پاس نہ ہوا تو تحریک انصاف کی حکومت کو گھر جانا ہوگا، پھر اپوزیشن اپنی حکومت بنائے گی یا پھر مڈ ٹرم الیکشن ہونگے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے لیے بجٹ پاس کرانا زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، مجھے نہیں لگتا وفاقی حکومت بجٹ پاس کرا پائے گی، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے اپنے اتحادیوں سے وعدے پورے نہیں کیے، ق لیگ سے وعدے کے باجود مونس الہی کو وزیر نہیں بنایا،اپنے وزرا بھی تحریک انصاف سے ناراض ہیں، لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ بجٹ پر یا تو حکومت بلیک میل ہوگی یا پھر اتحادیوں کے تمام مطالبات مانے گی، لطیف کھوسہ ن لیگ پر بھی برس پڑے کہا کہ ن لیگ پر اعتماد نہیں قومی مفاد میں کڑوا گھونٹ پی رہے ہیں، : سب سے زیادہ پیپلزپارٹی پنجاب کی قیادت کو ن لیگ پر تحفظات ہیں، پیپلزپارٹی پنجاب کی قیادت براہ راست ن لیگ کے 30،40 سال تسلط میں رہی ہے، ن لیگ نے چارٹر آف ڈیموکریسی پورا نہیں اتری، مارشل لا کے زمانے میں آئین میں شامل کی گئی شقوں کے خاتمے کے لیے ن لیگ نے ہمارا ساتھ نہیں دیا، : نیب قوانین کے خاتمے کے لیے ن لیگ سے تعاون مانگا لیکن انہوں نے ساتھ نہیں دیا، مسلم لیگ ن اب خود ان سب چیزوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے، نواز شریف خود اسی وجہ سے نا اہل ہوئے، انہوں نے کہا کہ نیب ذدہ لوگوں کو نیب زادے بنا دیا گیا، تحریک انصاف نے ملک کی معیشت کا بیڑا غرق کرکے آئی ایم ایف کے تابے کردیا ہے، ملک میں مہنگائی کا طوفان ہے، تنخواہ دار طبقہ فاقوں پر مجبور ہے، پیپلزپارٹی نے سمجھا عمران خان زیادہ دیر تک رہا تو ملک کو مزید تباہی کی طرف دھکیل دے گا، اختلافات کے باجود ن لیگ کے ساتھ گئے، : تحریک شروع ہوتے ہی لوگ خود سڑکوں پر آئیں گے، عنقریب ان کو جیلوں میں دیکھیں گے، وزیر اعلی سندھ کی گرفتاری سے نہیں ڈرتے، : ہمیں اپنے خلاف کیسوں کی کوئی فکر نہیں، : پہلے بھی 20 کیسز بھگتے ہیں اور آصف زرداری 11 سال جیل میں رہے،ملک میں اس وقت دوہرا معیار ہورہا ہے کہیں سزا سے پہلے تو کہیں سزا کھ بعد لوگوں کو گرفتار کیا جارہا ہے، لطیف کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ پہلے بھی سندھ میں گورنر راج لگانے کی باتیں ہورہیں تھی، سپریم کورٹ نے کہا تھا اگر گورنر راج لگایا تو ایک دن میں اڑا کردیں گے، سندھ میں گورنر راج لگانا آسان نہیں، سندھ میں گورنر راج لگا کر حکومت کو ختم نہیں کیا جاسکتا ، تحریک انصاف کی حکومت ڈیکٹیٹر شپ کا مزاج رکھتی ہے، چیرمین نیب کو اس وقت کمزور کردیا گیا ہے، پہلے سیف الرحمن آصف زرداری کے پاوں پڑا تھا اب بہت سے لوگ ان کے پاوں پڑیں گے،